امریکا کا تارپیڈ و حملہ،ایرانی بحری جہاز تباہ،87فوجی شہید

امریکا کا تارپیڈ و حملہ،ایرانی بحری جہاز تباہ،87فوجی شہید

جہاز کو بھارت میں جنگی مشقوں کے بعد واپس جاتے ہوئے بحرہند میں سری لنکا کے قریب نشانہ بنایا گیا ، مودی شدید تنقید کی زد میں ، ریاض میںحملے کا نشانہ سی آئی اے سٹیشن تھا ، 160امریکی ہلاک ،اسرائیلی طیارہ بھی مارگرایا :ایران کا دعویٰ اسرائیل کا خامنہ ای کے ہر جانشین کو نشانہ بنانے کا اعلان،تہران پر نئے حملے ،17ایرانی جہازوں کو نشانہ بنایا:سینٹ کام ، ایران میں 5دن میں 1045شہید ،ہلاک 4امریکی فوجیوںکی شناخت ظاہر ،اسرائیل کے لبنان پر حملے تیز،11 شہید

تہران (مانیٹرنگ ڈیسک ،نیوزایجنسیاں) امریکا نے بحرہند میں آبدوزسے حملہ کرکے ایرانی بحری جنگی جہاز تباہ کردیا، جس سے 87افراد شہید اور 32زخمی ہوگئے اور بیسیوں لاپتہ ہیں ،ایران نے بھی اسرائیلی طیارہ مار گرانے اور 160امریکی فوجیوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے جبکہ اسرائیل نے خامنہ ای کے ہرجانشین کو بھی نشانہ بنانے کا اعلان کردیا۔ امریکی سیکرٹری دفاع پیٹ ہیگستھ نے پینٹا گون میں پریس بریفنگ کے دوران بتایاکہ بحرہند میں ایرانی جہاز کو تارپیڈو کے ذریعے نشانہ بنایا گیا تاہم انہوں نے ایرانی جہاز کا نام نہیں لیا۔امریکی سیکرٹری دفاع پیٹ ہیگستھ نے کہا ہے کہ بحر ہند میں امریکی آبدوز نے تارپیڈو کے ذریعے ایرانی جنگی بحری جہاز ڈبو دیا ہے ،ان کا دعویٰ تھا کہ ایسا دوسری عالمی جنگ کے بعد پہلی بار ہوا ہے ،مگر یہ درست نہیں۔ 1971 کے دوران پاکستانی آبدوز نے انڈین جہاز آئی این ایس کھکری پر تارپیڈو حملہ کر کے اسے ڈبو دیاتھا۔1982 کی فاکلینڈ جنگ کے دوران جنوبی اٹلانٹک میں برطانوی جوہری صلاحیت کی حامل آبدوز نے دو ٹائیگر تارپیڈو کے ذریعے ارجنٹائن کے واحد جنگی جہاز جنرل بلگرانو کو غرق کیا تھا۔

سری لنکن حکام نے ایرانی جہاز کے تباہ ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے کہاکہ ڈوبنے والے جہاز پر سوار180میں سے 80 افراد کی لاشیں مل گئی ہیں جبکہ 32زخمیوں کوگالے کے ہسپتال منتقل کیاگیا،دیگر لاپتہ ہیں ۔میڈیا رپورٹس کے مطابق ایرانی بحری جہاز گزشتہ روزعلی الصبح بھارت میں ہونے والی انٹرنیشنل فلیٹ ریویو میلان 2026ء بحری مشق سے واپس جارہاتھاکہ اسے سری لنکاکے قریب بحر ہند میں نشانہ بنایاگیا۔حکام کے مطابق ریسکیو آپریشن میں سری لنکن بحریہ اور فضائیہ نے مشترکہ طور پر حصہ لیا۔ سابق امریکی وزیرِ دفاع کے مشیر ڈگلس میک گریگر کا کہنا ہے کہ بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی نے دورہ اسرائیل کے دوران اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو کو ایران کے خلاف ممکنہ امداد کی یقین دہانی کروائی تھی ۔ مودی نے بھارتی خارجہ پالیسی کو ذاتی مفادات کی نذر کیا اور ایران پر حملے سے عین قبل اسرائیل یاترا کی ٹائمنگ نے سنگین سوالات اٹھا دئیے ہیں اوروہ شدیدتنقید کی زد میں ہیں ۔ بھارتی میڈیا کے بعض حلقوں کا دعویٰ ہے کہ مودی کا اصل ہدف اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے ذریعے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ تک رسائی اور خوشنودی حاصل کرنا تھا۔ سابق امریکی وزیر دفاع کے مشیر کرنل (ر) میکگریگر نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی جہاز بھارتی بندرگاہوں پر سامان اتار رہے ہیں اور امریکی بحریہ ایران کے ساتھ بڑھتی کشیدگی کے دوران بھارتی بندرگاہیں استعمال کر رہی ہے ۔بھارتی اپوزیشن نے مودی کے دورے کو خارجہ پالیسی کی ناکامی اور ایران سے بے وفائی کہا ہے ۔

کانگریس،کیمونسٹ پارٹی، مقبوضہ کشمیرکے لیڈرز اور سول سوسائٹی نے مودی کی منافقانہ سیاست پرتنقید کی جب کہ اسدالدین اویسی نے سوال اٹھایا کیا مودی کو ممکنہ حملے کی پیشگی اطلاع تھی؟۔امریکی وزارت دفاع کے سابق مشیر ڈگلس نے بھی امریکی ٹی وی سے گفتگو میں دعویٰ کیا تھا کہ تنازع کے دوران امریکی بحری جہاز ممکنہ طور پر بھارتی بندرگاہوں سے مستفید ہو رہے ہیں تاہم بھارتی وزارت خارجہ نے خبروں کی تردید کی اور کہا کہ ایران کے خلاف جاری جنگ کے دوران امریکی بحریہ کو بھارتی بندرگاہیں استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی۔ واضح رہے امریکی آبدوز کے حملے میں نشانہ بننے والا ایرانی جنگی جہاز بھارتی میزبانی میں ہونے والی فوجی مشقوں میں شرکت کے بعد واپس آرہا تھا۔دوسر ی طرف امریکی فوج کی سنٹرل کمانڈ (سینٹ کام )کا کہناہے کہ امریکا نے 17سے زائد ایرانی جہازوں کو یا تو ڈبو دیا ہے یا انہیں نشانہ بنایا ہے ،ایرانی آبدوز بھی تباہ کردی ہے ۔اسرائیلی فوج کا دعویٰ ہے کہ اس نے ایف 35 جہاز سے تہران میں ایرانی جنگی جہاز ’’یاک 130‘‘کو مار گرایا ہے ۔ اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد ابتدائی دو دنوں میں تقریباً ایک لاکھ افراد نے دارالحکومت تہران چھوڑ دیا ہے ۔ایران کے سرکاری میڈیا کے مطابق رہبر اعلیٰ آیت اللہ خامنہ ای کی سرکاری سطح پر آخری رسومات ملتوی کر دی گئی ہیں، منتظمین نے کہا ہے کہ مقام کے تعین تک اس تقریب کو ملتوی کیا جا رہا ہے ،اس حوالے سے کسی نئی تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا۔

ایرا ن نے بھی 160 امریکیوں کی ہلاکت کا دعویٰ کرتے ہوئے کہاہے کہ ہلاکتیں ا مریکی اڈوں پر حملوں میں ہوئیں جبکہ تہران میں اسرائیلی طیارہ بھی گرایاگیا اورامریکی اسرائیلی اہداف پر40حملے کئے گئے ،کرمان شہر میں اسرائیلی ڈرون مارگرایا ۔آبنائے ہرمز میں 10آئل ٹینکرزکونشانہ بنایاگیا۔اسرائیل نے تہران پرحملوں کی نئی لہر شروع کرنے کے بعد دعوی ٰکیاہے کہ تہران میں ایرانی طیارہ گرادیا جبکہ اصفہان میں بلیسٹک میزائل تنصیب پر حملے کئے گئے اورآبدوز سمیت کئی بحری جہاز ڈبو دیئے ۔ایران میں 5 دن میں شہدا کی تعداد 1045 ہو گئی۔سعودی وزارت دفاع کے مطابق راس تنورہ میں ملک کی بڑی آئل ریفائنری کو ڈرون حملے میں نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی ،حملے میں ڈرون کا استعمال کیا گیا تاہم کوئی نقصان نہیں ہوا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ابتدائی کارروائیوں میں ایران کی اعلیٰ قیادت اور عسکری صلاحیتوں کو شدید نقصان پہنچایا جا چکا ہے اور اب امریکا ایران کے خلاف فوجی حملوں کی تیسری لہر شروع کرنے جا رہا ہے ۔واشنگٹن میں راؤنڈ ٹیبل کانفرنس میں خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہاکہ ایران پر حملہ نہ کرتے تو جلد ایران کے پاس ایٹم بم ہوتا،ایران کے میزائلوں،لانچروں کا صفایا کیا جارہا ہے ،ایران اپنے پڑوسیوں ،اتحادیوں کو بھی نشانہ بنا رہا ہے ،ایران میں جو لیڈر بننا چاہتے تھے حملوں میں مارے گئے ۔سابق صدر اوباما کی ایران سے جوہری ڈیل بہت بری تھی، پاگل لوگوں کے پاس ایٹم بم ہوتو یہ نقصان دہ ہوسکتا ہے ،وینزویلا سے تیل کی آمد شروع ہو گئی ہے ۔ایرانی قومی سلامتی کونسل کے سربراہ علی لاریجانی نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے حملوں میں 500 سے زائد امریکی فوجی ہلاک ہوچکے ہیں۔

ایکس پر جاری بیان میں علی لاریجانی کا کہنا تھا کہ ٹرمپ نے نیتن یاہو کی مضحکہ خیز حرکتوں کے نتیجے میں امریکی عوام کو ایران کے خلاف ناجائز جنگ میں جھونک دیا ہے ۔ عرب میڈیا کے مطابق ایران نے اسرائیل پر مزید میزائل اور ڈرونز داغ دئیے جس سے تل ابیب میں سائرن بج اٹھے اور شہریوں کی دوڑیں لگ گئیں اورانہوں نے بنکرز میں پناہ لے لی۔ایران کے حملوں کے بعد دنیا کی بڑی شپنگ لاجسٹک کمپنی نے خلیجی ممالک کیلئے کارگو بکنگ بندکردی۔ اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے بھی ایک بار پھر دھمکی دی ہے کہ آیت اللہ خامنہ ای کے بعد ان کے ہر جانشین کو نشانہ بنائیں گے ۔سوشل میڈیا پر جاری بیان میں اسرائیل کاٹز نے کہا کہ آیت اللہ خامنہ ای کے کسی بھی جانشین کو نشانہ بنانے کے لیے اسرائیلی وزیرِ اعظم اور انہوں نے فوج کو تیار رہنے کی ہدایت کر دی ہے ۔امریکی وزیر دفاع جنرل ڈین کین کا کہنا ہے ہم خطے میں مزید امریکی فوجی بھیج رہے ہیں اور ہم ایران میں اپنی جنگ جیت رہے ہیں۔دوسری طرف پینٹاگون سے لیک ہونے والی اطلاعات کے مطابق اگر امریکا مزید 10 دن تک ایران پر حملے جاری رکھتا ہے تو اہم میزائلوں کے ذخائر خطرناک حد تک کم ہو سکتے ہیں۔ پینٹاگون نے ایران کے خلاف جاری جنگ میں ہلاک 6 میں سے 4 امریکی فوجیوں کی شناخت ظاہر کر دی۔امریکی فوج کے مطابق اب تک 6 امریکی فوجی ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں سے 4 کا تعلق آئیووا میں قائم امریکی آرمی ریزرو کے ایک یونٹ سے تھا، یہ فوجی اتوار کے روز کویت کے پورٹ شعیبہ میں ایک امریکی فوجی تنصیب پر ڈرون حملے میں مارے گئے ۔پینٹاگون کے مطابق ہلاک ہونے والے فوجیوں کی عمریں 20 سے 42 سال کے درمیان تھیں۔ان میں 35 برس کے کیپٹن کوڈی اے خورک تھے جن کا تعلق ونٹر ہیون فلوریڈا سے تعلق تھا۔42 برس کے سارجنٹ فرسٹ کلاس نوح ایل ٹیٹجینز کا تعلق بیلویو، نیبراسکا سے تھا۔پینٹاگون نے بتایا ہے کہ 39 برس کی سارجنٹ فرسٹ کلاس نکول ایم امور وائٹ بیئر لیک، منی سوٹا کی رہائشی تھیں جبکہ 20 سال کے سارجنٹ ڈیکلن جے کوڈی ویسٹ ڈیس موئنز، آئیووا سے تعلق رکھتے تھے ۔

سپین نے امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے تجارتی تعلقات منقطع کرنے کی دھمکی کے بعد کہا ہے کہ امریکا کو بین الاقوامی قانون اور یورپی یونین کے ساتھ دوطرفہ تجارتی معاہدوں کا احترام کرنا چاہئے ۔امریکی صدر نے دھمکی دی تھی کہ اگر سپین نے ایران پر حملوں سے متعلق مشنز کیلئے اپنی فوجی اڈے استعمال کرنے کی اجازت نہ دی تو امریکا سپین کے ساتھ تمام تجارتی معاملات ختم کر دے گا۔امریکی صدر نے کہا کہ اگر وہ چاہیں تو سپین میں جا کر ان کا فوجی اڈا استعمال کر سکتے ہیں اور انہیں کوئی نہیں روک سکتا ۔ جدہ میں سعودی کابینہ کا اجلاس ولی عہد اور وزیراعظم محمد بن سلمان کی سربراہی میں ویڈیو لنک کے ذریعے ہوا ۔کابینہ نے واضح کیا کہ سعودی عرب کو ایرانی جارحیت کا جواب دینے کا مکمل حق حاصل ہے ۔سعودی عرب کی وزارت دفاع نے دعویٰ کیا ہے کہ اُن کی جانب سے دارالحکومت ریاض کے جنوب میں دو کروز میزائل ناکام بنا دئیے گئے ۔نیٹو کے فضائی دفاع نے ترکی کی فضائی حدود کی جانب آنے والے ایرانی میزائل کو تباہ کر دیا،ترکی کی وزارت دفاع کے مطابق نیٹو کے فضائی دفاع نے ترکی کی فضائی حدود کی جانب آنے والے ایک ایرانی میزائل کو تباہ کر دیا ،اس واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔میزائل کا عراق اور شام کی فضائی حدود سے گزر کر ترکی کی فضائی حدود کی طرف آنے کا پتہ چلا۔ اسرائیل نے بدھ کو لبنان میں فضائی حملے بڑھا دئیے ،جس سے 11افرادشہید ہوئے ، صدارتی محل کے آس پاس اور بیروت کے جنوب میں ایران نواز گروہ حزب اللہ کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا، جس میں کم از کم 11 افراد شہید ہوئے ۔ عراق میں بجلی کا مکمل بریک ڈاؤن ہونے کے بعد امریکی سفارتخانے نے اپنے شہریوں کو ملک سے نکل جانے کی ہدایت کردی ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں