ٹرمپ کو بڑی شکست،اضافی ٹیرف غیر قانونی قرار:امریکی سپریم کورٹ کا دھما کا خیز فیصلہ
انٹرنیشنل ایمرجنسی اکنامک پاورز ایکٹ صدرڈونلڈ ٹرمپ کو وہ اختیارات نہیں دیتا جو انہوں نے ٹیرف نافذ کرنے کیلئے استعمال کئے ،سپریم کورٹ نے 6-3کی اکثریت سے فیصلہ سنایا نٹر عدالت غیر ملکی مفادات کے زیراثرآگئی ،دیگر ممالک خوش ،مجھے شرمندگی محسوس ہورہی ہے ،دیگر ٹیرفس کے علاوہ10 فیصد عالمی ٹیرف نافذ کیا جائے گا :ڈونلڈ ٹرمپ ،پریس کانفرنس
واشنگٹن (نیوزا یجنسیاں )امریکی سپریم کورٹ نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے قومی ایمرجنسی کے تحت نافذ کئے گئے وسیع پیمانے پر اضافی ٹیرف کالعدم قرار دے دئیے ، یہ فیصلہ ریپبلکن صدر کیلئے ایک بڑی شکست ہے اور عالمی معیشت پر اس کے بڑے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔چیف جسٹس جان رابرٹس کی تحریر کردہ 6-3 کی اکثریتی رائے میں عدالت نے نچلی عدالت کے فیصلے کو برقرار رکھا اور کہا کہ ٹرمپ کا 1977 کے قانون کا استعمال ان کا اختیارات سے تجاوز ہے ۔ عدالت نے قرار دیا کہ متعلقہ قانون انٹرنیشنل ایمرجنسی اکنامک پاورز ایکٹ (IEEPA)ٹرمپ کو وہ اختیارات نہیں دیتا جو انہوں نے ٹیرف نافذ کرنے کیلئے استعمال کئے ۔آج ہماری ذمہ داری صرف یہ فیصلہ کرنا ہے کہ آیا انٹرنیشنل ایمرجنسی اکنامک پاورز ایکٹ میں صدر کو دیا گیا درآمدات کو منظم کرنے کا اختیار ٹیرف عائد کرنے کی صلاحیت کو شامل کرتا ہے یانہیں ۔وائٹ ہاؤس کی طرف سے فیصلے پر فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا تاہم ٹرمپ نے اسے ذلت آمیزاوربے عزتی قرار دیا ہے ۔
اس حوالے سے میڈیا رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ ٹرمپ کو وائٹ ہاؤس میں گورنرز کے ساتھ ملاقات کے دوران اس فیصلے کے بارے میں آگاہ کیا گیا،انہوں نے سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے پر سخت ردعمل دیتے ہوئے اسے شرمناک قرار دے دیا ۔ٹرمپ کا پریس کانفرنس میں کہنا تھا کہ امریکی عدالت کا فیصلہ بہت مایوس کن ہے ،عدالت کے کچھ ارکان میں اتنی جرات نہیں کہ وہ ملک کے مفاد کیلئے سچ کا ساتھ دے سکیں جس پرمجھے شرمندگی محسوس ہورہی ہے ،دیگرممالک سپریم کورٹ کے اس فیصلے پر بہت خوش ہیں، ان ممالک کی خوشی زیادہ دیر قائم نہیں رہے گی ، میں جو چاہوں کرسکتا ہوں،سپریم کورٹ کے ٹیرف فیصلے کے بعد میرے پاس ایک مکمل بیک اپ پلان موجود ہے تاکہ کسی بھی نقصان یا اقتصادی پیچیدگی کا سامنا کیا جا سکے ۔مجھے کسی ملک کے ساتھ تجارت ختم کرنے اور پابندیاں لگانے کا اختیار ہے ، عدالتی فیصلے کے بعد امریکا دوسرے طریقوں سے ٹیرف وصول کرنے کی کوشش کرے گا، عدالت غیر ملکی مفادات کے زیراثر آگئی ہے ۔
ٹرمپ کا کہناتھاکہ عدالتی فیصلے نے ٹیرف لگانے کے اختیار میں مزید اضافہ کردیا، ٹیرف سے ملنے والے منافع میں مزید اضافہ ہوگا، دیگر ٹیرفس کے علاوہ10 فیصد عالمی ٹیرف نافذ کیا جائے گا اس کیلئے صدارتی حکم نامے پر دستخط کرنے جارہاہوں،ملک کو تحفظ دینے کیلئے ہم عالمی ٹیرف عائد کرنے کا منصوبہ جاری رکھیں گے ۔ ڈیموکریٹس اور مختلف صنعتی گروپس نے سپریم کورٹ کے فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے ۔ امریکی سپریم کورٹ کا گزشتہ روز جاری کیاگیایہ فیصلہ امریکی سیاسی اور قانونی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے ، ٹرمپ کی ٹیم ممکنہ طور پر اس کے خلاف اپیل یا ردعمل کا اعلان کر سکتی ہے ۔امریکی سپریم کورٹ نے فیصلہ چھ ،تین کی اکثریت سے سنایااورکہاکہ ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹیرف عائد کرتے وقت اپنے اختیارات سے تجاوز کیا، جس کے باعث عالمی تجارت بری طرح متاثر ہوئی ۔
انٹرنیشنل ایمرجنسی اکنامک پاورز ایکٹ صدرِ امریکا کو ٹیرف عائد کرنے کا اختیار فراہم نہیں کرتا،یہ قانون ہنگامی معاشی حالات میں بعض اختیارات ضرور دیتا ہے مگر اس کے تحت صدر کو عالمی تجارت پر محصولات لگانے کی اجازت حاصل نہیں۔ فیصلے میں تین لبرل ججز کیتنجی براؤن جیکسن، ایلینا کیگن اور سونیا سوتومئیر نے تین قدا مت پسند ججز ایمی کونی بیریٹ، نیل گورسچ اور چیف جسٹس جان رابرٹس کے ساتھ مل کر ٹیرف کو غیر قانونی قرار دینے کے حق میں ووٹ دیا۔ جسٹس بریٹ کاوانا، سیموئل الیٹو اور کلیرنس تھامس نے اختلافی نوٹ لکھتے ہوئے اس فیصلے سے اتفاق نہیں کیا۔واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ برس اپریل میں دنیا کے تقریباً ہر ملک سے آنے والی اشیا پر ٹیرف نافذ کیا ۔ٹرمپ کا مو قف ہے کہ ٹیرف سے حکومت کی ٹیکس آمدنی میں اضافہ ہوگا، امریکی ساختہ مصنوعات کی خریداری بڑھے گی اور ملک میں سرمایہ کاری کو فروغ ملے گا۔ تاہم ناقدین خبردار کرتے ہیں کہ اس سے قیمتیں بڑھیں گی اور عالمی معیشت کو نقصان پہنچ سکتا ہے ۔