بانی پی ٹی آئی کا علاج ،دھرنوں سے فرق نہیں پڑیگا
ڈاکٹرز کی رپورٹ پر علاج کیلئے اقدامات ،عدالتی ہدایت پر عملدرآمد ہوگا
تجزیہ:سلمان غنی
بانی پی ٹی آئی سے جیل میں روا رکھے جانے والے سلوک پر آنے والی رپورٹ میں ان کی سکیورٹی،کھانے پینے کی سہولت پر تو اطمینان کا اظہار کیا گیا ہے مگر ان کی آنکھ کا مسئلہ بڑا ایشو بن کر سامنے آیا ہے جس پر سپریم کورٹ نے ا نہیں اس حوالہ سے ڈاکٹرز کی ٹیم بنانے اور بانی کی ان کے بیٹوں سے بات چیت کو یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے لہذا اس امر کا تجزیہ ضروری ہے کہ سلمان صفدر کی رپورٹ کتنی حقیقت پسندانہ ہے اور ان کی آنکھ کے حوالہ سے شکایت کی حقیقت کیا ہے اور جیل ضوابط کے تحت بانی پی ٹی آئی کو کتنی سہولتیں حاصل ہیں ۔ فرینڈ آف کورٹ کی جانب سے رپورٹ نے سہولتوں بارے شکایات کو تو ایکسپوز کیا ہے اور حکومتی موقف کی تصدیق کی ہے لیکن بڑا مسئلہ ان کی آنکھ کی خرابی اور جیل حکام کی جانب سے اس سے صرف نظر برتنے کے عمل نے بڑا سوال کھڑا کر دیا ہے۔
پی ٹی آئی کے سیکرٹری جنرل نے اس ضمن میں اس وقت کے جیلر کو ذمہ دار قرار دیتے ہوئے مقدمہ درج کرانے کا اعلان کیا ہے البتہ اس کی تحقیقات ضرور ہو نی چا ہئے کہ ان کی شکایت پر پیش رفت کیوں نہ ہو سکی، بینائی بارے خبروں نے پی ٹی آئی اور ان کے ا ہل خانہ میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے اور اس حوالہ سے ضروری ہے کہ ڈاکٹرز کا بورڈ بھی بنایا جانا چاہئے ان تک ڈاکٹرز کو رسائی ملنی چاہئے ،سیاسی حلقوں میں بحث جاری ہے کہ اگر بانی پی ٹی آئی کی آنکھ کا شدید مسئلہ تھا تو حکومت نے اس ضمن میں ذمہ داری کیوں پوری نہیں کی اور جیل حکام نے اس پر سنجیدگی کیوں ظاہر نہیں کی ،یہ سیاسی نہیں انسانی مسئلہ تھا۔اکتوبر میں بانی کی آنکھ میں تکلیف پر اگر متعلقہ حکام ان کے علاج کا بروقت ا ہتمام کرتے تو آنکھ کی تکلیف تشویشناک نہ بنتی ۔ دوسری جانب اپوزیشن نے بانی پی ٹی آئی کی صحت کا جواز بناتے ہو ئے آج پارلیمنٹ ہائوس کے باھر دھرنا دینے کا اعلان کیا ہے ،حکومتی سطح پر تصدیق ہو گئی ہے کہ اب ڈاکٹرز کی رپورٹ پر علاج کے لئے بھی اقدامات ہو ں گے اس حوالہ سے کورٹ کی ہدایت پر عملدرآمد ہو گا اس میں دھرنوں یا احتجاج سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔