نتیجہ خیز بات چیت، ایران میں بجلی گھروں پر حملے 5 روز کیلئے روک دیئے : ٹرمپ، تیل مارکیٹوں کیلئے فیک نیوز پھیلائی جارہی : ایرانی سپیکر

نتیجہ خیز بات چیت، ایران میں بجلی گھروں پر حملے 5 روز کیلئے روک دیئے : ٹرمپ، تیل مارکیٹوں کیلئے فیک نیوز پھیلائی جارہی : ایرانی سپیکر

مذاکرات کیلئے ایران نے رابطہ کیا ،15نکات پر گفتگو،تقریباً سب پراتفاق،آبنائے ہرمز پرمشترکہ کنٹرول ہوگا :امریکی صدر،نائب صدر وینس کا اسرائیلی وزیراعظم سے رابطہ امریکا کیساتھ کوئی بات چیت نہیں ہوئی:باقرقالیباف،ایرانی وزارت خارجہ نے کشیدگی کم کر نے کیلئے کوششوں کی تصدیق کردی ،فریقین سفارتی حل کی طرف بڑھیں:روس

واشنگٹن (نیوز ایجنسیاں )امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ مشرقِ وسطٰی کے تنازع کے مکمل اور جامع حل کے حوالے سے تعمیری بات چیت ہوئی ہے ،انہوں نے ایران کے بجلی گھروں اور توانائی کی تنصیبات پر بلکہ ایران میں تمام حملوں کو پانچ روز کیلئے مؤخر کردیا ہے ۔امریکی صدر نے اپنے سوشل میڈیا پرایک بیان میں کہا مجھے یہ بتاتے ہوئے خوشی محسوس ہو رہی ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان گزشتہ دو دنوں کے دوران مشرقِ وسطٰی میں جاری کشیدگی کے مکمل اور جامع حل کے حوالے سے نہایت مثبت، نتیجہ خیز اور تعمیری بات چیت ہوئی ہے ۔بعد ازاں میڈیا سے گفتگو کر تے ہو ئے ٹرمپ نے ایران کے حوالے سے کہا کہ وہ کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کریں گے انہوں نے اس پر اتفاق کر لیا ہے ،ایران نے خود رابطہ کیا کیونکہ وہ نہیں چاہتا تھا کہ امریکا اس کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنائے ،وہ معاہدہ کرنا چاہتے ہیں اور ہم بھی معاہدہ کرنے کیلئے پوری طرح تیار ہیں۔

ٹرمپ نے کہا کہ مشرقِ وسطٰی کیلئے خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف اور داماد جیرڈ کشنر نے بات چیت کی، اگر معاملات طے پا گئے تو آبنائے ہرمز بہت جلد کھول دی جائے گی،جیسے ہی معاہدہ طے پائے گا تیل کی قیمتیں یکدم تیزی سے گر جائیں گی۔میرے خیال میں اہم نکات پر بلکہ تقریباً تمام نکات پر اتفاق موجود ہے ،ہم آج فون پر دوبارہ رابطہ کریں گے ۔انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ ایران کی جانب سے کس سے بات ہوئی تاہم کہا کہ مذاکرات میں ایک بااثر اور قابلِ احترام اعلیٰ شخصیت شامل تھی۔ٹرمپ نے کہا کہ امریکا کا سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای سے کوئی رابطہ نہیں ہوا، انہیں یہ بھی معلوم نہیں کہ خامنہ ای حیات ہیں یا نہیں اور یہ بھی واضح کیا کہ وہ ان کے قتل کے خواہاں نہیں ہیں۔ امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ہم نے پانچ دن کی ایک مدت رکھی ہے ، دیکھتے ہیں یہ کیسی گزرتی ہے اور اگر سب کچھ ٹھیک رہا تو ہم اس معاملے کو نمٹا لیں گے ، بصورتِ دیگر ہم اپنی پوری جان لگا کر بمباری جاری رکھیں گے ۔ آج فون پر رابطے کے بعد بہت جلد بالمشافہ ملاقات بھی ہوگی۔

ٹرمپ سے جب پو چھا گیا کہ ایران کے ساتھ کسی ممکنہ معاہدے کے بعد آبنائے ہرمز پر کس کا کنٹرول ہوگا تو ٹرمپ نے کہا کہ اسے مشترکہ طور پر کنٹرول کیا جائے گا،اس پر رپورٹر نے پوچھا کہ کس کے ذریعے ؟، تو ٹرمپ نے کہاکہ شاید میرے ذریعے ، میرے اور آیت اللہ کے ذریعے ،جو بھی اگلا آیت اللہ ہوگا۔انہوں نے کہا کہ وہ مجتبیٰ خامنہ ای کو ایران کا حقیقی رہنما نہیں سمجھتے ، ہم ایسے لوگوں سے معاملہ کر رہے ہیں جنہیں میں بہت معقول اور مضبوط پاتا ہوں، اندر کے لوگ جانتے ہیں وہ کون ہیں، انہیں بہت احترام حاصل ہے اور شاید ان میں سے کوئی بالکل وہی ہو جو ہم تلاش کر رہے ہیں۔

امریکی صدر نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ دونوں ممالک جنگ کے خاتمے کیلئے 15 نکات پر بات کر رہے ہیں، جن میں ایران کا جوہری ہتھیاروں سے دستبردار ہونا پہلا، دوسرا اور تیسرا نکتہ ہے ،تاہم ایران کے ساتھ معاہدے کی گارنٹی نہیں دے سکتا ۔انہوں نے اس سوال کا جواب نہیں دیا کہ کیا امریکی فوجیں ایران میں داخل ہونگی اور صرف اتنا کہا کہ ہم حکمت عملی پر اس طرح بات نہیں کرتے ۔ دوسری طرف امریکی نائب صدر جی ڈی وینس نے فون پر اسرائیل کے وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو سے بات کی۔ انہوں نے ایران کے ساتھ امریکا مذاکرات شروع کرنے کی کوشش کے بارے میں گفتگو کی ۔ دونوں رہنماؤں نے کسی ممکنہ معاہدے کے اجزاء پر بات چیت کی تاکہ ایران کے ساتھ جنگ ختم کرنے کے راستے تلاش کئے جا سکیں۔

تہران (نیوز ایجنسیاں )ایران کی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ امریکا کے ساتھ کوئی بات چیت نہیں ہوئی۔باقرقالیباف نے سوشل میڈیا پراپنے بیان میں لکھا کہ بات چیت کی خبریں فیک نیوز ہیں جو تیل کی مارکیٹ کو متاثر کرنے کیلئے پھیلائی جا رہی ہیں۔ ایک سینئر ایرانی عہدیدار نے بھی رائٹرز کو بتایا کہ امریکا نے قالیباف سے ملاقات کی درخواست کی تھی لیکن ایران نے ابھی جواب نہیں دیا۔ پاسدارانِ انقلاب سے منسلک ایران کے خبر رساں ادارے فارس نیوز نے ایک نامعلوم ایرانی ذرائع کے حوالے سے یہ خبر دی ہے کہ ٹرمپ کے ساتھ کوئی بلاواسطہ یا بالواسطہ رابطہ نہیں ہوا۔

ذرائع کے مطابق جب انہوں نے سنا کہ ہمارے اہداف میں مغربی ایشیا کے تمام بجلی گھر شامل ہوں گے تو انہوں نے پیچھے ہٹنے کا فیصلہ کیا ،تاہم ایرانی وزارت خارجہ نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کروانے کی کوششیں ہو رہی ہیں،اس سے قبل ایرانی وزارت خارجہ کے بعض عہدیداروں نے ایران امریکا مذاکرات کی تردید کی تھی اور کہا تھا کہ ٹرمپ کا بیان صرف تیل کی قیمتوں میں کمی کرنے اور ممکنہ مزید حملوں کیلئے وقت لینے کی خاطر جاری کیا گیا ہے ۔ دوسری جانب روس نے مشرقِ وسطٰی میں جاری جنگ کے حوالے سے سیاسی اور سفارتی حل نکالنے پر زور دیا ہے ۔

کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے ایک پریس کانفرنس میں صحافیوں سے گفتگو کے دوران کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ جنگ کی وجہ سے پیدا ہونے والے پیچیدہ حالات کو معمول پر لانے کیلئے فریقین کو سیاسی اور سفارتی حل کی جانب بڑھنا چاہئے ۔اسی دوران روس جس نے ایران کے بوشہر میں واحد فعال جوہری بجلی گھر کی تعمیر میں مدد دی ہے نے اسرائیل اور امریکا کی جانب سے اس تنصیب کے قریب ہونے والے حملوں پر خبردار کیا ہے ۔ گزشتہ ہفتے ایک میزائل اس بجلی گھر سے ٹکرایا تاہم کوئی نقصان نہیں ہواتھا۔پیسکوف نے کہا کہ روس بوشہر کے جوہری پلانٹ کے حوالے سے بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے ۔ایجنسی کے سربراہ رافیل گروسی نے فریقین سے احتیاط برتنے اور جنگ کا پرامن حل نکالنے کی اپیل کی ہے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں