حلقہ بندیاں الیکشن کمیشن کا اختیار،حکومت یونین کونسلز تعین کی مجاز:اسلام آباد لوکل گورنمنٹ آرڈیننس میں ترمیم تجویز
یونین کونسلز کی حدود کے تعین یا انضمام بارے حکومتی فیصلے سے متعلق شقیں حذف، بزنس مین یا تاجر کی مکمل تعریف شامل کی جائے حکومت انتخابی شیڈول کے بعد حدود میں تبدیلی نہیں کر سکے گی، نئی ٹاؤن کارپوریشنز کی تشکیل تک ایم سی آئی فعال:الیکشن کمیشن سفارشات
اسلام آباد (ایس ایم زمان)الیکشن کمیشن پاکستان نے اسلام آباد کیپٹل ٹیریٹری لوکل گورنمنٹ (ترمیم)آرڈیننس 2026میں قانونی سقم دور کرنے کیلئے وزارت داخلہ کو سیکشن 4 اور 6 میں ترامیم تجویز کر دیں۔ الیکشن کمیشن کے مطابق وفاقی حکومت صرف یونین کونسلز کی تعداد کا تعین اور نوٹیفکیشن جاری کرنے کی مجاز جبکہ حلقہ بندیاں الیکشن کمیشن کے اختیارات ہیں۔ آئین کے آرٹیکل 222 (b) اور الیکشن ایکٹ کے سیکشن 17 اور 221 کے تحت حلقہ بندی کرنا صرف الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے ۔ کمیشن نے سفارشات و تجاویز دیں کہ آرڈیننس سے ایسی تمام شقیں حذف کی جائیں جن کے تحت حکومت خود یونین کونسلز کی حدود کا تعین یا انضمام کا فیصلہ کرتی ہے ۔
الیکشن کمیشن نے تجویز دی کہ حلقہ بندیوں کا عمل شروع ہونے اور انتخابی شیڈول کے اعلان کے بعد حکومت کسی ٹاؤن یا یونین کونسل کی حدود میں تبدیلی نہیں کر سکے گی۔ دستاویزات کے مطابق ایوان میئر، دو ڈپٹی میئرز، یو سی چیئرمینوں، خواتین، مزدور، نوجوان اور اقلیتی نمائندوں پر مشتمل ہوگا۔آرڈیننس میں پہلی بار تاجربزنس مین کیلئے ایک نشست رکھی گئی ہے ۔الیکشن کمیشن نے اعتراض کیا کہ آرڈیننس میں بزنس مین یا تاجر کی واضح قانونی تعریف درج نہیں، انتخابات سے قبل تاجر، بزنس مین کی مکمل تعریف قانون میں شامل کی جائے تاکہ اہلیت کے معیار پر تنازع پیدا نہ ہو۔ الیکشن کمیشن کے مطابق آرڈیننس کے سیکشن 4(7) کے تحت یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ جب تک نئی ٹاؤن کارپوریشنز مکمل طور پر تشکیل نہیں پا لیتیں موجودہ میٹروپولیٹن کارپوریشن اسلام آباد اپنے فرائض اور اختیارات کا استعمال جاری رکھے گی۔