ٹیکس حکام بغیرنوٹس کسی وقت ،کہیں بھی چھاپہ مارسکتے، آئینی عدالت
پارلیمنٹ نے وسیع اختیارات دیئے ، عدالت شرط نہیں لگا سکتی:فیصلہ اسلامی معاشرہ میںلڑکی کو بھگا کر شادی کی اجازت ؟ جسٹس حسن اظہر، قبر کشائی کیخلاف درخواست مسترد
اسلام آباد (حسیب ریاض ملک) جسٹس عامر فاروق کا ٹیکس چھاپوں سے متعلق اہم فیصلہ جاری، وفاقی آئینی عدالت نے بغیر کیس چھاپہ غیر قانونی ہونے کی دلیل مسترد کر دی۔ وفاقی آئینی عدالت نے فیصلہ جاری کرتے ہوئے کہا ٹیکس حکام کسی بھی وقت، بغیر پیشگی نوٹس کسی بھی جگہ چھاپہ مار سکتے ہیں، چھاپہ مارنے کیلئے ٹیکس دہندہ کے خلاف پہلے سے کوئی کیس چلنا ضروری نہیں، پارلیمنٹ نے ٹیکس حکام کو قانون کے نفاذ کیلئے وسیع اختیارات دیئے ہیں، عدالت قانون میں اپنی طرف سے کوئی ایسی شرط نہیں لگا سکتی جو پارلیمنٹ نے نہیں لکھی، کمشنر کو تحریری طور پر بتانا ہوگا کس قانون کی خلاف ورزی پر چھاپہ مارا جا رہا ہے ۔ ٹیکس حکام کمپیوٹر، دستاویزات اور اکاؤنٹس قبضے میں لینے کے مکمل مجاز ہیں۔ ادھر وفاقی آئینی عدالت نے لاپتہ افراد کیس میں اپیلیں سماعت کیلئے منظور کرتے ہوئے اسلام آباد ہائیکورٹ کو سیکرٹری دفاع کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی سے روک دیا۔
سیکرٹری داخلہ، چیف کمشنر اسلام آباد اور ایس ایچ او تھانہ گولڑہ کے خلاف کارروائی پر حکم امتناع جاری کیا گیا۔ چیف جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے سماعت کی۔ جسٹس باقر نجفی نے استفسار کیا افسران کے خلاف کارروائی کا حکم کس بنیاد پر دیا گیا، کیا یہ تعین ہو چکا تھا کہ لاپتہ شخص سرکاری تحویل میں ہے ؟ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا لاپتہ شخص کے اہلخانہ نے عدالت میں بیانِ حلفی دیا تھا کہ وہ سرکاری تحویل میں ہے ، متعلقہ افسران نے جوابی حلف نامے جمع کرائے کہ لاپتہ شخص سرکاری تحویل میں نہیں۔ ہائیکورٹ نے حبسِ بیجا کیس میں افسران کے خلاف محکمانہ کارروائی کا حکم دیا اور عملدرآمد نہ ہونے پر توہینِ عدالت کی کارروائی شروع کی۔ عدالت نے فریقین کو نوٹسز جاری کر کے سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی۔ یاد رہے ہائیکورٹ نے ساجد الرحمان کی سرکاری تحویل سے رہائی اور افسران کے خلاف کارروائی کا حکم دیا تھا۔ وفاقی آئینی عدالت نے مقتولہ مسرت بی بی کی قبر کشائی کے خلاف شوہر کی دائر درخواست مسترد کرتے ہوئے ہائیکورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا ۔
جسٹس حسن اظہر رضوی کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے سماعت کی۔ مقتولہ کے شوہر محمد علی کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ یہ اسلامی معاشرہ ہے ، مقتولہ اہلیہ کی قبر کشائی کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے ۔ جسٹس حسن اظہر نے ریمارکس دیئے کہ کیا اسلامی معاشرہ یہ اجازت دیتا ہے کہ لڑکی کو بھگا کر شادی کر لی جائے ؟ مقتولہ کی والدہ زبیدہ بی بی اپنی بیٹی کی قبر کشائی چاہتی ہیں کیونکہ انہیں شبہ ہے کہ ان کی بیٹی کو شوہر نے قتل کیا ۔ کیا شوہر میں اتنی انسانیت نہیں تھی کہ تدفین سے قبل والدہ کو آگاہ کرتا۔ عدالت نے درخواست خارج کر دی۔ دریں اثنا وفاقی آئینی عدالت نے واپڈا کے ڈاکٹر ملازم کے تبادلے کے کیس میں واپڈا کو نوٹس جاری کر کے آئندہ سماعت پر قانونی نکات پر جواب طلب کر لیا۔ جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیئے کہ ڈاکٹر طارق کے خلاف کرپشن، لاپروائی یا کوتاہی کی کوئی شکایت ریکارڈ پر نہیں۔ کیا سزا کیلئے ڈاکٹر کو حیدرآباد سے چترال منتقل کیا گیا؟ تبادلے کی کوئی معقول وجہ ہے ؟ انہوں نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کیا ڈاکٹر کی محکمہ کو شکل اچھی نہیں لگتی کہ دور دراز علاقے میں بھیج دیا گیا۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا قانونی سوال ہے کہ ڈاکٹر براہ راست ہائیکورٹ سے رجوع کر سکتے تھے یا نہیں؟ محکمہ جاتی اقدام کے خلاف سروس ٹربیونل سے رجوع کرنا چاہیے تھا۔ مزید سماعت بعد میں مقرر کی جائے گی۔