پی ٹی آئی کا احتجاج اندرونی بحران ختم کئے بغیر کارگر نہیں ہوسکتا
حکومت کے پاس ڈیل کا اختیار نہیں،کسی ‘‘انہونی ’’کے اثرات بھی نظر نہیں آرہے
(تجزیہ:سلمان غنی)
تحریک انصاف میں پیدا شدہ بحرانی کیفیت میں اصل مسئلہ کون ہے پارٹی قیادت اس حوالے سے تقسیم نظر آ رہی ہے کچھ رہنما مشکل صورتحال میں ہیں،عمران خان کی بہنیں اور کچھ پارٹی رہنما احتجاجی اور مزاحمتی بیانیہ اختیار نہ کرنے والوں کو مسئلہ قرار دیتے نظر آ رہے ہیں ،علیمہ خان نے تو واضح طور پر کہہ دیا ہے کہ جو بانی پی ٹی آئی کے لئے لڑنا نہیں چاہتے وہ سائیڈ پر ہو جائیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ عمران خان کی بہنیں اور وزیراعلیٰ پختونخواسہیل آفریدی حکمت کے بجائے سیاسی طاقت کے استعمال پر بضد ہیں اور سمجھتے ہیں کہ احتجاجی سیاست کے ذریعے حکومت اور ریاست پر اثر انداز ہوا جا سکتا ہے جبکہ دوسری جانب اپوزیشن قیادت خصوصاً محمود خان اچکزئی ،راجہ ناصر عباس، بیرسٹر گوہر ،سلمان اکرم راجہ و دیگر یہ سمجھتے ہیں کہ خوامخوا کی محاذ آرائی اور چڑھائی کی بجائے ایسی حکمت عملی اختیار کی جائے جو سیاسی ہو اور سیدھی انگلیوں سے گھی نکالنے پر کام کیا جائے کیونکہ احتجاجی آپشنز بروئے کار لانے سے مسائل میں کمی کے بجائے اضافہ ہی ہوا ہے ۔
مذکورہ صورتحال کی روشنی میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ پی ٹی آئی کے لئے بڑا بحران اس کی اندرونی صورتحال ہے اور اختلافات کے اثرات نچلی سطح پر بڑھتے نظر آ رہے ہیں جبکہ مستقبل قریب میں کسی بڑے احتجاج کے امکانات کم ہیں جس نے پارٹی لیڈر شپ کو بھی پریشان کر رکھا ہے ،خصوصاً بانی پی ٹی آئی کے لئے کسی ریلیف اور رہائی کے امکانات بھی دکھائی نہیں دے رہے اور یہی وجہ ہے کہ پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی جانب سے عمران خان کی رہائی کے لئے کسی فورس کے قیام کو صورتحال سے توجہ ہٹانے کی ایک سنجیدہ کوشش قرار دیا جا رہا ہے ۔دوسری جانب حکومت کیلئے بھی اپوزیشن چیلنج نہیں کیونکہ اپوزیشن نے حکومت کو ٹارگٹ کرنے کی بجائے ریاست کو چیلنج کر رکھا ہے اور مقتدرہ اور پی ٹی آئی میں جاری غیر اعلانیہ جنگ کے اثرات میں پی ٹی آئی کا کوئی کردار بنتا نظر نہیں آ رہا اور پی ٹی آئی میں موجود مصلحت پسند صورتحال کا ادراک کرتے ہوئے کوئی زیادہ متحرک دکھائی نہیں دے رہے۔
مذکورہ صورتحال کی روشنی میں کہا جا سکتا ہے کہ جب تک پی ٹی آئی کا اندرونی بحران ختم نہیں ہوتا اور جماعت اپنی پالیسی اور طریقہ کار کے حوالے سے یکسو نہیں ہوتی تب تک نہ تو ان کا احتجاج کارگر ہوگا اور نہ ہی انہیں کوئی سیاسی راستہ مل پائے گا ویسے بھی رمضان المبارک کے مہینہ میں احتجاج ممکن نہیں بن پا رہا لہٰذا اب عیدالفطر کے بعد دیکھنا ہوگا کہ پی ٹی آئی کیا لائحہ عمل اختیار کرتی ہے جہاں تک حکومت سے کسی ڈیل کا سوال ہے تو حکومت کے پاس ڈیل کا اختیار نظر نہیں آ رہا اور جہاں تک پی ٹی آئی کے ذمہ داران کسی ‘‘انہونی ’’کی بات کرتے نظر آ رہے ہیں تو فی الحال کسی ‘‘انہونی ’’کے اثرات بھی دور تک نظر نہیں آ رہے ۔