گیس سلنڈر دھما کوں پر مجوزہ سخت قوانین مسترد ،اوگرا کو نیا مسودہ لانے کی ہدایت
پی پی سی میں ترامیم کی تجویز قائمہ کمیٹی نے واپس کی، قدیم قانون میں تبدیلی کے بجائے الگ بل لانے کا مشورہ دیا غیر معیاری سلنڈرز اور غیر قانونی ذخیرہ اندوزی پر دس سے چودہ سال قید اور کروڑوں جرمانوں کی تجاویز زیر غور
اسلام آباد (ذیشان یوسفزئی) ملک میں گیس سلنڈر دھماکوں کے بڑھتے واقعات کے بعد آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کی جانب سے پاکستان پینل کوڈ میں مجوزہ سخت ترامیم منظور نہ ہو سکیں۔ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے کیبنٹ ڈویژن نے پی پی سی میں تبدیلی کی تجویز واپس کرتے ہوئے اوگرا کو ہدایت کی ہے کہ وہ علیحدہ قانون یا اپنے موجودہ قواعد میں ترامیم کا مسودہ تیار کرے ۔اوگرا نے غیر قانونی ایل پی جی کاروبار، سب سٹینڈرڈ سلنڈرز کی تیاری اور دھماکہ خیز مواد کے غیر مجاز ذخیرہ کے خلاف سخت سزائیں تجویز کی تھیں۔ مسودہ لا ڈویژن کے ذریعے وزارت داخلہ کو بھجوایا گیا تھا تاہم یہ طویل عرصہ زیر التوا رہا۔ قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ پی پی سی ایک پرانا اور جامع قانون ہے ، اس میں ترمیم کے وسیع اثرات ہوں گے ، اس لیے مخصوص قانون سازی بہتر راستہ ہے ۔
اوگرا کے مطابق ملک میں ایل پی جی کے استعمال میں گزشتہ چند برسوں کے دوران ڈیڑھ سو فیصد سے زائد اضافہ ہوا ہے ۔ تین سے چار سال قبل یومیہ کھپت دو سے ڈھائی ہزار ٹن تھی جو بڑھ کر تقریباً چھ ہزار ٹن ہو چکی ہے ۔ حکام کا کہنا ہے کہ حادثات میں اضافے کی بڑی وجہ غیر معیاری سلنڈرز اور غیر قانونی سامان کی فروخت ہے ۔مجوزہ ترامیم کے تحت پٹرولیم اور دھماکہ خیز مواد کے غیر قانونی ذخیرہ اور ہینڈلنگ پر دس سال تک قید اور ایک کروڑ روپے جرمانے کی سزا تجویز کی گئی تھی، جبکہ آلات اور مشینری کی غیر قانونی تیاری پر دس سال قید اور دو کروڑ روپے جرمانہ رکھنے کی سفارش تھی۔ اگر ان سرگرمیوں کے نتیجے میں جانی یا مالی نقصان ہو تو چودہ سال تک سخت قید کی تجویز بھی شامل تھی۔قائمہ کمیٹی کی ہدایت کے بعد اوگرا اب نئے قوانین یا اپنے موجودہ ضوابط میں ترامیم تیار کرے گی اور پی پی سی میں مجوزہ تبدیلیوں پر عمل نہیں کیا جائے گا۔