27ویں ترمیم ،وفاق نے جواب جمع کرانے کیلئے مہلت مانگ لی

27ویں ترمیم ،وفاق نے جواب جمع  کرانے کیلئے مہلت مانگ لی

کراچی (سٹاف رپورٹر)سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ میں 27 ویں آئینی ترمیم کے خلاف دائر مختلف درخواستوں کی سماعت کے دوران وفاقی حکومت نے تحریری جواب جمع کرانے کے لیے مہلت طلب کرلی، جس پر عدالت نے مزید سماعت 31 مارچ تک ملتوی کردی۔

 سماعت کے آغاز پر سرکاری وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ 27 ویں آئینی ترمیم کا معاملہ پہلے ہی سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے ، لہٰذا جواب جمع کرانے کے لیے مہلت دی جائے ۔ درخواست گزار کے وکیل ابراہیم سیف الدین ایڈووکیٹ نے مؤقف اختیار کیا کہ سپریم کورٹ کو اب اس معاملے کی سماعت کا اختیار حاصل نہیں۔ اس پر عدالت نے ریمارکس دیئے کہ یہ آپ کہہ سکتے ہیں، ہم نہیں کہہ سکتے ۔ ابراہیم سیف الدین ایڈووکیٹ نے کہا کہ 27 ویں آئینی ترمیم عدلیہ کی آزادی پر حملہ ہے ۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ وفاقی آئینی عدالت کے لیے سپریم کورٹ کے فیصلوں کا اطلاق نہ ہونا عدالتی ریکارڈ کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کے مترادف ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ اسلام میں تاحیات استثنیٰ کا کوئی تصور موجود نہیں اور آئین میں ایسی کوئی ترمیم اسلامی اصولوں سے متصادم نہیں ہونی چاہیے ۔ وکیل درخواست گزار نے مزید کہا کہ سپریم کورٹ متعدد فیصلوں میں قرار دے چکی ہے کہ آئین کے بنیادی خدوخال تبدیل نہیں کیے جا سکتے ۔ ان کے مطابق اسلامی خدوخال، وفاقیت اور عدلیہ کی آزادی آئین کے بنیادی ڈھانچے کا حصہ ہیں اور انہیں کسی ترمیم کے ذریعے متاثر نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے عدالت کے روبرو یہ سوال بھی اٹھایا کہ اگر پارلیمنٹ کوئی غیر اسلامی ترمیم منظور کر دے تو کیا اسے کسی عدالت میں چیلنج نہیں کیا جا سکے گا؟ ان کا کہنا تھا کہ آئین کے آرٹیکل 227 کے تحت اسلامی احکامات کے منافی کوئی قانون سازی یا ترمیم نہیں کی جا سکتی۔ عدالت نے وفاقی حکومت کو تحریری جواب جمع کرانے کی مہلت دیتے ہوئے سماعت 31 مارچ تک ملتوی کردی۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں