عمران خان کا علاج ، چیف جسٹس نوٹس لیں:اسیر پی ٹی آئی رہنما

عمران خان کا علاج ، چیف جسٹس نوٹس لیں:اسیر پی ٹی آئی رہنما

حکومت میں تھے تو نواز شریف کو بہترین طبی سہولیات فراہم کیں،شاہ محمود، یاسمین بانی پی ٹی آئی کے علاج کے حقوق پامال کیے گئے ، اعجاز چودھری، عمر سرفراز چیمہ کا بیان

لاہور(کورٹ رپورٹر)کوٹ لکھپت جیل میں قید پی ٹی آئی رہنماؤں نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کی صحت سے متعلق فیملی کو اطلاع نہ دینے اور بروقت علاج نہ کروانے پر چیف جسٹس پاکستان سے نوٹس لینے کا مطالبہ کردیا، پی ٹی آئی رہنما شاہ محمود قریشی، ڈاکٹر یاسمین راشد، اعجاز چودھری، عمر سرفراز چیمہ نے اپنے وکیل مدثر عمر کے ذریعے بیان جاری کردیا،بیان میں کہا گیا ہے کہ عمران خان کو علاج کے معاملے میں ہر سطح پر رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور اہلِ خانہ کو رسائی نہیں دی گئی، 2019 میں نواز شریف کو پلیٹ لیٹس کم ہونے کے باعث سروسز ہسپتال منتقل کیا گیا تھا ، اُس وقت ہم حکومت میں تھے اور ہم نے یقینی بنایا کہ اُنہیں اُن کی بیماری کے مطابق بہترین طبی سہولیات فراہم کی جائیں، اس دوران نواز شریف کے ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان میڈیکل بورڈ کے تمام اجلاسوں میں شریک رہے، بیان میں مزید کہا گیا کہ نواز شریف کو یہ پیشکش بھی کی کہ اگر وہ اپنی مرضی کے کسی اور ڈاکٹر کو شامل کرنا چاہیں تو ہم اُس کا بھی انتظام کریں گے ، نواز شریف کے اہلِ خانہ اور ان کے قانونی مشیر کو اُن تک مکمل رسائی حاصل تھی، اگر نواز شریف سے اس حوالے سے خود پوچھا جائے تو وہ ان حقائق کی تردید نہیں کریں گے، بعد میں نواز شریف کو برطانیہ جانے کی اجازت دی گئی کیونکہ وہ اپنے دل کی بیماری کا علاج وہیں کروانا چاہتے تھے، جبکہ بانی جو اس ملک کے وزیرِاعظم بھی رہ چکے ہیں، اُن کے علاج کے معاملے میں ہر سطح پر رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ، موجودہ حکومت کی جانب سے خفیہ طرزِ عمل اختیار کیا گیا ، پہلے بانی کی بیماری کو تسلیم نہیں کیا گیا، جب پمز سے بانی کی سی آر وی او کی خبر منظرِ عام پر آئی تو حکومت کی جانب سے نامناسب بیانات دئیے گئے ، ان کے علاج کے حقوق پامال کیے گئے اور اہلِ خانہ کو رسائی نہیں دی گئی،پی ٹی آئی رہنماؤں نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ بانی کے وکیل اور ذاتی ڈاکٹر کو ملاقات کی اجازت دی گئی، دوسرے انجکشن کیلئے لے جایا گیا مگر اہلِ خانہ کو بروقت اطلاع نہیں دی گئی، انجکشن لگوانے کے بعد انہیں دوبارہ جیل منتقل کر دیا گیا،پی ٹی آئی چیئرمین گوہر علی خان کو رات دو بجے پیغام موصول ہوا کہ بانی پی ٹی آئی کو دوسرا انجکشن لگا دیا گیا ہے ، حکومت کو اپنے رویے پر شرمندہ ہونا چاہیے ، اور یہ طرزِ عمل ناقابلِ قبول ہے ، یہ فارم 47 کی حکومت سیاسی استحکام نہیں چاہتی کیونکہ وہ الیکشن جیت کر نہیں آئے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں