ترقیاتی بجٹ نہ بڑھایا تو ایک نیا گردشی قرضہ جنم لے سکتا : وزیر منصوبہ بندی
منصوبوں پر جی ڈی پی کا 2.5فیصد تک خرچ کرناچاہیے ،6ماہ میں جی ڈی پی گروتھ 3.7، مہنگائی 5.2فیصد رہی ترسیلات زر 19ارب ڈالر ہوگئیں،جولائی تا دسمبر سود ادائیگیوں پر 3ہزار 563ارب خرچ ہوئے ، فسکل رپورٹ
اسلام آباد(مدثرعلی رانا)ترقیاتی بجٹ نہ بڑھانے سے منصوبوں کی لاگت کا ایک اور گردشی قرضہ پیدا ہونے کا خدشہ ہے ، وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال نے کہا کہ سالانہ ایک ہزار ارب روپے ترقیاتی بجٹ کی مد میں خرچ کرنا کم ہے جبکہ ترقیاتی منصوبوں پر جی ڈی پی کا 2.5 فیصد تک خرچ کیا جانا چاہیے ورنہ منصوبوں کی لاگت اتنی بڑھ جائے گی کہ ایک نیا گردشی قرضہ جنم لے سکتا ہے ۔وزارت منصوبہ بندی کی ترقیاتی آؤٹ لُک کے مطابق جولائی سے دسمبر جی ڈی پی گروتھ 3.7 فیصد، مہنگائی 5.2 فیصد اور لارج سکیل مینوفیکچررنگ کی گروتھ 7 فیصد رہی، ترسیلات زر گزشتہ مالی سال کی نسبت 10.6 بڑھ کر 19 ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہیں ۔چینی پاور پلانٹس کی جانب سے بھاری کپیسٹی پیمنٹس وصول کرنے کا دفاع کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ چین نے اس وقت پاکستان کے پاور سیکٹر میں آٹھ ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کیلئے سرمایہ کاری کی جب کوئی ایک روپیہ لگانے کو تیار نہیں تھا۔
ماہانہ ترقیاتی اپ ڈیٹ کے اجرا پر گفتگو کرتے ہوئے احسن اقبال نے کہا کہ اس وقت چین کے ساتھ طے پانے والے خودمختار معاہدوں میں ترمیم کا مطالبہ کرنے کا کوئی جواز نہیں کیونکہ اب بجلی کی پیداوار میں سرپلس موجود ہے مگر استعمال نہیں ہو پا رہا۔ اگر ایسے حالات میں معاہدے تبدیل کرنے کی کوشش کی گئی تو کوئی سرمایہ کار ہمارے خودمختار وعدوں پر اعتماد نہیں کرے گا۔ ایک سوال کے جواب میں وزیر منصوبہ بندی نے کہا کہ سی پیک کے تحت لگنے والے چینی پاور پلانٹس کیلئے سالانہ 1.9 ٹریلین روپے کی ادائیگی میں سے تقریباً 1 ٹریلین روپے کپیسٹی چارجز کی مد میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب ملک میں ہر گھنٹے لوڈشیڈنگ ہو رہی تھی اور کوئی سرمایہ کاری کو تیار نہیں تھا تب انہی معاہدوں کے تحت سرمایہ کاری آئی بعد ازاں ملک ایک نااہل حکومت کے حوالے کر دیا گیا جس سے معاشی نمو متاثر ہوئی اور بجلی کی طلب میں بگاڑ پیدا ہوا ۔احسن اقبال نے کہا کہ پاکستان کرپشن فری ملک نہیں مگر پاکستانی عام لوگ ہیں اور دیگر ممالک کے لوگوں سے زیادہ کرپٹ نہیں۔
یہ سوال بھی اٹھایا کہ کیا پاکستانی بھارتیوں سے زیادہ چور ہیں ان کے بقول اس بات میں کوئی صداقت نہیں ۔نیب چیئرمین کی جانب سے وزیراعظم کو 6 ٹریلین روپے کی ریکوری سے متعلق رپورٹ دینے کے سوال پر وزیر منصوبہ بندی نے کہا کہ کرپشن کے بارے میں پاکستان کے حوالے سے تاثر کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا ۔ وفاقی وزیر نے بتایا کہ مختلف وزارتوں اور ڈویژنز نے موجودہ مالی سال کے لیے پی ایس ڈی پی میں مختص رقم سے پانچ سو ارب روپے اضافی فنڈز کا مطالبہ کیا ہے ۔ اگر یہ فراہم نہ کیے گئے تو جاری منصوبوں کی تکمیلی لاگت میں اضافہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ بھاشا ڈیم کے لیے 1 سو 20 ارب روپے کی ضرورت تھی مگر صرف بیس ارب روپے مختص کیے گئے ۔ پانی کے شعبے کے لیے بھی فنڈز ناکافی ہیں۔ این ایچ اے کے منصوبے انڈر فنڈڈ ہیں جبکہ ایچ ای سی کی الاٹمنٹ بھی مطلوبہ سطح تک نہیں۔ احسن اقبال نے خبردار کیا کہ ترقیاتی اخراجات میں کمی سے مستقبل میں ایک اور سرکلر ڈیٹ جنم لے سکتی ہے ۔ ترقی اور جی ڈی پی کا تناسب آئندہ برسوں میں دو اعشاریہ پانچ سے دو اعشاریہ سات فیصد تک لے جانا ہوگا ۔
وزارت خزانہ کی فسکل آپریشن رپورٹ کیمطابق رواں مالی سال جولائی سے دسمبر کے دوران حکومتی اخراجات 10 ہزار 141 ارب روپے ریکارڈ ہوئے ۔ پہلی سہ ماہی کی نسبت دوسری سہ ماہی میں اخراجات میں 6 ہزار 61 ارب روپے اضافہ ہوا۔ جولائی سے ستمبر بجٹ بیلنس 2 ہزار 119 ارب سے کم ہو کر 541 ارب روپے ریکارڈ کیا گیا ۔جولائی سے دسمبر کے دوران پرائمری بیلنس 4 ہزار 105 ارب روپے سرپلس رہا، جولائی سے دسمبر تک حکومتی مجموعی آمدن 10 ہزار 683 ارب روپے رہی ، وزارت خزانہ کی رپورٹ میں کہا گیا کہ چھ ماہ میں ٹیکس آمدن 6 ہزار 729 ارب، نان ٹیکس آمدن 3 ہزار 954 ارب روپے رہی۔ وفاق کی آمدن 6 ہزار 160 ارب روپے ۔ صوبائی آمدن 568 ارب روپے رہی۔ وزارت خزانہ کیمطابق چھ ماہ میں سود کی ادائیگیوں پر 3 ہزار 563 ارب روپے خرچ کیے گئے ، دفاع پر 1 ہزار 44 ارب روپے خرچ کیے گئے ۔6 ماہ میں بیرونی ذرائع سے 34 ارب روپے اور مقامی ذرائع سے 575 ارب قرض لیا گیا۔ 504 ارب پنشن، سول حکومتی اخراجات 380 ارب، 462 ارب روپے سبسڈی دی۔ 822 ارب پی ڈی ایل، 8.8 ارب سی پی پی لیوی اور 25 کاربن لیوی اکٹھی ہوئی، دستاویز کیمطابق مرکزی بینک نے جولائی سے دسمبر تک حکومت کو 2 ہزار 428 ارب روپے منافع دیا، صوبوں کو مجموعی طور پر رواں مالی سال کے دوران 3 ہزار 616 ارب روپے جاری کیے گئے ۔ پنجاب کو 1 ہزار 796 ارب، سندھ کو 901 ارب روپے این ایف سی کے تحت ملے ۔خیبرپختونخواکو 586ارب، بلوچستان کو 322 ارب روپے این ایف سی کے تحت ملے ۔