جماعت اسلامی کا ایران پر حملوں کیخلاف جمعہ کو ملک گیر احتجاج کا اعلان
موجودہ حکمران امریکا سے دوستی کی پینگیں بڑھا رہے ،خمیازہ آئند ہ نسلوں کو بھگتنا پڑے گا:امیر جماعت اسلامی امریکی صدرنوآبادیاتی نظام ازسرِ نو منظم کرنا چاہتے :حافظ نعیم الرحمن ، پاک افغانستان جنگ پر گہری تشویش
لاہور(سٹاف رپورٹر،سیاسی نمائندہ)امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے پاکستان اور افغانستان میں جاری جنگ و کشیدگی کی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کابل یقینی بنائے افغان سرزمین پاکستان میں دہشت گردی کیلئے استعمال نہ ہو ، دونوں ہمسایہ اسلامی ممالک مذاکرات سے مسائل کا حل نکالیں، موجودہ حکمران امریکا سے دوستی کی پینگیں بڑھا رہے ہیں جس کا خمیازہ آنے والی نسلوںکو بھگتنا پڑے گا،حکمران قوم کی عزت و وقار اور ملکی سلامتی کو ترجیح دیتے ہوئے اندرونی و بیرونی پالیسیاں تشکیل دیں، امریکی صدر مسلمانوں کا دشمن اور دنیا کو عالمی جنگ کی جانب دھکیل کر نوآبادیاتی نظام کو ازسرِ نو منظم کرنا چاہتا ہے ۔منصورہ میں مرکزی مجلس عاملہ کے ہنگامی اجلاس سے خطاب میں امیر جماعت اسلامی نے ایران پر امریکی واسرائیلی جارحیت کو دہشت گردی قرار دیتے ہوئے اس کی شدید الفاظ میں مذمت کی اور جمعہ کو امریکا و اسرائیل کے خلاف اضلاع کی سطح پر ملک گیر احتجاج کا اعلان کردیا۔اجلاس میں نائب امیر لیاقت بلوچ ، سیکرٹری جنرل امیر العظیم و دیگر قائدین ، اراکین مجلس عاملہ نے شرکت کی ۔
مجلس عاملہ نے امریکی و اسرائیلی جارحیت کے دوران ایران کے رہبر اعلیٰ علی خامنائی ، سابق صدر احمدی نژاد ، دیگر قائدین اور معصوم جانوں کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے شہدا ء کی بلندی درجات کیلئے دعا کی۔امیر جماعت اسلامی نے قوم کو مظاہروں میں بھرپور شرکت کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ پوری قوم ایرانی حکومت و عوام کے ساتھ ہے اور مکمل یکجہتی کا اظہار کرتی ہے ۔حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ پاکستان و افغانستان میں جاری جنگ سے اسلام کے دشمنوں کا فائدہ ہوگا ، بھارت کو پاکستان کے خلاف مزید سازشوں کا موقع ملے گا، دونوں ملک فی الفور مذاکرات کے ذریعے معاملات حل کریں ،حکومت پاکستان اندرونی مسائل کے حل کیلئے سیاسی جماعتوں اور تمام سٹیک ہولڈرز سے مشاورت کر کے پالیسی تشکیل دے ، مشرف کی امریکی جنگ میں شمو لیت سے پاکستان میں دہشت گردی نے جنم لیا اور مغربی سرحد غیر محفوظ ہوئی ۔حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ مسلم حکمران ٹرمپ کو خوش کرنے کی بجائے اپنے ملکوں کے عوام کی ترجیحات کو مدنظر رکھیں،موجودہ صورتحال میں جوہری پاکستان کو قائدانہ کردار ادا کرتے ہوئے اسلامی ممالک کے اتحاد اور مظلوم انسانیت کی مدد کیلئے کاوشیں کرنی چاہئیں ، وزیراعظم شہباز شریف ٹرمپ کی نوبل انعام کیلئے نامزدگی سے اعلان لاتعلقی کریں، پاکستان کے حکمران امریکا سے امیدیں وابستہ کرنے کی پالیسیاں ترک کردیں۔