نوجوانوں کی تربیت سے انقلاب برپا کرسکتے : مصنوعی ذہانت پر 1 ارب ڈالر سرمایہ کاری کرینگے : شہباز شریف
وفاقی تعلیمی اداروں، آزاد کشمیر، گلگت بلتستان ،بلوچستان میں اے آئی نصاب ، ایک ہزار مکمل فنڈڈ پی ایچ ڈی سکالرشپس دینگے
اسلام آباد (نیوز رپورٹر،نیوز ایجنسیاں، مانیٹرنگ ڈیسک)وزیراعظم شہباز شریف نے کہا 2030 تک مصنوعی ذہانت کے شعبے میں ایک ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی جائے گی،نوجوانوں کو اے آئی کی تربیت دے کر زراعت سمیت ہر شعبے میں انقلاب برپا کیا جاسکتا،مصنوعی ذہانت مستقبل کا خواب نہیں بلکہ قومی ترقی کی بنیاد ہے ،پاکستان اب مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے شعبے میں عالمی سطح پر قدم رکھنے کے لیے تیار ہے ،پاکستان عالمی اے آئی انقلاب کا محض تماشائی نہیں بلکہ خطے میں قائدانہ کردار ادا کرے گا۔وزیراعظم نے انڈس اے آئی ویک 2026 کا افتتاح کردیا۔ وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونی کیشن کے زیرِ اہتمام انڈس آرٹیفیشل انٹیلی جنس(اے آئی) کانفرنس میں گورنر سندھ کے علاوہ وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال ،وفاقی وزیر برائے آئی ٹی شزا فاطمہ وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ، عالمی ماہرین، پالیسی سازوں اور ٹیکنالوجی انڈسٹری کے رہنماؤں کی بڑی تعداد نے شرکت کی، کانفرنس میں پاکستان کے لیے مصنوعی ذہانت (AI) کی قومی سمت اور حکمتِ عملی کا واضح تعین کیا گیا۔
شہباز شریف نے اپنے خطاب میں کہا کہ انڈس اے آئی ویک ایونٹ ملک کے ٹیکنالوجی کے منظرنامے کو بدل دے گا، یہ ایونٹ عالمی سطح پر پاکستان کو ایک مضبوط پارٹنر کے طور پر سامنے لائے گا۔مصنوعی ذہانت مستقبل کا خواب نہیں بلکہ قومی ترقی کی بنیاد ہے ،پاکستان عالمی اے آئی انقلاب کا محض تماشائی نہیں بلکہ خطے میں قائدانہ کردار ادا کرے گا۔ اخلاقی اصولوں کے تحت اے آئی کے فروغ سے نوجوانوں کے لیے روزگار، معیشت کے لیے استحکام اور ریاست کے لیے ٹیکنالوجی پر مبنی مضبوط مستقبل ممکن ہوگا۔انہوں نے اعلان کیا کہ حکومت پاکستان 2030 تک مصنوعی ذہانت کے شعبے میں ایک ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گی، جس سے سوورن کمپیوٹنگ انفراسٹرکچر اور تحقیق کو فروغ دیا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ وفاقی تعلیمی اداروں، آزاد کشمیر، گلگت بلتستان اور بلوچستان کے دور دراز علاقوں میں اے آئی نصاب متعارف کرایا جائے گا۔ اس کے علاوہ 2030 تک اے آئی میں ایک ہزار مکمل فنڈڈ پی ایچ ڈی سکالرشپس اور 10 لاکھ نان آئی ٹی پروفیشنلز کو اے آئی سکلز کی تربیت دینے کا اعلان بھی کیا گیا۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کی آبادی کا 60 فیصد حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے جنہیں جدید علم اور مہارتوں سے آراستہ کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے ، پاکستان اب مصنوعی ذہانت (اے آئی)کے شعبے میں عالمی سطح پر قدم رکھنے کے لیے تیار ہے ۔ شزا فاطمہ خواجہ نے کہا کہ وفاقی حکومت میں ای آفس کا مکمل نفاذ اور ہائی پرفارمنس کمپیوٹنگ کے بنیادی ڈھانچے پر کام جاری ہے ۔ پاکستان پالیسی سازی سے آگے بڑھ کر عملی نفاذ اور عالمی شراکت داریوں کے ذریعے خود کو ایک معتبر عالمی ٹیکنالوجی حب کے طور پر منوانا چاہتا ہے ۔ کانفرنس میں اسلام آباد ڈیکلریشن کا اعلان کیاگیا، جس میں سوورن اے آئی اور آرٹیفیشل جنرل انٹیلی جنس (اے جی آئی )کے لیے پاکستان کے بنیادی اصول اور ترجیحات طے کی گئیں۔ ڈیکلریشن کے مطابق اے آئی کی ترقی کو قومی مفاد، شفافیت، ڈیٹا تحفظ، انسانی نگرانی، ذمہ دارانہ اختراع اور نجی شعبے کی قیادت سے ہم آہنگ کیا جائے گا۔کانفرنس میں ترکیہ، متحدہ عرب امارات، کینیڈا، چین اور دیگر ممالک کے ماہرین نے خطاب کیا۔