پارلیمنٹ میں دہشتگردی پر رسمی بحث ،متفقہ حکمت عملی نہ بن سکی
وزیرِ دفاع کی تقریر میں صاف گوئی نظر آئی ، عمران اور خواجہ کے مؤقف میں یکسانیت ارکان کو طالبان کی دھمکیوں کا انکشاف، وفاق کافاٹا کا انتظام سنبھالنے کی خواہش کا اظہار
اسلام آباد (سہیل خان)پارلیمنٹ میں دہشت گردی کے معاملے پر ایک بار پھر جوشِ خطابت کے ساتھ بحث ہوئی تاہم رسمی تقاریر کے باوجود کوئی واضح اور قابلِ عمل حکمتِ عملی سامنے نہ آ سکی۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ سے متعلق اعتراضات پر عمران خان اور خواجہ آصف کے مؤقف میں یکسانیت نے کئی ارکان کو حیران کر دیا۔بحث کے دوران انکشاف ہوا کہ طالبان کی جانب سے ارکانِ پارلیمنٹ کو دھمکیاں موصول ہو رہی ہیں، جبکہ وفاق کی جانب سے فاٹا کا انتظام سنبھالنے کی خواہش کا بھی اظہار کیا گیا۔
اپوزیشن لیڈرز، بشمول وزیرِ دفاع، نے کسی حد تک کڑوے حقائق بیان کیے ، مگر اس کے باوجود مسئلے کے حل کے لیے کوئی ٹھوس لائحہ عمل پیش نہ کیا جا سکا۔پی ٹی آئی حکومت کی طرح موجودہ حکومت کی جانب سے بھی یہ مؤقف دہرایا گیا کہ دہشت گردی کی جنگ پاکستان کی نہیں تھی بلکہ امریکا کے ساتھ شراکت داری کا نتیجہ تھی۔ وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے سخت الفاظ استعمال کیے تاہم ایک طرف پارلیمنٹ سے مدد کی اپیل کی جاتی رہی اور دوسری طرف پارلیمنٹ کا کردار محض قراردادوں کی منظوری تک محدود دکھائی دیا۔واضح حکمتِ عملی نہ ہونے پر پارلیمانی راہداریوں میں سخت تبصرے سننے کو ملے ۔ اسلام آباد سے رکنِ قومی اسمبلی راجہ خرم شہزاد کے انتباہ کو سنجیدہ قرار دیا گیا جنہوں نے پاک افغان سرحد پر باڑ کی حیثیت پر بھی سوالات اٹھائے۔
وزیرِ دفاع کی تقریر میں کسی حد تک صاف گوئی نظر آئی تاہم مشترکہ اجلاس یا کل جماعتی کانفرنس بلانے کے حوالے سے کوئی پیش رفت سامنے نہ آ سکی۔ یہ سوال بھی اٹھایا گیا کہ مشترکہ اجلاس میں اداروں کی جانب سے نتیجہ خیز بریفنگ کا اہتمام کیوں نہیں کیا جاتا۔ متعلقہ سیاسی جماعتوں، بالخصوص پی ٹی آئی اور مذہبی جماعتوں کی جانب سے دوٹوک مؤقف سامنے نہیں آ سکا۔اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے انسدادِ دہشت گردی کے معاملے پر سچائی کمیشن کے قیام اور پارلیمنٹ کے خفیہ مشترکہ اجلاس کے مطالبے پر توجہ دینے پر زور دیا۔ ادھر وفاق نے قبائلی اضلاع کا انتظام خود سنبھالنے کی پیش کش کرتے ہوئے دبے الفاظ میں 28ویں آئینی ترمیم کی منظوری کی تجویز بھی دے دی۔