افغانستان:خوارج کے7مراکز تباہ،80دہشتگرد ہلاک:فضائی حملوں میں خارجی مولوی عباس ملا رہبر،مخلص یار،ابراہیم،اور اسلام کے مرکز بھی نشانہ بنائے گئے:سکیورٹی ذرائع
پاکستان نے انٹیلی جنس بیسڈ ایئر سٹرائیکس میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا،افغانستان کی عوامی تحریک قومی مزاحتمی محاذ نے دہشت گردوں کی تباہی کو خوش آئند قرار دیدیا طالبان رجیم دہشتگردی روکنے میں ناکام ، ہم امن کے خواہاں ، مگر اپنی سرزمین، عوام اور وقار پر سمجھوتہ نہیں کرتے ، ضرورت پڑی تو افغانستان میں پھر سٹرائیک کر یں گے :وفاقی وزرا
اسلام آباد ،کابل(مانیٹرنگ ڈیسک ،نیوز ایجنسیاں)پاکستان کی افغانستان میں فضائی کارروائیوں کے دوران 80دہشت گردو ں کے ہلاک اور 7مراکز تباہ ہونے کی تصدیق ہوگئی ۔سکیورٹی ذرائع کے مطابق پاکستان نے انٹیلی جنس بیسڈ ایئر سٹرائیکس میں افغانستان میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا، تین صوبوں ننگر ہار، پکتیکا اور خوست میں فتنہ الخوارج ٹی ٹی پی کے 7 مراکز کو تباہ کیا گیا جس میں 80 سے زائد خارجی مارنے جانے کی تصدیق ہوئی ہے ۔ فتنہ الخوارج کے ٹھکانوں پر فضائی حملوں میں مزید دہشتگردوں کی ہلاکتیں متوقع ہیں ۔ ننگرہار میں نیا مرکز نمبر 1 اور 2 خارجی اسلام اور خارجی ابراہیم مراکز کو نشانہ بنایا گیا۔سکیورٹی ذرائع کے مطابق خوست میں خارجی فتنہ الخوارج کے مولوی عباس مرکز کو نشانہ بنایا گیا جبکہ پکتیکا میں خارجی ملا رہبر اور خارجی مخلص یار کے ٹھکانوں پر حملے کئے گئے ۔افغانستان کی عوامی تحریک قومی مزاحمتی محاذ نے دہشت گردوں کے ٹھکانوں کی تباہی کو خوش آئند قرار دے دیا۔ قومی مزاحتمی محاذ (نیشنل ریزسٹنس فرنٹ )کے سینئر رکن فضل احمد مناوی نے کہا کہ افغان طالبان ایک ظالم گروہ ہے ، ہر ایک ضرب جو ان کے سرپر پڑے خوش آئند ہے ۔
افغانستان اور افغان عوام کے مفادات کو بالاتر رکھتے ہوئے ہم ہر ایسے اقدام کا خیر مقدم کریں گے جو ملک اور عوام کیلئے فائدہ مند ہوں۔افغانستان میں موجود دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں کے خاتمہ کیلئے افغان عوام کی پاکستان کو مکمل حمایت حاصل ہے ۔قومی مزاحتمی محاذ افغانستان طالبان رجیم کیخلاف پاکستانی فضائی کارروائیوں کی مکمل حمایت کررہاہے ۔ پاکستان کی وزارت اطلاعات و نشریات کی جانب سے ایکس پر جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں حالیہ خودکش دھماکوں کے واقعات کے بعد پاکستان کے پاس ٹھوس شواہد موجود ہیں کہ یہ دہشت گرد کارروائیاں شدت پسند افغانستان میں موجود اپنی قیادت اور سرپرستوں کے ایما پر انجام دے رہے ہیں۔وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چودھری نے کہا ہے کہ پاکستان ایک ذمہ دار ریاست ہے جس نے ہمیشہ کوشش کی ہمسایوں سے بہتر تعلقات رکھے ،افغانستان سے بہت عرصے سے دہشت گردی ایکسپورٹ ہورہی ہے ۔ پاکستان اپنے لوگوں کے جان ومال کی تحفظ کے لئے ہرطرح کی کارروائی کرر ہا ہے ، کارروائیاں پاکستان کے اندر بھی جاری ہیں، 70ہزار کے قریب انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کئے گئے جن میں مختلف قسم کے لوگ گرفتار ہوئے اور کئی دہشت گرد ہلاک ہوئے ۔
طلال چودھری نے کہاکہ افغانستان اور ا سکی عبوری حکومت اپنا فرض نبھانا نہیں چاہتے ، دوحہ معاہدے میں افغانستان نے پوری دنیا کو باور کرایا تھا کہ افغان سرزمین کسی کیلئے بھی دہشت گردی کے خلاف استعمال نہیں ہوگی لیکن افغانستان دہشت گردی روکنے میں ناکام رہا۔وفاقی وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چودھری نے کہا ہے کہ پاکستان کے خلاف سازشوں کا جال بننے والوں کو ایک بار پھر واضح پیغام مل چکا ہے ، یہ سرزمین کمزور نہیں، یہ شہدا کے لہو سے مضبوط ہوئی ہے ۔ ایکس پر اپنی ایک پوسٹ میں وفاقی وزیر نے کہا کہ افغانستان میں بھارتی سرپرستی میں پلنے والے فتنہ الخوارج کے ٹھکانوں پر پاک فضائیہ کی بروقت اور موثر کارروائی دراصل ان معصوم جانوں کا بدلہ ہے جو دہشتگردی کی آگ میں جھونک دی گئیں۔ یہ صرف ایک آپریشن نہیں تھا، یہ ہر اس ماں کے آنسوؤں کا جواب تھا جس نے اپنے بیٹے کو وطن پر قربان کیا، یہ ہر اس بچے کے خوابوں کا دفاع تھا جو ایک محفوظ پاکستان چاہتا ہے ۔
ڈاکٹر طارق فضل نے کہا کہ جو بھی پاکستان کو کمزور سمجھنے کی غلطی کرے گا، وہ یاد رکھے ہم امن کے خواہاں ضرور ہیں، مگر اپنی سرزمین، اپنے عوام اور اپنے وقار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرتے ،جو میلی آنکھ سے دیکھے گا، وہ نیست و نابود کر دیا جائے گا، کوئی بچ نہیں پائے گا۔وفاقی وزیر نے کہا کہ یہ وطن ہماری پہچان ہے ، ہماری غیرت ہے ، ہمارا ایمان ہے ۔ پاکستان پہلے بھی تھا، پاکستان آج بھی ہے اور پاکستان ہمیشہ رہے گا۔ سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے کہا ہے کہ افغانستان پاکستان کے تحفظات کا ازالہ کرنے سے انکاری ہے ۔ اپنے حلقہ انتخاب میں عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے ایاز صادق نے کہا کہ امن سے رہیں، اگر کوئی میلی آنکھ سے دیکھے گا تو افواج اس کا دفاع کریں گی ۔
بے گناہ شہریوں پر حملے کرنے والوں سے کوئی رعایت نہیں ہو گی، قوم متحد ہے ، خوارج کے خلاف جنگ میں بھی فتح یاب ہوں گے ۔ پاکستان جنگ نہیں چاہتا، جب جنگ مسلط کی جائے گی تو پھر پاکستان کو جواب دینا بھی آتا ہے ۔وفاقی وزیر قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین نے کہا ہے کہ افغانستان سے دہشت گردی روکنے کی بار بار درخواست کی اب مجبوراً جوابی کارروائی کرنا پڑی ہے اور آئندہ بھی ضرورت پڑی تو افغانستان میں سٹرائیک کر ینگے ۔ رانا فارم ہاؤس پر میڈیا سے گفتگو کے دوران انہوں نے کہا کہ پاکستان میں دوبارہ دہشت گردی کی بنیاد عمران خان نے رکھی اورموجودہ لہر اسی کا شاخسانہ ہے ،پاکستان میں دہشت گردی میں بھارت اور افغانستان ملوث ہیں اور ہماری فورسز ان کا خاتمہ کرکے چھوڑیں گی ۔