سرکاری اداروں کے نقصانات میں300فیصد اضافہ ،گردشی قرضے میں600ارب کی کمی:وزارت خزانہ کی سالانہ رپورٹ

سرکاری  اداروں  کے  نقصانات  میں300فیصد  اضافہ ،گردشی  قرضے  میں600ارب  کی  کمی:وزارت  خزانہ  کی  سالانہ  رپورٹ

این ایچ اے ، کیسکو، پیسکو ،ریلویز،پی آئی اے ہولڈنگ سمیت 25اداروں کا خسارہ 832ارب، حکومتی معاونت 2078 ارب 50 کروڑتک پہنچ گئی آئل اینڈ گیس ڈویلپمنٹ کمپنی، پاکستان پٹرولیم، واپڈا، نیشنل بینک ودیگر کا منافع 709 ارب، پاور اورگیس سیکٹر کا گردشی قرضہ 3929ارب ریکارڈ

اسلام آباد(مدثرعلی رانا)مالی سال 2025 میں سرکاری اداروں کے نقصانات میں 300 فیصد اضافہ ہوا جبکہ گردشی قرضہ میں تقریباً 600 ارب روپے کی کمی ہوئی ہے ۔ وزارت خزانہ کی سالانہ رپورٹ کے مطابق25اداروں نے مجموعی طور پر 832 ارب روپے کا خسارہ ظاہر کیا ،جبکہ خالص نقصان 123 ارب روپے تک پہنچ گیا جو گزشتہ مالی سال میں 30 ارب 60 کروڑ روپے تھا۔سب سے زیادہ خسارہ نیشنل ہائی وے اتھارٹی کو ہوا جس کا حجم 294 ارب 90 کروڑ روپے رہا ،اس کے بعد بجلی ترسیلی کمپنیکیسکو کو 112 ارب 70 کروڑ روپے اور پیسکو کو 92 ارب 70 کروڑ روپے کا نقصان ہوا ،ریلویز کو 60 ارب 30 کروڑ روپے جبکہ پی آئی اے ہولڈنگ کمپنی لمیٹڈ کو 48 ارب 90 کروڑ روپے کا خسارہ برداشت کرنا پڑا ۔

نیشنل پاور پارکس انتظامی کمپنی 46 ارب 10 کروڑ ، نیلم جہلم پن بجلی کمپنی 29 ارب 40 کروڑ ،پاکستان سٹیل ملز 26 ارب اور سکھر بجلی ترسیلی کمپنی 25 ارب 30 کروڑ ، پاکستان پوسٹ 19 ارب 30 کروڑ ، پاکستان ایگری کلچر اینڈ سٹوریج کارپوریشن 19 ارب، حیدرآباد بجلی ترسیلی کمپنی 12 ارب 90 کروڑ، لاہور بجلی ترسیلی کمپنی کو 12 ارب 70 کروڑ روپے کانقصان ہوا۔دوسری جانب منافع بخش اداروں نے مجموعی طور پر 709 ارب روپے منافع کمایا ،تاہم زیادہ تر منافع چند بڑے اداروں تک محدود رہا ۔آئل اینڈ گیس ڈویلپمنٹ کمپنی 169 ارب 90 کروڑ روپے کے ساتھ سرفہرست رہی، اس کے بعد پاکستان پٹرولیم لمیٹڈ 89 ارب 90 کروڑ روپے ،نیشنل بینک 56 ارب 70 کروڑ روپے ،واپڈا 52 ارب 30 کروڑ روپے اور گورنمنٹ ہولڈنگز پرائیویٹ لمیٹڈ کو 48 ارب 50 کروڑ روپے کا منافع ہوا۔

دیگر منافع بخش اداروں میں کراچی پورٹ ٹرسٹ ،پورٹ قاسم اتھارٹی ،پاک عرب ریفائنری کمپنی، پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن ،سٹیٹ لائف انشورنس کارپوریشن ،سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ، پاکستان سٹیٹ آئل، گوجرانوالہ بجلی ترسیلی کمپنی، زرعی ترقیاتی بینک لمیٹڈ ،سینڈک میٹلز لمیٹڈ ،قومی ترسیلی و تقسیم کمپنی، سوئی سدرن گیس کمپنی اور پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز کارپوریشن لمیٹڈ شامل ہیں۔ سرکاری اداروں کے مجموعی ملکیتی سرمایہ میں 7 فیصد اضافہ ہوا جبکہ واجبات میں 3فیصد کمی اور اثاثوں میں معمولی کمی ریکارڈ کی گئی۔ حکومت کی جانب سے سرکاری اداروں کو فراہم کی جانے والی مالی معاونت بڑھ کر 2078 ارب 50 کروڑ روپے تک پہنچ گئی ہے ۔محصولات کی مد میں وصول کیے گئے ہر 6 روپے میں سے ایک روپے سے زائد رقم دوبارہ سرکاری اداروں پر خرچ کی گئی۔ پاور سیکٹر اور گیس سیکٹر کا گردشی قرضہ گزشتہ مالی سال تک 3 ہزار 929 ارب روپے سے زائد ریکارڈ ہوا۔ مالی سال 2024 کی نسبت مالی سال 2025 کے دوران گردشی قرضہ میں تقریباً 600ارب روپے کی کمی ہوئی۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں