بلوچستان : دہشتگردوں کے حملے، 3 ایف سی اہلکار، 6 شہری شہید، ڈی آئی خان میں 4 خوراج ہلاک
کرک میں دہشتگردوں کا ایف سی قلعہ پر کواڈکاپٹرڈرون حملہ ،زخمی اہلکاروں کو ہسپتال لے جانے والی ایمبولینسزپرفائرنگ پنجگو رمیں شہریوں پر فائرنگ ،2گاڑیاں جلادیں ،سکیورٹی فورسزکاڈی آئی خان میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن ،اسلحہ بھی برآمد
راولپنڈی ،اسلام آ باد ،پشاور،پنجگور (خصوصی نیوز رپورٹر،سٹاف رپورٹر ،نامہ نگار،مانیٹرنگ ڈیسک ،نیوزایجنسیاں)صوبہ بلوچستان کے ضلع کرک میں دہشت گردوں نے ایف سی قلعہ پر کواڈ کاپٹر ڈرون حملہ کردیا جس سے 5 اہلکار زخمی ہوگئے جبکہ زخمیوں کو ہسپتال منتقل کرنیوالی ایمبولینس پر فائرنگ سے 3اہلکار شہید ہوگئے ۔ضلع پنجگو ر کے علاقے چیدگی میں دہشت گردوں کی فائرنگ سے 6شہری شہیدہوگئے ۔سکیورٹی فورسز نے ڈیرہ اسماعیل خان میں کارروائی کے دوران 4خوارج کو ہلاک کردیا۔ تفصیلات کے مطابق ضلع کرک کے علاقے بہادر خیل میں درگہ شہیدان کے قریب فرنٹیئر کور (ایف سی)کے قلعے پر فتنہ خوارج نے کواڈ کاپٹر ڈرون سے حملہ کیا جس کے نتیجے میں پانچ اہلکار زخمی ہوئے۔
ڈی پی او کرک سعود خان کے مطابق زخمی اہلکاروں کو ایمبولینسز میں ہسپتال منتقل کیاجارہاتھاکہ غول بانڈہ کے مقام پر دہشت گردوں نے اندھا دھند فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں ایف سی کے 3 زخمی جوان شہید ہو گئے جبکہ ریسکیو 1122 کے دو اہلکاروں سمیت پانچ افراد زخمی ہوئے ، ایمبولینس گاڑیاں بھی جل کر تباہ ہو گئیں۔ایف سی قلعہ پر حملے میں حوالدار صابر، سپاہی آمین، سپاہی زوہیب، سپاہی مراد گل اور سپاہی یوسف زخمی ہوئے تھے جبکہ ایمبولینسز پرفائرنگ سے سپاہی آمین، سپاہی مراد گل اور لانس نائیک عادل خان شہید ہو گئے ،بعدازاں زخمی اہلکاروں کو خلیفہ گل نواز ہسپتال بنوں منتقل کر دیا گیا ۔
ضلع پنجگور سے 60کلومیٹر دور چیدگی کے علاقے میں دستک کے مقام پر دہشت گردوں کی فائرنگ سے 6 افراد شہید ہوگئے ، حملہ آوروں نے وہاں کھڑی دو گاڑیاں بھی نذرآتش کردیں اورفرار ہوگئے ،شہید افراد میں سے دو افراد کی شناخت داؤد اور سالم کے ناموں سے ہوئی ہے جو سرحدی گاؤں نکر کے رہائشی ہیں۔صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں سکیورٹی فورسز نے کارروائی کرکے 4خوارج کوہلاک کردیا ۔آئی ایس پی آر کے مطابق سکیورٹی فورسز نے بھارتی پراکسی کے فتنہ الخوارج سے تعلق رکھنے والے شرپسندوں کی موجودگی کی اطلاع پر ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیا، اور دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر مؤثر طریقے سے کارروائی کی، شدید فائرنگ کے تبادلے کے بعد 4 خوارج مارے گئے ۔
ہلاک ہونے والے فتنہ الہندوستان کے خوارج سے اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد ہوا جو علاقے میں دہشت گردی کی متعدد کارروائیوں میں سرگرم رہے ۔صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے کرک میں ایف سی قلعہ اور ایمبولینس پر حملے کی شدید مذمت کی اور حملے میں اہلکاروں کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے لواحقین سے دلی تعزیت کی ۔انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں کے ایمبولینس پر فائرنگ جیسے بزدلانہ اقدامات قومی عزم کو متزلزل نہیں کر سکتے ۔وزیراعظم شہباز شریف کا کہناتھاکہ عزم استحکام کے ویژن کے تحت سکیورٹی فورسز دہشت گردی کے خلاف بڑی کامیابیاں حاصل کر رہی ہیں،دہشت گردی کی اس جنگ میں پوری قوم افواج پاکستان کے ساتھ کھڑی ہے ۔ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہاکہ ایمبولینسوں کو نشانہ بنانا بدترین درندگی اور سفاکیت ہے ،قوم ان بہادر جوانوں کی مقروض ہے جنہوں نے ملک کی خاطر جانیں نچھاور کیں،شہدائکے خاندان ہمارے سر کے تاج ہیں، ریاست ان کے ساتھ ہمیشہ کھڑی رہے گی۔