رمضان میں ’’ڈیجیٹل اے آئی بھکاریوں ‘‘سے ہوشیار
لاہور(نیٹ نیوز)مصنوعی ذہانت کے اس ڈیجیٹل دور میں رمضان میں آن لائن بھیک مانگنے کے نئے طریقے زور پکڑ رہے ہیں، جن میں اے آئی کا استعمال کیا جا رہا ہے اور اب بھیک مانگنا صرف گلیوں اور سڑکوں تک محدود نہیں رہا بلکہ یہ مکمل طور پر ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے منظم اور سکیل کیا جانے والا کاروبار بن چکا ہے ۔
سوشل میڈیا اور میسجنگ ایپس پر شہریوں سے مدد کے نام پر رقم وصول کرنے والے گروہ نہ صرف جذبات کو بھڑکانے والی پوسٹس شیئر کر رہے ہیں بلکہ بیمار یا ضرورت مند افراد کی جعلی تصاویر، ویڈیوز اور دستاویزات بھی تیار کر رہے ہیں۔خلیج ٹائمز کے مطابق یو اے ای حکام کا کہنا ہے کہ ہر آن لائن اپیل کے پیچھے حقیقی ضرورت مند نہیں ہوتے اور کچھ پوسٹس مکمل طور پر اے آئی کے ذریعے تخلیق کی جاتی ہیں تاکہ عوام کی ہمدردی اور عطیہ دینے کی خواہش کو بھڑکایا جا سکے ۔