انصاف تک مساوی اور باوقار رسائی ریاست کی آئینی ذمہ داری : چیف جسٹس

انصاف تک مساوی اور باوقار رسائی ریاست کی آئینی ذمہ داری : چیف جسٹس

خواتین، کمزور سائلین اور پسماندہ طبقات کے لیے ویمن فیسیلیٹیشن سینٹرز کو ادارہ جاتی شکل دینے پر اتفاق عدالتوں میں سولرائزیشن، ای لائبریریوں اور خواتین کیلئے مخصوص جگہوں کی فراہمی پر کام جاری:اجلاس کااعلامیہ

اسلام آباد(کورٹ رپورٹر)چیف جسٹس آف پاکستان کی زیرِ صدارت بار کونسلز کے نمائندوں کا اعلیٰ سطح کا مشاورتی اجلاس منعقدہوا،جس میں پاکستان بار، صوبائی بار کونسلز اور سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی قیادت نے شرکت کی،اس موقع پربارنمائندگا ن سے گفتگو کرتے ہوئے چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحیی آفریدی نے کہا کہ انصاف تک مساوی اور باوقار رسائی ریاست کی آئینی ذمہ داری ہے، عدلیہ اس مقصد کے حصول کے لئے بار کے ساتھ مل کر جامع اور پائیدار اصلاحات پر عمل پیرا ہے۔

اعلامیہ کے مطابق اجلاس کا مقصد انصاف تک رسائی اور قانونی بااختیاری کے لیے اصلاحات کو آگے بڑھانا ہے، اجلاس میں ڈسٹرکٹ لیگل ایمپاورمنٹ کمیٹیوں کی مضبوطی اور مفت قانونی امداد کے دائرہ کار کو پھیلانے پر غور کیاگیا ،خواتین، کمزور سائلین اور پسماندہ طبقات کے لیے ویمن فیسیلیٹیشن سینٹرز کو ادارہ جاتی شکل دینے پر اتفاق کیا گیا، چیف جسٹس نے شرکاء کو 2025-26 کے ریفارمز پورٹ فولیو کے تحت جاری فنڈز اور ترجیحی شعبوں پر بریفنگ دی،ملک بھر کی عدالتوں میں سولرائزیشن، ای لائبریریوں اور خواتین کے لیے مخصوص جگہوں کی فراہمی پر کام جاری ہے۔

اعلامیہ کے مطابق اجلاس میں بینچ اور بار کے لیے بنیادی سہولیات کی فراہمی اگست 2026 کے آخر تک مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا، سال 2026-27 کے ایجنڈے میں جوڈیشل کمپلیکسز کے اندر ویمن فیسیلیٹیشن سینٹرز کی اپ گریڈیشن شامل ہے ، بار کونسلز کی مفت قانونی امداد کو ڈسٹرکٹ لیگل ایمپاورمنٹ کمیٹیوں کے ساتھ منسلک کیا جائے گا، سپریم کورٹ میں نامزد وکلاء قانونی مشورہ کے لیے ہیلپ لائن قائم کی جائے گی، فیڈرل جوڈیشل اکیڈمی نوجوان وکلاء کے لیے 10 ماڈیولز پر مشتمل آن لائن ووکیشنل کورس تیار کر رہی ہے ،وکلاء کے لیے آن لائن تربیتی کورس مئی 2026 کے پہلے ہفتے میں دستیاب ہوگا،قوانین پر نظرثانی کے لیے بار کی نمائندگی کے ساتھ مختلف شعبوں میں مشاورتی کمیٹیاں تشکیل دے دی گئیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں