تکنیکی بنیاد پرانصاف کے دروازے بندنہیں کرسکتے : سپریم کورٹ
عدالتی غلطی کا خمیازہ کسی کو نہیں بھگتنا چاہیے :جسٹس شاہد،عدم پیروی پرخارج اپیل بحال بیٹے کے قتل میں باپ بری،اغواکیس کے ملزم کی ضمانت منسوخی کی درخواست خارج
اسلام آباد ( کورٹ رپورٹر)سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ محض تکنیکی بنیادوں پر کسی سائل کیلئے انصاف کے دروازے بند نہیں کیے جا سکتے اور عدالت کی اپنی کارروائی یا غلطی کا خمیازہ کسی بھی شہری کو نہیں بھگتنا چاہیے ، عدالتِ عظمیٰ نے لاہور ہائی کورٹ ملتان بینچ کادرخواست گزار کی اپیل عدم پیروی کی بنیاد پر خارج کرنے کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے اپیل بحال کرنے کا حکم دے دیا۔ جسٹس شاہد بلال حسن نے تحریری فیصلے میں قرار دیا کہ اگر کوئی کیس باقاعدہ سماعت کیلئے مقرر نہ ہو تو اسے محض وکیل کی غیر حاضری کی بنیاد پر خارج نہیں کیا جا سکتا۔ لاہور ہائی کورٹ ایک ماہ کے اندر کیس کا میرٹ پر دوبارہ فیصلہ کرے۔
عدالت نے درخواست گزار کے غیر تسلی بخش رویہ پر 50 ہزار روپے جرمانہ عائد کر دیا ،سپریم کورٹ نے کمسن بیٹے کو زہر دے کر قتل کرنے کے مقدمے میں نامزد ملزم سلطان عرف ببو جتوئی کو بری کرتے ہوئے ہائی کورٹ اور ٹرائل کورٹ کی جانب سے سنائی گئی سزائے موت کالعدم قرار دے دی۔ مقدمے کے مطابق اگست 2019 میں سکھر میں چار سالہ مدثر عرف مٹھو کی مبینہ زہر خورانی سے موت ہوئی تھی،جسٹس اشتیاق ابراہیم کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے دورکنی بینچ نے بھتہ دینے سے انکار پر سرکاری ملازم کو اغوا کرنے کے مقدمے میں ملزم کی ضمانت منسوخی کی درخواست خارج کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ کو دو ماہ کے اندر مقدمے کا فیصلہ کرنے کا حکم دے دیا۔ سپریم کورٹ نے لڑائی جھگڑا کیس میں ملزم کی سخت سرزنش کرتے ہوئے فریقین کو صلح کی کوشش کرنے کی ہدایت کر دی۔ بعد ازاں سماعت 2 اپریل تک ملتوی کر دی گئی۔