سماج دشمنوں کی ڈیجیٹل مانیٹرنگ ضروری،کھلا نہیں چھوڑ سکتے:مریم نواز

سماج دشمنوں  کی ڈیجیٹل مانیٹرنگ ضروری،کھلا نہیں چھوڑ سکتے:مریم نواز

وزیراعلیٰ کی زیرصدارت ایپکس کمیٹی کا اجلاس،سکیورٹی صورتحا ل پر غور،چینی باشندوں کی حفاظت یقینی بنانے کی ہدایت لہر کا اجلاس ،مال روڈ پر جلسے جلوسوں پر پابندی ، مقبرہ جہانگیر کو براہ راست روڈ سے منسلک کرنے کیلئے پل بنانے کا فیصلہ

لاہور(اپنے نامہ نگار سے)وزیراعلیٰ مریم نوازشریف نے کہاہے کہ سماج دشمن عناصر کی ڈیجیٹل مانیٹرنگ ضروری ہے ،کھلا نہیں چھوڑ سکتے ،چینی باشندوں کی سکیورٹی  میں ایس او پیز پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے ، کوتاہی برداشت نہیں،کچہ کے علاقے کیلئے سیف سٹی، ایجوکیشن ریفارمز، ہیلتھ سمیت 10 ارب کے ڈویلپمنٹ پراجیکٹ لارہے ہیں، کچہ میں 1500 اہلکار تعینات ہونگے ، بلٹ پروف گاڑیاں بھی دے رہے ہیں۔ کچہ میں بھی اپنا کھیت اپنا روزگار کے تحت بے زمین کسانوں کو زرعی اراضی دینگے ۔وزیراعلیٰ کی زیرصدارت صوبائی ایپکس کمیٹی کا اجلاس گزشتہ روز ہوا جس میں مجموعی سکیورٹی صورتحال پر غور کیاگیا ۔ آپریشن غضب للحق میں کامیابی پر اظہار تشکرکیا اور پاک فوج کو خراج تحسین پیش کیاگیا،شہید کرنل گل فراز اور دیگرشہدا کو خراج عقیدت پیش کیاگیااور فاتحہ خوانی کی گئی۔ غیر قانونی طور پر مقیم افغان باشندوں کے انخلا پر پیش رفت کا جائزہ لیاگیا۔

مریم نواز نے کہاکہ پاکستان اور پاکستان کی لیڈرشپ پر فخر ہے ، مختلف چیلنجز کا سامنا ہے لیکن اللہ تعالیٰ کامیابی سے نواز رہا ہے ۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ ایران جنگ کے بعد پنجاب میں ناخوشگوار واقعات سے بچنے کے لئے فوری طور پرامن وامان کنٹرول کرنے پر توجہ مرکوز رکھی،لاہور پولیس نے مظاہروں کی وجہ سے درپیش صورت حال کو بخوبی سنبھالا۔انہوں نے کہا کہ پنجاب میں اینٹی ڈرون یونٹ متحرک کررہے ہیں ،ڈسٹرکٹ میں بھی اینٹی ڈرون سیل ہونا چاہئے ، کچہ آپریشن میں کامیابی پر پاک فوج اور سندھ پولیس کے شکر گزار ہیں،ساڑھے تین ماہ سے کچہ میں اغوا برائے تاوان کا کیس سامنے نہیں آیا۔ مریم نوازکاکہناتھاکہ چینی باشندوں کی سکیورٹی پر توجہ ہے اب صرف پولیس کی ہمراہی میں ہی نقل و حرکت کرینگے ،سکیورٹی ایس اوپیز پرعملدرآمد یقینی بنایاجائے ،کوتاہی برداشت نہیں ۔

بعدازاں مسلم لیگ ن کے صدر نوازشریف اوروزیراعلیٰ مریم نواز کی زیر صدارت لاہور ہیرٹیج ایریازریوائیول (لہر) سے متعلق خصوصی اجلاس ہوا جس میں قدیمی اورتاریخی عمارتوں کی بحالی کے پراجیکٹ پر پیشرفت کا جائزہ لیا گیا۔لاہور کے مال روڈ پر ہر قسم کے احتجاجی جلسے ، جلسوں پرپابندی کا اصولی فیصلہ کیا گیا جبکہ شاہی قلعہ کے تمام حصوں کو مکمل طورپر قدیمی حالت میں بحال کرنے پر اتفاق کیا گیا۔ کھڑک سنگھ حویلی اورپرانے سرونٹ کوارٹر زکو بحال کرکے ٹورازم کے فروغ کیلئے ہوٹل بنانے پر اتفاق کیا گیا،مقبرہ جہانگیر کو براہ راست روڈ سے منسلک کرنے کیلئے پل بنانے کی منظوری دی گئی۔ منٹو پارک میں کرکٹ گراؤنڈ اوراکھاڑے کی بحالی کی تجویز کا جائزہ لیا گیا۔وزیراعلیٰ نے پاکستان سمیت دنیا بھر میں موجودہندو برادری کو ہولی تہوار کی مبارکباد دی ۔انہوں نے اپنے پیغام میں کہاکہ رنگوں کا تہوار ہولی بہار آمد کی علامت ہے ،ہولی امید کا پیغام ہے ، وہ امید جو ہمیں ایک بہتر مستقبل کی خبر دیتی ہے ۔ اقلیتی برادری کو تعلیم، صحت، روزگار اور دیگر سہولتیں یکساں طور پر فراہم کی جا رہی ہیں ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں