نئے صوبے،سندھ اسمبلی کی قرار داد،حکومت کی اتحادی متحدہ،پیپلز پارٹی آمنے سامنے،الزامات
قرارداد آئین کیخلاف ،ہمارے ہوتے سندھو دیش نہیں بن سکتا ، پی پی کی سیاست کا آغاز ادھر ہم ادھر تم ،یہ کیسا انصاف 170سیٹوں والا جیل اور 80والا حکومت میں:خالدمقبول ایم کیو ایم والے آئین سے ناواقف ،وفاقی حکومت وضاحت کرے وزرا سندھ حکومت کیخلاف پراپیگنڈا اور سازش میں کیوں مصروف ؟،عمران کی صحت کیلئے دعا گو ہیں :شرجیل میمن
کراچی (سٹاف رپورٹر،دنیا نیوز، این این آئی)نئے صوبوں کے حوالے سے سندھ اسمبلی میں منظورکی گئی قرار داد پر حکومت کی اتحادی ایم کیوایم اورپیپلزپارٹی آمنے سامنے آگئیں اورا یک دوسرے پر الزامات کی بوچھاڑکردی ،متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے چیئرمین خالد مقبول صدیقی نے کہا ہے کہ سندھ اسمبلی میں آئین کے خلاف قرار داد پیش کی گئی، پیپلز پارٹی نے یہ قرارداد کسی خوف کے سائے میں منظور کی ہے ، ایک صوبہ ایسا کرتا ہے جیسے وہ پاکستان کے آئین سے بالاتر ہے ،وفاق سے ملنے والی رقم لگتا ہے سندھ حکومت عیاشی پر خرچ کرتی ہے ، پیپلز پارٹی سندھ پرقابض ہے اوربھٹو کے نام پر کھاتی اور کماتی ہے ، ہمارے ہوتے ہوئے سندھو دیش نہیں بن سکتا، یہ کیسا انصاف ے 170 سیٹیں لینے والا جیل اور 80 سیٹیں لینے والا حکومت میں ہے۔
جبکہ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا کہ ایم کیو ایم رہنماخالد مقبول صدیقی اور مصطفی کمال کی پریس کانفرنس ان کی کم علمی اور آئین سے ناواقفیت کی واضح علامت ہے ، وہ غیر ذمہ دارانہ بیانات سے گریز کریں، دونوں وفاقی وزیر ہیں اور وفاقی وزیر کی حیثیت سے اس طرح کے بیانات سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آیا یہ وفاقی حکومت کی پالیسی ہے ؟ ہم وفاقی حکومت سے توقع کرتے ہیں کہ وہ وضاحت کرے کہ ان کے دو وفاقی وزرا اور اتحادی جماعت مسلسل سندھ حکومت کے خلاف پراپیگنڈے اور سازش میں کیوں مصروف ہیں۔سید مصطفی کمال اور ڈاکٹر فاروق ستار کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ سندھ اسمبلی میں آئین کے خلاف قرار داد پیش کی گئی ،وفاق سے ملنے والی رقم لگتا ہے سندھ حکومت عیاشی پر خرچ کرتی ہے ، پیپلز پارٹی بھٹو کے نام پر کھاتی اور کماتی ہے ،پیپلزپارٹی کی سیاست کا آغاز ادھر تم ادھر ہم سے ہوا، ہمارے ہوتے ہوئے سندھو دیش نہیں بن سکتا، یہ کیسا انصاف ہے 170 سیٹیں لینے والا جیل اور 80 سیٹ لینے والا حکومت میں ہے ۔
ایک اسمبلی میں پاکستان کے آئین کے خلاف قرارداد منظور ہوئی، تمام مکاتب فکر سے سوال ہے کیا کوئی بھی پاکستان کے آئین کے خلاف کوئی قرارداد منظور کرسکتا ہے ، ایم کیو ایم پاکستان سے محبت کرنے والی جماعت ہے ، صوبے اس کے حصے ہیں، پاکستان کی تاریخ 1947 سے شروع ہوتی ہے ، ہمارے ہوتے ہوئے سندھو دیش کا خواب خواب ہی رہے گا ۔ ایک مصنوعی اکثریت رکھنے والی جماعت نے سندھ پر قبضہ کیا ہوا ہے ، جعلی مردم شماری کے ذریعے پیپلز پارٹی قابض ہے ، پلاننگ کمیشن کی رپورٹ میں سب سے زیادہ غربت بڑھنے کی شرح سندھ میں ہے ۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں آئین زندہ دستاویز ہے اس پر مکمل عمل کیا جائے ۔ آئین کا آرٹیکل (4)239 نئے صوبے بنانے کی اجازت دیتا ہے ، پیپلز پارٹی اپنے ہی بانی کے آئین سے بیوفائی کر رہی ہے ، اپنے ہی میئر کو اختیارات دینے پر تیار نہیں۔ کراچی کی آبادی کو 37 فیصد کم گنا گیا۔فوج کی نگرانی میں مردم شماری کرائی جائے ،ایم کیو ایم کا کوئی اقدام ملک کے خلاف نہیں، بانی ایم کیو ایم نے ایک نعرہ لگایا ہم نے اس کو چھوڑ دیا، ہمارے لیے سب سے پہلے پاکستان ہے ۔ وفاق سے سندھ کو 30 ہزار ارب روپے ملے ہیں، ان 30 ہزار ارب میں سے آدھے تو کراچی کو ملنے چاہئیں تھے ۔ پیپلز پارٹی کی منافقت یہ کہ جنوبی پنجاب اور ہزارہ صوبے کی حامی لیکن سندھ میں مخالف ہے ۔
ایم کیو ایم رہنماؤں کی پریس کانفرنس پر ردعمل میں سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا کہ خالد مقبول صدیقی اور مصطفی کمال کی پریس کانفرنس ان کی کم علمی اور آئین سے ناواقفیت کی واضح علامت ہے ، دونوں وفاقی وزیر ہیں اور وفاقی وزیر کی حیثیت سے اس طرح کے بیانات سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آیا یہ وفاقی حکومت کی پالیسی ہے ؟ ہم وفاقی حکومت سے توقع کرتے ہیں کہ وہ وضاحت کرے ، گورنر ہاؤس آئینی منصب کی علامت ہے ، اسے سیاسی محاذ آرائی یا صوبائی حکومت کے خلاف سرگرمیوں کا مرکز نہیں بننا چاہیے ۔ انہوں نے کہا عمران خان کی رہائی کا معلوم نہیں کب ممکن ہو گی۔ رمضان کے مہینے میں ان کی صحت اور طویل عمری کے لیے دعا گو ہوں، ان کی رہائی کا دارومدار ان کے رویے پر ہے ، گورنر ہاؤس میں متنازع باتیں نہیں ہونی چاہئیں، فاروق ستار اپنے لیول کے مطابق بات کریں، وہ ایک مسکین آدمی ہیں، سنا ہے مصطفی کمال اور خالد مقبول صدیقی کی صلح ہو گئی ہے ۔ دو جماعتوں کے درمیان وعدے ہوئے جن میں سے کتنے پورے ہوئے ن لیگ کی لیڈر شپ کو سوچنا چاہیے ۔