معاشی حالات بہتر، مہنگائی 5 سے 7 فیصد تک متوقع، کم ٹیکس وصولیاں اور عالمی حالات چیلنج : سٹیٹ بینک
کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ جی ڈی پی کے مقابلے میں صفر سے ایک فیصد کے درمیان محدود رہ سکتا، جی ڈی پی نمو پونے 5 فیصد رہنے کی توقع ذخائر 18 ارب ڈالرتک پہنچ سکتے ،معیشت کو پائیدار بنیادوں پر مستحکم کرنے کیلئے ساختی اصلاحات ناگزیر،ششماہی مانیٹری پالیسی رپورٹ
کراچی(بزنس رپورٹر)اسٹیٹ بینک نے ششماہی مانیٹری پالیسی رپورٹ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ مانیٹری پالیسی کمیٹی کے محتاط اور متوازن رویے کے باعث مجموعی معاشی حالات میں بہتری آئی ہے اور آئندہ عرصے میں استحکام کا یہ سلسلہ برقرار رہنے کی توقع ہے ۔ رپورٹ کے مطابق رواں مالی سال مہنگائی کی شرح 5 سے 7 فیصد کے ہدفی دائرے میں رہ سکتی ہے، اگرچہ قلیل مدت میں کچھ اتار چڑھاؤ کا امکان موجود رہے گا۔ اسٹیٹ بینک کا کہنا ہے کہ مالیاتی نظم و ضبط اور پالیسی اقدامات نے قیمتوں کے دباؤ کو قابو میں رکھنے میں اہم کردار ادا کیا ہے ۔بیرونی کھاتوں کے حوالے سے مرکزی بینک نے پیشگوئی کی ہے کہ مالی سال 26 میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ جی ڈی پی کے مقابلے میں صفر سے ایک فیصد کے درمیان محدود رہ سکتا ہے۔ بڑھتے ہوئے تجارتی خسارے کو بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی ترسیلات زر اور سرکاری ذرائع سے متوقع رقوم کسی حد تک متوازن کرسکتی ہیں۔
اسٹیٹ بینک نے امید ظاہر کی ہے کہ زرمبادلہ ذخائر جون تک بڑھ کر18ارب ڈالر تک پہنچ سکتے ہیں جبکہ اگلے مالی سال میں ان میں مزید بہتری کا امکان ہے ۔ معاشی سرگرمیوں میں اضافے کی نشاندہی کرتے ہوئے رپورٹ میں حقیقی جی ڈی پی کی شرح نمو کا تخمینہ 3.75 سے 4.75 فیصد کے درمیان لگایا گیا ہے ۔ مالی حالات میں بہتری اور نظام میں لیکویڈٹی بڑھانے کیلئے کیش ریزرو ریکوائرمنٹ کو 5 فیصد تک کم کیا گیا۔ اسٹیٹ بینک کے مطابق جون 2024 سے پالیسی ریٹ میں ہونے والی مسلسل کمی کے اثرات بتدریج معیشت میں منتقل ہورہے ہیں، جس سے پیداواری شعبے کی کارکردگی بہتر ہوئی ہے ، تاہم مرکزی بینک نے خبردار کیا کہ عالمی سطح پر ٹیرف سے متعلق غیر یقینی صورتحال اور اجناس کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے خدشات اب بھی موجود ہیں۔
اندرون ملک ٹیکس وصولیوں کا ہدف سے کم رہنا اور موسمیاتی تبدیلیوں سے پیدا ہونے والے خطرات بھی مہنگائی، بیرونی کھاتوں اور شرح نمو کیلئے چیلنج بن سکتے ہیں۔سٹیٹ بینک نے زور دیا ہے کہ معیشت کو پائیدار بنیادوں پر مستحکم کرنے کیلئے ساختی اصلاحات ناگزیر ہیں خاص طور پر سرکاری اداروں کے نقصانات کو کم کرنا، پیداواری صلاحیت بڑھانااور نجی شعبے کے اعتماد کو مضبوط بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے ۔