امریکا، اسرائیل کے حملے، ایران کا جواب، مشرق وسطیٰ میں جنگ کے شعلے ، خامنہ ای زندہ نہیں بچے : ٹرمپ، نیتن یاہو کا دعویٰ، وہ جنگ کے میدان میں ہیں، حملوں میں 85 طالبات سمیت 200 شہری شہید : ایرانی میڈیا

امریکا، اسرائیل کے حملے، ایران کا جواب، مشرق وسطیٰ میں جنگ کے شعلے ، خامنہ ای زندہ نہیں بچے : ٹرمپ، نیتن یاہو کا دعویٰ، وہ جنگ کے میدان میں ہیں، حملوں میں 85 طالبات سمیت 200 شہری شہید : ایرانی میڈیا

علی خامنہ ای کے بیٹے اور بہو شہید ہو ئے : ایرانی سفارتخانہ ، پاسداران انقلاب کے سربراہ اور وزیر دفاع بھی مارے گئے ، 200طیاروں کے ساتھ اپنی تاریخ کا سب سے بڑا فضائی حملہ کیا : اسرائیلی فوج

تہران (نیوز ایجنسیاں )امریکا اور اسرائیل نے ہفتے کو ایران پر بڑا حملہ کر دیا ہے ۔امریکا نے حملوں کو آپریشن ایپک فیوری کا نام دیا ۔ایران کی پاسداران انقلاب نے بھی جوابی کارروائی کرتے ہوئے اسرائیل اور مختلف خلیجی ممالک میں امریکی فوجی اڈوں کی طرف میزائل داغے ہیں۔صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حملوں کا اعلان کرتے ہوئے کہا: ایران کی حکومت کو ختم کرنے کا وقت آ گیا ہے۔ ایرانی عوام! ابھی اپنی حکومت پر قبضہ کر لو اور اپنی قسمت خود لکھو! حملوں میں تہران، اصفہان، قم، کرج، کرمانشاہ، تبریز، شیراز، میناب اور چابہار سمیت ایران کے 9 بڑے شہروں کو نشانہ بنایا گیا۔ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے کمپاؤنڈ اور اعلیٰ فوجی قیادت کے ٹھکانوں پر براہ راست حملے کیے گئے۔

اسرائیلی فوج کے مطابق ایران کے فوجی اہداف پر تقریباً 200 لڑاکا طیاروں نے حصہ لیا، جسے انہوں نے اپنی فضائیہ کی تاریخ کا سب سے بڑا حملہ قرار دیا۔بیان میں مزید کہا گیا: لڑاکا طیاروں نے سینکڑوں گولہ باری کی، تقریباً 500 اہداف کو نشانہ بنایا، جن میں فضائی دفاعی نظام اور میزائل لانچر شامل ہیں۔ ایرانی سرکاری ٹی وی کے مطابق200سے زائد شہری اور فوجی شہید اور درجنوں زخمی ہوئے۔ جن میں 85طالبات شامل ہیں ۔تہران کے آسمان پر گھنے دھواں کے بادل چھا گئے۔ ایران نے فوری جوابی کارروائی کی۔ سیکڑوں بیلسٹک میزائلوں اور شہد ڈرونز سے حملہ کیاگیا ۔ جس میں اسرائیل کے دارالحکومت تل ابیب اور دیگر بڑے شہروں کو نشانہ بنایا۔

جبکہ بحرین ، قطر کے العدید ایئر بیس (دوحہ کے قریب - مشرق وسطیٰ کا سب سے بڑا امریکی اڈا)، متحدہ عرب امارات میں ابو ظہبی ،دبئی ، کویت، سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض ، اردن اور عراق کے شہر اربیل میں امریکی فوجی اڈوں پر بھی حملہ کیا گیا ۔ایرانی پاسدران انقلاب نے دعویٰ کیا کہ خطے میں موجود امریکا کے 14 اڈوں کو نشانہ بنایا گیا جس میں سیکڑوں امریکی فوجی ہلاک ہوگئے ، جن میں بحرین میں تعینات امریکی بحریہ کا ففتھ فلیٹ بھی شامل ہے ۔ جنوبی شام کے شہر سویدا میں ایک صنعتی عمارت پر میزائل حملے کے نتیجے میں چار افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہو گئے ۔ مزید برآں یمن کے حوثیوں نے اسرائیل اور سمندری راستے پر جہازوں پر حملے شروع کر دئیے ۔ 

واشنگٹن (نیوز ایجنسیا ں )اسرائیل کے وزیر اعظم نیتن یاہو نے دعویٰ کیا ہے کہ اس بات کا قومی امکان ہے کہ ایران کے رہبر اعلیٰ خامنہ ای اب نہیں رہے ہیں جبکہ ایرانی خبر ایجنسیوں تسنیم اور مہر کا کہنا ہے کہ آیت اللہ علی خامنہ ای زندہ اور جنگ کے میدان میں ہیں ، وہ خود صورتحال کی نگرانی کر رہے ہیں۔ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق سپریم لیڈر کے دفتر کے شعبئہ تعلقاتِ عامہ کے سربراہ نے کہا ہے : دشمن نفسیاتی جنگ کا سہارا لے رہا ہے ، سب کو ہوشیار رہنا چاہیے۔ اسرائیل کے دو ٹیلی ویژن نیٹ ورکس نے رپورٹ کیا ہے کہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی لاش کی ایک تصویر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو کو دکھائی گئی۔ اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ اس نے 7 اعلیٰ ایرانی اہلکاروں کو ہلاک کر دیا ہے ، جن میں پاسداران انقلاب کے سربراہ جنرل محمد پاکپور، سینئر مشیرعلی شمخانی اور وزیر دفاع عزیز نصیرزادہ شامل ہیں۔

اسرائیلی فوج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل ایفّی ڈیفرن نے بعض ہلاک شدہ افراد کی تصاویر بھی دکھائیں۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی نشریاتی ادارے کو بتایا کہ علی خامنہ ای کے مارے جانے کی اطلاع درست لگتی ہے ۔ جب پوچھا گیا کہ خامنہ ای کی جگہ کون آئے گا، ٹرمپ نے این بی سی کو جواب دیا:"میں نہیں جانتا، لیکن کسی وقت وہ مجھے کال کریں گے اور پوچھیں گے کہ میں کس کو چاہوں گا… جب میں یہ کہتا ہوں تو تھوڑا سا طنز کر رہا ہوں۔ ٹرمپ نے اے بی سی کو بھی بتایا کہ وہ یقین کرتے ہیں کہ خامنہ ای مارے گئے ہیں۔ ٹرمپ نے کہا: میں کچھ بھی حتمی طور پر نہیں کہنا چاہتا جب تک کہ میں خود چیزیں نہ دیکھ لوں، لیکن ہم سمجھتے ہیں کہ وہ مارے گئے ہیں۔ اور ان کے بہت سے رہنما بھی چلے گئے ہیں۔"۔ فاکس نیوز کے مطابق امریکا کا خیال ہے کہ علی خامنہ ای اور ایران کی اعلیٰ قیادت کے پانچ سے دس دیگر افراد ابتدائی اسرائیلی حملے میں ہلاک ہو گئے ہیں۔ پاکستان میں ایرانی سفارتخانے نے علی خامنہ ای کے بیٹے سید مجتبیٰ خامنہ ای اور بہو زہرا حداد عادل کے شہید ہونیکی تصدیق کی ہے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں