ایران پر محدود حملے کا سوچ رہا ہوں،ٹرمپ،شخصیات کو نشانہ بنانے اور حکومت بدلنے کی منصوبہ بندی:امریکی حکام
طیارہ بردار بحری جہاز جیرالڈ آر فورڈ بحیرۂ روم میں داخل ، فوج کی ایران کے خلاف منصوبہ بندی آگے کی سطح پر پہنچ چکی ، سب کچھ ٹرمپ کے حکم پر منحصر :امریکی عہدیدار بھرپور جواب دیا جائیگا :ایران ، سخت ردِعمل متوقع ، ایرانی میزائل کئی ممالک تک پہنچ سکتے :امریکا ، روسی جنگی جہاز خلیجِ عمان میں ایرانی بحری مشقوں میں شامل
واشنگٹن (نیوز ایجنسیاں )امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ انہوں نے ایران پر محدود حملے پر غور کرنا شروع کر دیا ہے ، یہ فیصلہ انہوں نے مشرقِ وسطیٰ میں بڑی بحری تعیناتی کے بعد کیا ہے تاکہ تہران پر جوہری پروگرام محدود کرنے کے لیے دباؤ بڑھایا جا سکے اور کسی معاہدے پر آمادگی حاصل کی جا سکے ۔ ۔ جمعہ کو ایک صحافی نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے پوچھا کہ آیا وہ محدود فوجی حملے پر غور کر رہے ہیں، تو انہوں نے جواب دیا:" فی الحال کہہ سکتا ہوں - میں اس پر غور کر رہا ہوں۔" دوسری جانب امریکی فوج کی ایران کے خلاف منصوبہ بندی آگے کی سطح پر پہنچ چکی ہے ، جس میں حملے کے حصے کے طور پر شخصیات کو نشانہ بنانے اور حتیٰ کہ تہران میں رجیم(حکومت )کی تبدیلی کا تعاقب بھی شامل ہے ۔
تاہم، یہ سب صدر ٹرمپ کے حکم پر منحصر ہے ۔دو امریکی عہدیدار ، جو منصوبہ بندی کی حساس نوعیت کی وجہ سے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کر رہے تھے ، نے مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں کہ کون سے افراد کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے یا امریکی فوج بڑی گراؤنڈ فورس کے بغیر رجیم کی تبدیلی کیسے انجام دے سکتی ہے ۔ مزید براں یو ایس ایس جیرالڈ آر فورڈ طیارہ بردار بحری جہاز جمعہ کے روز بحیرۂ روم میں داخل ہوتا دیکھا گیا، جسے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مشرقِ وسطیٰ میں بڑے پیمانے پر فوجی تعیناتی کے حصے کے طور پر بھیجا تھا۔ یہ جہاز آبنائے جبرالٹر سے گزرتے ہوئے دکھائی دیا جو بحرِ اوقیانوس کو بحیرۂ روم سے جوڑتا ہے ۔
دوسری جانب جمعرات کو اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس کو بھیجے گئے خط میں تہران نے کہا کہ ایران کسی جنگ کی ابتدا نہیں کرے گا، تاہم اگر اس پر حملہ کیا گیا تو وہ اپنے دفاع کے حق کو استعمال کرتے ہوئے بھرپور اور متناسب جواب دے گا۔امریکی حکام نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ حملے کی صورت میں ایران کی جانب سے سخت ردِعمل متوقع ہے ، جس کے نتیجے میں امریکی جانی نقصان اور پورے خطے میں کشیدگی پھیلنے کا اندیشہ ہے ، کیونکہ ایران کے میزائل کئی ممالک تک پہنچنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اسی دوران ایک روسی جنگی جہاز خلیجِ عمان میں ایران کی بحری مشقوں میں شامل ہو گیا۔ خلیجِ عمان کو عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے نہایت اہم سمندری راستہ سمجھا جاتا ہے ۔