سزا خاتمے کیلئے کوئی حکومت کو کیسے کہہ سکتا؟ پھر عدالتوں کو ختم کر دینا چاہیے : شریعت اپیلٹ بینچ

سزا خاتمے کیلئے کوئی حکومت کو کیسے کہہ سکتا؟ پھر عدالتوں کو ختم کر دینا چاہیے : شریعت اپیلٹ بینچ

ایسے تومعاشرہ تباہ ہوجائیگا:جسٹس جمال مندوخیل،سرکار سزا کیسے ختم کر سکتی ہے جب معاملہ تعزیر کا ہو:جسٹس عرفان سعادت سزائیں معاف کرنے کے اختیارکوغیرشرعی قراردینے کے خلاف حکومتی اپیل پرفریقین کونوٹس،روزانہ سماعت ہوگی،عدالت

اسلام آباد (کورٹ رپورٹر)سپریم کورٹ کے شریعت اپیلٹ بینچ نے حکومت کے سزائیں معاف کرنے کے اختیار کو غیر شرعی قرار دینے کے فیصلے کے خلاف وفاقی اپیل پر تمام صوبوں اور ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد کو نوٹس جاری کردیا،جسٹس جمال خان مندوخیل کی سربراہی میں جسٹس شاہد وحید، جسٹس عرفان سعادت ، عالم جج ڈاکٹر خالد مسعود اور ڈاکٹر قبلہ ایازپرمشتمل پانچ رکنی لارجربینچ نے سماعت کی۔ ڈاکٹر خالد مسعود نے عدالت کو بتایا کہ اسلام میں سزائیں دو طرح کی ہوتی ہیں، ایک وہ جو قرآن میں مقرر ہیں اور دوسری تعزیر کی سزائیں، جن کا تعین قاضی حالات و واقعات کو دیکھ کر کرتا ہے۔

جسٹس جمال خان مندوخیل نے ریمارکس دیئے کہ ایک شخص درخواست دے کر سرکار کو کیسے کہہ سکتا ہے کہ اس کی سزا ختم کر دی جائے ۔ اگر ایسا ہی ہونا ہے تو پھر عدالتوں کو ختم کر دینا چاہیے ،مقدمے کا فریق اپنی سزا کیسے ختم کروا سکتا ہے ، ایسے میں تو پورا معاشرہ تباہ ہو جائے گا ۔ جسٹس عرفان سعادت خان نے سوال اٹھایا کہ کوئی بھی حکومت یا سرکار اسلامی دائرے میں رہتے ہوئے سزا کیسے ختم کر سکتی ہے خصوصاً جب معاملہ تعزیر کا ہو۔انہوں نے ریمارکس دیئے کہ قتل کے مقدمے میں تو راضی نامہ ہو سکتا ہے لیکن ڈکیتی جیسے جرائم میں راضی نامے کی گنجائش نہیں۔

جسٹس جمال مندوخیل نے مثال دیتے ہوئے کہا اگر کسی شخص کے گھر چوری ہو اور وہ ازالے کے لئے ریاست سے رجوع کرے اور بعد میں معلوم ہو کہ ریاست نے کیس ہی واپس لے لیا، تو متاثرہ شخص انصاف کے لیے کہاں جائے گا؟۔جسٹس شاہد وحید نے ریمارکس دیئے کہ اس کیس کو ہلکا نہ لیا جائے اور تمام فریقین مکمل تیاری کے ساتھ آئیں۔ جسٹس جمال مندوخیل نے کہا یہ 1989 کے مقدمات ہیں اور کوشش ہو گی کہ کیس روزانہ کی بنیاد پر سنا جائے ۔ عدالت نے واضح کیا کہ وہ اس معاملے میں اسلامی نظریاتی کونسل سے رائے طلب نہیں کر رہی تاہم فریقین خود کونسل کی آراء کی روشنی میں تیاری کر سکتے ہیں۔

عدالت نے کہا اگر کونسل کی رائے سے اتفاق نہ کیا جائے تو یہ مناسب طرز عمل نہیں ہوگا کیونکہ اسلامی نظریاتی کونسل ایک آئینی ادارہ ہے۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل راجہ شفقت محمود نے عدالت کو بتایا کہ یہ اختیار اب صوبوں کے پاس بھی موجود ہے ۔کیس کا پس منظر یہ ہے کہ سید اسلام الدین نے تعزیرات پاکستان کی دفعات 401 اور 402 سمیت کرمنل لاء ترمیمی ایکٹ 1958 کو وفاقی شرعی عدالت میں چیلنج کیا تھا۔ وفاقی شرعی عدالت نے 1991 میں فیصلہ دیتے ہوئے متعلقہ شقوں کو غیر شرعی قرار دیا تھا، جس کے خلاف وفاقی حکومت نے اسی سال سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا ۔بعدازاں سماعت اپریل کے پہلے ہفتے تک ملتوی کر دی گئی۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں