امریکا و اسرائیل کا ایران پر حملہ کھلی دہشتگردی، پاکستان واضح موقف اپنائے : حافظ نعیم

امریکا و اسرائیل کا ایران پر حملہ کھلی دہشتگردی، پاکستان واضح موقف اپنائے : حافظ نعیم

پاکستانی حکمرا ن یاد رکھیں امریکا کسی کا دوست نہیں ،اس نے 25سال میں کئی مسلم ممالک کو جارحیت کا نشانہ بنایا پاکستان ، افغانستان کا باقاعدہ جنگ کی طرف بڑھنا تشویشناک،فوری پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلایا جائے :بیان

کراچی(سٹاف رپورٹر)امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کا مل کر ایران پر حملہ کھلی دہشت گردی ، دونوں نے اپنے شیطانی مقاصد کے حصول کیلئے پورے مشرق وسطیٰ کو شدید خطرے میں ڈال دیا ، جس کے نتائج انتہائی تباہ کن ثابت ہوں گے ، پاکستانی حکمرا ن یہ سبق ہمیشہ یاد رکھیں کہ امریکا کسی کا دوست نہیں بلکہ وہ صرف اپنے مفادات کیلئے ممالک اور قوموں کو استعمال کرتا ہے ،پاکستان آزاد، خودمختار اور جرات مندانہ خارجہ پالیسی اپنائے اور امت مسلمہ کے مفادات کے تحفظ کیلئے واضح مؤقف اختیار کرے ۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدہ تعلقات کا باقاعدہ جنگ کی طرف بڑھنا انتہائی تشویشناک ہے ، ہمسایہ اسلامی ممالک کے درمیان یہ صورتحال دونوں طرف کے عوام کیلئے نہایت تکلیف دہ ہے۔

حافظ نعیم الرحمن نے مزید کہا کہ ایک مرتبہ پھر امریکا نے مذاکرات کو دھوکے کے طور پر استعمال کیا اور ثابت کر دیا اس کی پالیسی جنگ، خونریزی اور تباہی کے سوا کچھ نہیں ،ڈونلڈ ٹرمپ کا نام نہاد ‘‘بورڈ آف پیس’’درحقیقت ‘‘بورڈ آف وار’’ہے جو دنیا کو امن نہیں بلکہ مسلسل جنگ کی طرف دھکیل رہا ہے ،مسلم حکمران خوابِ غفلت سے بیدار ہوں اور اپنی آنکھیں کھولیں، ورنہ تاریخ انہیں معاف نہیں کرے گی،امریکا نے غزہ میں کئے گئے جنگی جرائم سے توجہ ہٹانے کیلئے جنگ کا مرکز تبدیل کیا ہے ۔حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ گزشتہ 25 برسوں کے دوران امریکی سرپرستی میں عراق، افغانستان، لیبیا اور شام سمیت کئی مستحکم مسلم ممالک کو جارحیت کا نشانہ بنایا گیا ، جہاں ریاستی ڈھانچے کو تباہ کرکے انتشار، خانہ جنگی اور بدامنی پھیلائی گئی۔

پاک افغان صورتحال پر بات کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ پاکستان کی سلامتی اور دفاع 25 کروڑ پاکستانیوں کی ترجیح اول ہے ، پاک افغان کشیدگی ایسے وقت شدت اختیار کررہی ہے جب تل ابیب میں بھارت اور اسرائیل اکٹھے ہیں اور یہ اتحاد پورے عالم اسلام کیلئے مہلک ہے ، طالبان کو یہ سمجھنا ہوگا کہ بھارت ان کا دوست نہیں ہوسکتا ،افغان قیادت کوئی ایسا راستہ اختیار نہ کرے جس سے وہ عالم اسلام سے کٹ جائیں اور اسلام دشمن قوتوں کو اس کا فائدہ ہو۔

امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ حکومت پاکستان کی جانب سے اس اہم اور نازک موقع پر قومی مشاورت سے گریز ناقابل فہم ہے ، فوری طور پر پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلایا جائے ، تمام اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کی جائے ۔انہوں نے زوردیا کہ اس صورت حال میں ضروری ہے کہ عالم اسلام کے جید علماء ماضی کی طرح سامنے آئیں اور پاک افغان جنگ کی آگ کو ٹھنڈا کرنے میں کردار ادا کریں۔ چین ، ترکی ، قطر اور سعودی عرب بھی از سر نو کردار ادا کریں،پاک سعودی عرب دفاعی معاہدہ اسرائیل کیلئے ناقابل برداشت ہے ، عالم اسلام میں اتحاد و اتفاق کی ہر کوشش کو زائل کرنا یہود و ہنود کے ایجنڈے کا حصہ ہے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں