7سال میں مزید پونے 2کروڑ افراد غربت میں چلے گئے،معاشی عدم مساوات کی بلند ترین سطح

7سال میں مزید  پونے 2کروڑ  افراد  غربت میں  چلے  گئے،معاشی عدم مساوات کی بلند ترین  سطح

بڑھتی مہنگائی، کم معاشی نمو، آئی ایم ایف پروگرامز، کورونا ، سیلابوں سے غربت میں اضافہ ہوا،بلوچستان زیادہ پسماندہ 7کروڑ افراد خط غربت سے نیچے زندگی گزاررہے :غربت تخمینہ کمیٹی ،روپے کی قدر میں کمی سے عوام متاثر:احسن اقبال

 اسلام آباد (مدثر علی رانا)گزشتہ 7 برسوں میں پونے دو کروڑ افراد مزید غریب ہو گئے ، 29 فیصد غربت کے ساتھ تقریباً 7 کروڑ آبادی غربت کا شکار ہے اور معاشی عدم مساوات تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔ مالی سال 2025 میں فی بالغ مساوی ماہانہ خط غربت 8 ہزار 484 روپے مقرر کیا گیا ہے ۔شماریات بیورو کے زیر اہتمام ہاؤس ہولڈ انٹیگریٹڈ اکنامک سروے کی بنیاد پر قائم غربت تخمینہ کمیٹی نے انکشاف کیا ہے کہ ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی، کم معاشی نمو، آئی ایم ایف پروگرامز، کورونا وبا، شرح مبادلہ میں شدید گراوٹ اور تباہ کن سیلابوں کے باعث غربت اور عدم مساوات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے ۔ مالی سال 2024-25 میں غربت کی شرح بڑھ کر 28اعشاریہ 9 فیصد تک پہنچ گئی جو 2019 میں 21اعشاریہ 9 فیصد تھی، اس طرح 6 برسوں میں 7 فیصد پوائنٹس کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ ملک کی تقریباً 25 کروڑ آبادی میں سے لگ بھگ 7 کروڑ افراد خط غربت سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں۔پاورٹی ایسٹی میشن رپورٹ 2025 کے مطابق مالی سال 2025 میں فی بالغ مساوی ماہانہ خط غربت 8 ہزار 484 روپے مقرر کیا گیا ہے جبکہ مالی سال 2019 میں یہ 3 ہزار 757 روپے تھا۔

معاشی عدم مساوات کی شرح بھی بڑھ کر 32اعشاریہ 7 فیصد ہو گئی جو 2019 میں28 اعشاریہ 4 فیصد تھی۔غربت تخمینہ کمیٹی کے سربراہ ڈاکٹر جی ایم عارف نے کہا کہ لاگت برائے بنیادی ضروریات کے طریقہ کار میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ،جس سے اعداد و شمار کا تسلسل برقرار رہا، تاہم 2019 سے 2022 اور 2022 سے 2025 کے ادوار کا الگ الگ تجزیہ نہیں کیا گیا۔ دیہی علاقوں میں غربت کی شرح 36اعشاریہ 2 فیصد جبکہ شہری علاقوں میں 17اعشاریہ 4 فیصد ریکارڈ ہوئی۔صوبوں میں بلوچستان میں غربت کی شرح سب سے زیادہ 47 فیصد رہی، اس کے بعد خیبرپختونخوا میں 35اعشاریہ 3 فیصد، سندھ میں 32اعشاریہ 6 فیصد اور پنجاب میں 23اعشاریہ 3 فیصد ریکارڈ ہوئی۔ پاکستان میں معاشی عدم مساوات 32اعشاریہ 7 فیصد کی سطح پر پہنچ گئی، شہری علاقوں میں یہ 34اعشاریہ 4 فیصد اور دیہی علاقوں میں 29اعشاریہ 2 فیصد رہی۔ صوبائی سطح پر عدم مساوات سندھ میں35اعشاریہ 9 فیصد، پنجاب میں 32 فیصد، خیبرپختونخوا میں 29اعشاریہ 4 فیصد اور بلوچستان میں 26اعشاریہ 5 فیصد ریکارڈ ہوئی۔

رپورٹ اجرا کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال نے کہا کہ 2018 کے بعد غربت کے اعداد و شمار جاری نہیں کیے گئے تھے اور گزشتہ 7 سال میں چاروں صوبوں میں غربت میں اضافہ ہوا۔ انہوں نے کہا کہ شہری علاقوں میں غربت 11 فیصد سے بڑھ کر 17اعشاریہ 4 فیصد ہو گئی، پنجاب میں 16اعشاریہ 5 فیصد سے بڑھ کر 23اعشاریہ 3 فیصد، سندھ میں 24اعشاریہ 5 فیصد سے بڑھ کر 32اعشاریہ 6 فیصد، خیبرپختونخوا میں 28اعشاریہ 7 فیصد سے بڑھ کر 35اعشاریہ 3 فیصد اور بلوچستان میں 41اعشاریہ 8 فیصد سے بڑھ کر 47 فیصد ہو گئی۔انہوں نے کہا کہ وفاقی ترقیاتی بجٹ کا حجم کم ہو گیا، میکرو اکنامک استحکام کیلئے آئی ایم ایف پروگرام نافذ کرنا پڑا اور روپے کی قدر میں کمی سے مہنگائی نے عوام کو متاثر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی ملک کی ترقی میں غربت کے تخمینوں کا اہم کردار ہوتا ہے اور غربت کے خاتمے کے بغیر معیار زندگی بہتر نہیں ہو سکتا۔احسن اقبال نے کہا کہ پالیسی کے عدم تسلسل، کورونا وبا اور آئی ایم ایف پروگراموں نے غربت میں اضافے میں کردار ادا کیا۔ انہوں نے زور دیا کہ پائیدار ترقی کے لیے برآمدات میں اضافہ ناگزیر ہے ۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں