عمران خان : دائیں آنکھ کی 85 فیصد بینائی ختم : سپریم کورٹ میں رپورٹ پیش، 16 فروری سے پہلے معائنے اور بچوں سے فون پر رابطوں کی سہولت دینے کا حکم

عمران خان : دائیں آنکھ کی 85 فیصد بینائی ختم : سپریم کورٹ میں رپورٹ پیش، 16 فروری سے پہلے معائنے اور بچوں سے فون پر رابطوں کی سہولت دینے کا حکم

فرینڈ آف کورٹ، سپرنٹنڈنٹ جیل کی رپورٹ ایک جیسی، سلمان صفدر نے بخوبی ذمہ داری نبھائی،بہترین سہولیات پر حکومت کو بھی سراہتے ہیں:چیف جسٹس، فیملی ممبر کی موجودگی میں میڈیکل کی استدعا مسترد شکایات کے باوجود 3ماہ علاج نہ ہوا،باقاعدگی سے بلڈٹیسٹ نہیں ہورہے ،ٹی وی غیرفعال،ریفریجریٹر نہیں،سیل میں مچھر و حشرات،2سال دانتوں کا معائنہ نہیں ہوا،سکیورٹی، کھانے پینے کی سہولیات پر اطمینان:رپورٹ توشہ خانہ کیس،ٹرائل کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ،پی ٹی آئی کی پختونخوا میں آج احتجاج کی کال،یہ نظر ختم کرنا چاہتے :علیمہ،سابق سپرنٹنڈنٹ کیخلاف مقدمہ کرینگے :سلمان راجہ،کٹہرے میں لائینگے :آفریدی

 اسلام آباد(اپنے نامہ نگار سے ، خصوصی نیوز رپورٹر،مانیٹرنگ ڈیسک)سپریم کورٹ میں پیش فرینڈ آف دی کورٹ سلمان صفدر کی رپورٹ کے مطابق بانی پی ٹی آئی عمران خان نے بتایا کہ ان کی دائیں آنکھ کی 85 فیصد بینائی ختم ہوگئی ہے ۔ سپریم کورٹ نے 16 فروری سے پہلے معائنے اور بچوں سے فون پر رابطوں کی سہولت دینے کا حکم دیتے ہوئے توشہ خانہ فوجداری کیس میں ٹرائل کورٹ کے خلاف درخواست میں فیصلہ محفوظ کرلیا۔ چیف جسٹس یحییٰ آفریدی اور جسٹس شاہد بلال حسن پر مشتمل دو رکنی بینچ نے سماعت کی۔ اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان، وکلا لطیف کھوسہ، بیرسٹر سلمان صفدر،سلمان اکرم راجہ اور دیگر عدالت پیش ہوئے جبکہ وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی، عمران خان کی بہنیں اور دیگر بھی کمرہ عدالت میں موجود تھے ، لطیف کھوسہ نے توشہ خانہ فوجداری کیس میں ٹرائل کورٹ کے خلاف درخواست پر دلائل دئیے ، چیف جسٹس نے کہا کہ اپیل کے قانونی پہلوؤں کا جائزہ بھی لیں گے ،درخواست گزار نے ٹرائل کورٹ کا اختیار چیلنج کر رکھا ہے ،اب تو ٹرائل کا فیصلہ بھی آچکا،فیصلے کے خلاف اپیلیں زیر التوا ہیں،ایسی صورت میں کیا یہ مقدمہ غیر موثر نہیں ہو چکا ؟لطیف کھوسہ نے کہاکہ نارمل مقدمہ ہوتا تو میں غیر موثر ہونے کا کہتا، چیف جسٹس نے کہاکہ اگر ہم مقدمہ کی قانونی حیثیت پر حکم دیں تو یہ فریقین کو متاثر کرے گا، لطیف کھوسہ نے کہاکہ وقت پیچھے لے جانا ہے یا نہیں عدالت نے فیصلہ کرنا ہے۔

چیف جسٹس نے کہاکہ ہم اپیلیٹ کورٹ کا کردار ادا نہیں کریں گے ،ہمیں ہائیکورٹ کے دائرہ اختیار کا خیال بھی رکھنا ہے ،وکیل لطیف کھوسہ نے کہاکہ سپریم کورٹ کے پاس مکمل اختیارات ہیں،کیس میں سب سے پہلا حکم تین رکنی بینچ کا تھا، چیف جسٹس نے کہاکہ پھر آج کی سماعت کا حکم بعد میں جاری کریں گے ،ٹرائل کورٹ نے بانی پی ٹی کو توشہ خانہ فوجداری کیس میں تین سال قید کی سزا سنائی تھی،اسلام آباد ہائیکورٹ نے توشہ خانہ فوجداری کیس میں بانی کی سزا معطل کر رکھی ہے ،ہم اس پر مناسب آرڈر کریں گے ، عدالت نے توشہ خانہ فوجداری کیس سے متعلق درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔بعد ازاں بیرسٹر سلمان صفدر اور اٹارنی جنرل روسٹرم پر آگئے ، چیف جسٹس نے کہاکہ تینوں رپورٹس آگئی ہیں، بیرسٹر سلمان صفدر اور سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کی رپورٹ ایک جیسی ہی ہیں،چیف جسٹس نے فرینڈ آف دی کورٹ کی ذمہ داری نبھانے پر بیرسٹر سلمان صفدر کی تعریف کرتے ہوئے ملاقات کیلئے حکومتی اقدامات پر اٹارنی جنرل کی بھی تعریف کی، چیف جسٹس نے کہاکہ بیرسٹر سلمان صفدر نے بخوبی ذمہ داری نبھائی،فرینڈ آف دی کورٹ کے کردار کو سراہتے ہیں،حکومت کو بھی بہترین سہولیات فراہمی پر سراہتے ہیں۔ بیرسٹر سلمان صفدر نے کہاکہ مجھے سو سے زائد کالز اور میسجز آئے ،میں نے کہا یہ کورٹ کی امانت ہے میں نہیں بتا سکتا،یہاں تک کہ اپنی بیوی کو بھی نہیں بتایا۔

چیف جسٹس نے کہاکہ جگہ اچھی ہے سہولیات ٹھیک ہیں،فیملی ممبر سے ملاقات کا ایشو ہائیکورٹ میں زیر التوا ہے ،مناسب ہوگا کہ متعلقہ فورم ان کا فیصلہ کرے ،صحت کا مسئلہ سب سے اہم ہے ،صحت کے معاملے پر مداخلت کی ضرورت ہے ،صحت کے معاملے پر حکومت کا موقف جاننا چاہتے ہیں،سب کے ساتھ یکساں سلوک ہونا چاہیے ۔اٹارنی جنرل نے کہاکہ صحت کی سہولیات فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے ،اگر قیدی مطمئن نہیں تو ریاست اقدامات کرے گی،چیف جسٹس نے کہاکہ بچوں سے ٹیلی فون کالز کا ایشو بھی اہم ہے ،ہم حکومت پر اعتماد کررہے ہیں،آج حکومت اچھے موڈ میں ہے ،بیرسٹر سلمان صفدر نے رپورٹ میں سفارشات پڑھ کر سنائیں اور کہاکہ عمران خان نے جیل میں حفاظتی اقدامات اور کھانے پینے کی سہولیات پر اطمینان کا اظہار کیا،طبی معائنہ کسی فیملی ممبر کی موجودگی میں کروایا جائے ،عدالت نے فیملی ممبر کی موجودگی میں میڈیکل کروانے کی استدعا مسترد کردی، بیرسٹر سلمان صفدر نے کہاکہ عمران خان کو کچھ کتابیں بھی مہیا کی جائیں، چیف جسٹس نے کہاکہ اٹارنی جنرل نے کہا ہے کہ ڈاکٹرز اگر کتابیں پڑھنے کا مشورہ دیں گے تو فراہم کر دی جائیں گی۔

رپورٹ میں پیش کی گئی دیگر سفارشات کو خود دیکھیں گے ،اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے تک معاملہ زیر التوا رکھیں گے ، صحت کے معاملے پر فیصلہ محفوظ کر رہے ہیں، مناسب فیصلہ دیں گے ،عدالت نے 16 فروری تک عمران خان کا معائنہ کرنے اور بچوں سے بات کرانے کی ہدایت کردی، سماعت کا حکمنامہ بعد میں جاری کیاجائے گا۔دریں اثنا سپریم کورٹ کے احکامات پر اڈیالہ جیل میں عمران خان سے ملاقات کے بعد عدالت میں جمع کرائی گئی رپورٹ بھی سامنے آگئی، بیرسٹر سلمان صفدر کی جانب سے جمع کرائی گئی رپورٹ میں عمران خان کی آنکھ کا فوری معائنہ کا مطالبہ کرتے ہوئے بتایا گیا کہ عمران خان نے مطالبہ کیا کہ ذاتی ڈاکٹر فیصل سلطان اور عاصم یوسف سے معائنہ کرایا جائے ، جبکہ طبی معائنہ کسی ماہر ڈاکٹر سے بھی کرایا جا سکتا ہے ،عمران خان کی قید تنہائی اور ٹی وی تک رسائی نہ ہونے کی وجہ سے کتابیں فراہم کرنے کا حکم دیا جائے ،عمران خان نے بتایا کہ اکتوبر 2025 تک ان کی نظر 6/6 پوری تھی، اکتوبر 2025 کے بعد دائیں آنکھ سے دھندلا نظر آنے لگا، سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل سے آنکھ کی تکلیف کی بار بار شکایت کی،شکایت کے باوجود تین ماہ تک آنکھ کا علاج نہیں کرایا گیا۔

پمز ہسپتال کے ماہر چشم ڈاکٹر عارف نے آنکھ کا معائنہ کیا،پمز ہسپتال میں علاج کے باوجود دائیں آنکھ کی بینائی صرف 15 فیصد باقی ہے ،عمران خان نے بتایا کہ 5ماہ سے وکلا سے بھی ملاقات نہیں ہوئی،سردیوں میں ایک چھوٹا ہیٹر ملتا ہے ، گرمیوں میں ان کے سیل میں حبس ہوجاتا ہے ،مچھر اور کیڑے مکوڑے آنے کی بھی شکایت کی،عمران خان نے گرمیوں میں ٹھیک سے سو نہ پانے کا بھی شکوہ کیا اور بہنوں اور رشتہ داروں سے ملاقات نہ ہونے پر مایوسی کا اظہارکیا،انہیں گرمیوں میں ریفریجریٹر کی سہولت بھی میسر نہیں، گرمیوں میں ملنے والا کول باکس مؤثر نہیں ہوتا،گرمیوں میں 2، 3 بار فوڈ پوائزننگ ہوئی،عمران خان ملاقات کے دوران واضح طور پر بروقت علاج نہ ملنے پر پریشان نظر آئے ، آنکھوں میں پانی تھا جسے بار بار صاف کر رہے تھے ، آنکھ میں خون کے لوتھڑے (بلڈ کلاٹ)کی تشخیص ہوئی جس کے باعث شدید نقصان ہوا، آنکھوں سے پانی بہہ رہا تھا جسے وہ بار بار صاف کر رہے تھے ،عمران خان نے بتایا کہ دو سال سے دانتوں کا معائنہ بھی نہیں کرایا گیا، انکی عمر کے مطابق باقاعدگی سے بلڈ ٹیسٹ نہیں کرائے جا رہے ،سیل میں موجود ٹی وی فعال نہیں ،وکلا سے ملاقات کے بغیرشفاف ٹرائل کا بنیادی حق متاثرہورہا ہے ،رپورٹ میں سفارش کی گئی کہ عدالت وکلا سے ملاقات کے معاملے پرمداخلت کرے ، اہلخانہ کے ساتھ بلاتعطل ملاقاتیں کرائی جائیں،سیل سے مچھروں اورحشرات کے خاتمے کیلئے اقدامات کیے جائیں،سیل میں ریفریجریٹرجیسی بنیادی ضرورت بھی فراہم کی جائیں۔

رپورٹ میں دو سال سے زائد عرصہ تنہائی میں رکھنے کا بتایا گیا،جیل حکام کو فوری طبی اقدامات کی سفارش کی گئی،رپورٹ میں یہ سفارش بھی کی گئی کہ کتابوں کی فراہمی یقینی بنانے کی ہدایت کی جائے ، عمران خان کو منصفانہ قانونی ٹرائل فراہم کیا جائے ،بیٹوں سے ٹیلیفون پر بات کرائی جائے ، عمران خان کی اڈیالہ جیل میں روزانہ کی مصروفیات کوبھی رپورٹ کا حصہ بنایاگیا ہے اور بتایاگیا کہ وہ روزانہ صبح پونے دس بجے ناشتہ کرتے ہیں،ناشتہ کے بعد ایک گھنٹہ قرآن خوانی کرتے ہیں،قرآن خوانی کے بعد دستیاب مشینوں سے ورزش کرتے ہیں،سوا ایک بجے نہاتے ہیں اور نہانے کے بعد کمپائونڈ میں بیٹھتے ہیں،ساڑھے تین سے چاربجے کے درمیان دوپہرکا کھانا کھاتے ہیں اور شام ساڑھے پانچ بجے دوبارہ واک کرتے ہیں،شام ساڑھے پانچ سے صبح دس بجے تک سیل میں رہتے ہیں، رپورٹ کے مطابق عمران خان صبح ناشتے میں ایک کپ کافی، دلیہ اور چند کھجوریں استعمال کرتے ہیں،دوپہر کے کھانے کے لئے ایک ہفتے کا پلان دیتے ہیں جس کے اخراجات خود یا فیملی ادا کرتی ہے ، ہفتے میں دو دن مرغی، دو دن گوشت، دو دن دال یا چاٹ سنیکس وغیرہ ہوتے ہیں جبکہ پینے کے لئے منرل واٹر کی بوتل دستیاب ہے ، رپورٹ کے مطابق رات کے کھانے کے لئے کچھ مختص نہیں ہے ، بانی پی ٹی آئی رات کا کھانا نہیں کھاتے ، رات میں فروٹ،دودھ اور کھجوروں کا استعمال کرتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق سیل بلاک اڈیالہ جیل کے اندر تقریباً 5 1منٹ کی پیدل مسافت پر واقع ہے ، احاطہ مخصوص اور اضافی حفاظتی اقدامات کے تحت بنایا گیا ہے ، احاطے کی بیرونی دیواریں 12 فٹ بلند ہیں اور خاردار تار نصب ہے ،ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ کے مطابق احاطے میں 5 وارڈرز اور ایک اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ 24 گھنٹے تعینات ہیں، احاطے کے اندر تقریباً 12 ضرب 30 فٹ کا لان موجود ہے ، جہاں بانی پی ٹی آئی دھوپ، تازہ ہوا، ورزش اور چہل قدمی کے لیے جاتے ہیں، یہ علاقہ صاف ستھرا اور مناسب طور پر برقرار رکھا گیا ہے ، سیل بلاک میں تقریباً 4 سکیورٹی اہلکار تعینات ہیں،سلمان صفدر کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مجھے سیل بلاک کے کچن میں لے جایا گیا، جس کا مرکزی دروازہ مقفل کیا جاسکتا ہے ، سیل بلاک کے کچن میں برتن، کراکری اور کھانا پکانے کا سامان موجود ہے ، زیادہ تر اشیائے خورونوش مرتبانوں اور بند ڈبوں میں محفوظ تھیں، اشیائے خورو نوش میں مصالحہ جات اور خشک میوہ جات شامل تھے ، کچن کی صفائی کے حوالے سے کچھ بہتری کی گنجائش محسوس کی گئی، کچن کی صفائی کی بابت سپرنٹنڈنٹ جیل کو معائنے کے وقت آگاہ کیا گیا۔

رپورٹ میں یہ بھی تایا گیا کہ کچن سے آگے 16 ضرب 70 فٹ کا کھلا صحن ہے جس کا فرش سیمنٹ کا تھا، یہ حصہ کھلی فضا میں ہے مگر چار دیواری سے گھرا ہوا ہے ، چار دیواری کی چھت پر لوہے کی سلاخیں اور جالی نصب ہے ، بانی اس جگہ کو بھی چہل قدمی کے لیے استعمال کرتے ہیں، ساتھ ہی 7 یکساں سائز کے سیلز دیکھے گئے جس پر 0 سے 6 تک نمبر درج تھے ، ہر سیل کا سائز تقریباً 8 ضرب 10 فٹ تھا، بتایا گیا اس حصے تک رسائی محدود ہے ، صرف درخواست گزار اور اس کا مقرر کردہ معاون ہی داخل ہوسکتے ہیں، بانی سیل نمبر 2 میں مقید ہیں، ان کو ملحقہ سیل میں غسل خانہ اور ایکسر سائز بائیک رکھنے کی اجازت ہے ،رپورٹ میں کہا گیا کہ مجھے سیل نمبر 2 میں لے جایا گیا جہاں بانی پی ٹی آئی مقید ہے ،سیل نمبر 2 کا معائنہ کیا، سیل کے داخلی دروازے پر لوہے کی سلاخوں کا ڈھانچہ موجود تھا، لوہے کی سلاخوں کے ڈھانچے پر ہوا سے بچاؤ کے لیے پلاسٹک شیٹ لگائی گئی تھی، سیل کے اندر 3 ہائی وولٹیج بلب، ایک چھت والا پنکھا، ایک بلوور ہیٹر موجود ہے ، سیل میں 2 میزیں، ایک وال کلاک، ایک چارپائی، ایک کرسی، ایک چھوٹا ریک موجود تھا، 32 انچ کا ٹی وی دیوار پر نصب تھا تاہم چلانے پر وہ خراب پایا گیا، وہاں کوئی الماری موجود نہیں، کپڑے 5 ہینگرز پر لٹکائے گئے تھے ، سیل کے اندر فراہم کردہ کرسی غیر آرام دہ پائی گئی۔

ایک سنگل بیڈ میٹریس، 4 تکیے اور 2 کمبل بھی موجود تھے ، بیڈ کے نیچے 5 جوڑی جوتے رکھے ہوئے تھے ، فرش پر سرمئی رنگ کی قالین نما چٹائی موجود تھی،بانی پی ٹی آئی کا ذاتی سامان اور ٹوائلٹری آئٹمز بھی موجود تھے ، سیل کے اندر جائے نماز، تسبیح موجود تھی، دو تولیے بھی تھے ، تقریباً 100 کتابیں ایک میز پر رکھی تھیں، ساتھ 2 سیب، 2 ڈمبلز بھی تھے ، ٹشو پیپر، ماؤتھ واش، ایئر فریشنر، شیو جیل اور شیو کٹ بھی موجود تھے ،سیل کے اندر تقریباً ساڑھے 4 ضرب ساڑھے 4 فٹ کا ٹوائلٹ تھا، جس کو 4 فٹ اونچی دیوار سے الگ کیا گیا تھا اور اس کی چھت نہیں تھی، اس کے باہر گرم اور ٹھنڈے پانی کی سہولت، واش بیسن اور آئینہ موجود تھا، صفائی کے حوالے سے ٹوائلٹ کے باہر بہتری کی گنجائش دیکھی گئی، سیل میں تقریباً 2 ضرب 2 فٹ کے 2 روشندان چھت کے مخالف سمتوں میں موجود تھے ،روشن دانوں سے کراس وینٹی لیشن ہوتی ہے ، تاہم سیل کے اندر ٹوائلٹ ہونے کے باوجود کوئی ایگزاسٹ سسٹم نصب نہیں تھا۔ دوسری جانب تحریک انصاف کے رہنماؤں نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کی صحت کے حوالے سے گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت کو خبردار کیا ہے کہ اگر ورکر بغیر اجازت نکل آئے تو آپ کو بھاگنے نہیں دیں گے لہٰذا آؤ سب کچھ بھلا کر آگے بڑھیں۔

تحریک انصاف خیبر پختونخوا کے صوبائی صدر جنید اکبر نے پارٹی کارکنوں اور عوام کو آج صوبے بھر میں احتجاج کی کال دیتے ہوئے کہا نمازِ جمعہ کے بعد خیبر پختونخوا کے تمام پریس کلبز کے سامنے احتجاج کیا جائے گا۔عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان نے کہا تین ماہ سے عمران خان آنکھ کی تکلیف کا بتاتے رہے ،کس قسم کی انسانیت ہے ،اس وقت کے سپرنٹنڈنٹ جیل عبدالغفور انجم کی ذمہ داری تھی،دس دس کیمرے لگے ہوئے ہیں انہیں پتا تھا کہ طبیعت خراب ہو رہی ہے ،انہوں نے انتظار کیا کہ نظر چلی جائے ،یہ عمران خان کی نظر ختم کرنا چاہتے ہیں۔رکن قومی اسمبلی علی محمد خان نے کہا حکومت سپریم کورٹ کے فیصلے پر فوری عمل کرے ۔پی ٹی آئی کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے کہا پمز میں ماہر ڈاکٹر نہیں ہیں عمران خان کا ڈاکٹر شفا ہسپتال میں ہے ۔بانی پی ٹی آئی نے کہا کہ ان کی ایک آنکھ کی بینائی واپس نہیں آئی اور صرف روشنی دیکھ سکتے ہیں،بانی پی ٹی آئی کے خلاف جرم کا ارتکاب کیا گیا اور جرم سابق سپرنٹنڈنٹ جیل عبدالغفور انجم نے کیا، مقدمہ عبدالغفور انجم کے خلاف دائرکیا جائیگا۔وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے کہا یہ لوگ ماڈل ٹاؤن والے ہیں،اب یہ بانی پی ٹی آئی کے خون کے پیاسے ہوگئے ہیں،ملک کے مقبول لیڈر کیساتھ یہ رویہ ناقابل برداشت ہے ،معیشت تباہ ہوگئی مگر پورا نظام بانی پی ٹی آئی کے پیچھے لگا ہوا ہے ۔نواز شریف کے پلیٹ لیٹس جعلی طریقے سے گرائے گئے تو پورا میڈیا بول رہا تھا،آج بانی پی ٹی آئی کی صحت کو خطرات ہیں تو میڈیا کو بولنا چاہیے ،سابق جیل سپرنٹنڈنٹ کو قانون کے کٹہرے میں لائیں گے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں