سرکاری گاڑیوں میں ہائی اوکٹین پر پابندی، ناگزیر ہوتو جیب سے ڈلوائیں : شہباز شریف

سرکاری گاڑیوں میں ہائی اوکٹین پر پابندی، ناگزیر ہوتو جیب سے ڈلوائیں : شہباز شریف

فیصلے کی نگرانی کیلئے مو ثر نظام وضع کیا جائے ،خلاف ورزی کی صورت میں سخت کارروائی عمل میں لائیں:وزیراعظم وفاقی محکموں، اتھارٹیز ،ذیلی اداروں کو فیصلے پر فوری عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت،یوم پاکستان پر لاہور میں پرچم کشائی

اسلام آباد(نامہ نگار) وزیراعظم شہبازشریف نے ہائی اوکٹین فیول پر پٹرولیم لیوی میں اضافے کے فیصلے کے تسلسل میں ایک اور اہم فیصلہ کرتے ہوئے سرکاری گاڑیوں میں ہائی اوکٹین ایندھن کے استعمال پر پابندی عائد کر دی ، جس کا اطلاق فی الفور ہو گا،اگر کسی بھی سرکاری محکمے کی گاڑی میں ہائی اوکٹین ایندھن کا استعمال نا گزیر ہے تو استعمال کرنے والا اپنے ذاتی جیب سے ڈلوا سکتا ہے ۔ وزیراعظم نے کہاکہ سرکاری خرچ پر ہائی اوکٹین کے استعمال پر سخت پابندی کا مقصد قومی وسائل کے مو ثر اور ذمہ دارانہ استعمال کو یقینی بنانا ہے ، وزیر اعظم نے ہدایت کی کہ تمام وفاقی محکمے ، اتھارٹیز اور ذیلی ادارے اس فیصلے پر فوری اور مکمل عملدرآمد یقینی بنائیں۔یاد رہے کہ اس سے پہلے سرکاری گاڑیوں کے ایندھن پرپچاس فیصد کٹوتی کا اطلاق پہلے ہی ہو چکا، اس کے ساتھ ساتھ ساٹھ فیصد سرکاری گاڑیوں کو گراؤنڈ کیا جا چکا ہے۔عوام کو ریلیف دینے اور سستا تیل فراہم کرنے کے لیے ان اقدامات کے ذریعے کی گئی بچت کو استعمال کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کفایت شعاری کی پالیسی پر سختی سے عمل کرتے ہوئے غیر ضروری اخراجات میں کمی لانا وقت کی اہم ضرورت ہے ۔ اس اقدام سے حکومتی اخراجات میں کمی آئے گی اور عوامی وسائل کا بہتر استعمال ممکن ہوگا۔وزیر اعظم نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ اس فیصلے کی نگرانی کے لیے مو ثر نظام وضع کیا جائے اور خلاف ورزی کی صورت میں سخت کارروائی عمل میں لائی جائے ۔دریں اثنا وزیرِ اعظم سے وفاقی وزیرِ قومی غذائی تحفظ رانا تنویر حسین نے ملاقات کی اور موجودہ صورتحال میں ملکی غذائی ضروریات کے ذخائر اورخلیجی ممالک کو اشیا ئے خورد ونوش کی برآمدات پر پیش رفت سے بھی آگاہ کیا۔انہوں نے بتایا کہ ملک میں غذائی اشیا وافر مقدار میں موجود ہیں۔مزید برآں وزیراعظم شہباز شریف نے کفایت شعاری اور توانائی کی بچت کے پیش نظر لاہور میں یوم پاکستان کی سادہ مگر پروقار تقریب میں قومی پرچم سربلند کیا۔

اس موقع پر وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اﷲ تارڑ بھی موجود تھے ۔کفایت شعاری پالیسی کے تحت جہاں روایتی فوجی پریڈ اور تمام بڑی تقریبات منسوخ کر کے پرچم کشائی کی تقریبات کو انتہائی سادگی سے منانے کا فیصلہ کیاگیا ہے وہیں یوم پاکستان کے موقع پر دیئے جانے والے اعزازات عطا کرنے کی روایتی تقریب بھی موخر کرنے کا اعلان کیا گیا تھا جو اب 28 اپریل کو منعقد ہوگی ۔ وزیراعظم نے تپِ دق (ٹی بی) کے عالمی دن پر اپنے پیغام میں کہا پاکستان عالمی برادری کے ساتھ مل کر ٹی بی جیسے قابل علاج مرض کے مکمل خاتمہ کے عزم کا اعادہ کرتا ہے ۔اس موقع پر میں تمام متعلقہ فریقین، وفاقی و صوبائی حکومتوں، ترقیاتی شراکت داروں، جامعات، نجی شعبے ، میڈیا اور سماجی رہنماؤں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ اجتماعی کاوشوں کو مزید مربوط و مضبوط بنائیں تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ ٹی بی کا شکار کوئی بھی فرد نظرانداز نہ ہو۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں