پنجاب اسمبلی:بچوں کی شادی پر پابندی سمیت 4 اہم آرڈیننس پیش

پنجاب اسمبلی:بچوں کی شادی پر  پابندی سمیت 4 اہم آرڈیننس پیش

لاہور(سیاسی نمائندہ)پنجاب اسمبلی میں 4 اہم آرڈیننس پیش کر دئیے گئے جنہیں مزید غور و خوض کیلئے متعلقہ قائمہ کمیٹیوں کے سپرد کر دیا گیا۔ کمیٹی رپورٹس کے بعد انہیں ایوان سے منظور کرواکر باقاعدہ قانون کی شکل دی جائے گی۔

ایوان میں پیش کیے گئے آرڈیننسز میں بچوں کی شادی پر پابندی آرڈیننس 2026، غیر منقولہ جائیداد کا ملکیتی تحفظ (ترمیمی) آرڈیننس 2026، پنجاب لینڈ ریونیو (ترمیمی)آرڈیننس 2026 اور پنجاب عوامی اشیاء و انفراسٹرکچر کا تحفظ آرڈیننس2026 شامل ہیں۔ بچوں کی شادی پر پابندی کے آرڈیننس کے تحت صوبے میں اٹھارہ سال سے کم عمر بچوں کی شادی پر مکمل پابندی عائد کی جائے گی۔ آرڈیننس کے مطابق نکاح کے وقت دولہا اور دلہن دونوں کی عمر کم از کم اٹھارہ سال ہونا لازمی قرار دی گئی ہے ۔ کم عمری کی شادی کو قابلِ سزا جرم قرار دیتے ہوئے فوجداری کارروائی کی جائے گی۔کم عمری کا نکاح رجسٹر کرنے والے نکاح رجسٹرار اور نکاح خواں کو کم از کم ایک سال قید اور ایک لاکھ روپے جرمانہ کی سزا ہو سکے گی۔

پنجاب عوامی اشیاء و انفراسٹرکچر کے تحفظ کے آرڈیننس کے تحت مین ہول کورز، سٹریٹ لائٹس اور دیگر سرکاری تنصیبات کو نقصان پہنچانے پر قید اور جرمانے کی سزائیں مقرر کی گئی ہیں۔سرکاری تنصیبات کی چوری پرایک سے تین سال قید اور دو لاکھ سے تیس لاکھ روپے تک جرمانہ عائد کیا جا سکے گا، جبکہ بغیر اجازت تنصیبات اتارنے یا ان کی خرید و فروخت پر بھی ایک سے تین سال قید اور پانچ لاکھ سے تیس لاکھ روپے تک جرمانے کی سزا تجویز کی گئی ہے ۔پنجاب لینڈ ریونیو (ترمیمی)آرڈیننس کے مطابق اراضی انتقال کے لیے ای رجسٹریشن سسٹم متعارف کرایا گیا ہے اور زمین کے تمام انتقال ڈیجیٹل کیے جائیں گے ۔آرڈیننس کے تحت اراضی سے متعلق مقدمات میں صرف بورڈ آف ریونیو کو لوئر کورٹ میں ریمانڈ کرنے کا اختیار ہوگا، جبکہ پٹواری کو صرف وراثتی انتقال تک محدود اختیار دیا گیا ہے ۔غیر منقولہ جائیداد کا ملکیتی تحفظ (ترمیمی) آرڈیننس کے تحت غیر قانونی یا دھوکے سے قبضہ کرنے والوں کو دس سال تک قید کی سزا دی جا سکے گی۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں