پاکستان کی مؤثر سفارتکاری ، خطے میں بڑابحران ٹل گیا

پاکستان کی مؤثر سفارتکاری ، خطے میں بڑابحران ٹل گیا

ترکیہ اور مصر کیساتھ اشتراک سے بیک چینل ڈپلومیسی کے ذریعے پیشرفت ہوئی متوازن ڈپلومیسی کے ذریعے پاکستان نے امریکہ اور ایران دونوں کیساتھ اعتماد قائم رکھا علاقائی اور بین الاقوامی تجزیہ کاروں نے پاکستان کی ثالثی کی ذمہ دارانہ کوششوں کو سراہا

اسلام آباد (عدیل وڑائچ)ایران،امریکہ کشیدگی میں کمی کے لیے پاکستان کی مؤثر سفارتکاری کلیدی کردار بن گئی۔ مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیان، جس میں ایران کے خلاف ممکنہ ملٹری اسٹرائیکس کو روکنے کا عندیہ دیا گیا کو سفارتی حلقے ایک بڑے ڈی-ایسکلیشن (کشیدگی میں کمی) کے اشارے کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔اس پیش رفت میں پاکستان کا کردار نمایاں طور پر سامنے آیا ہے جس نے ترکیہ اور مصر کے ساتھ مل کر پسِ پردہ سفارتکاری کے ذریعے اہم کردار ادا کیا۔ ذرائع کے مطابق گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران پاکستان، ترکیہ اور مصر کے درمیان قریبی رابطے جاری رہے اور تینوں ممالک نے امریکہ اور ایران کے درمیان پیغامات کی ترسیل کے لیے بیک چینل ڈپلومیسی کو مؤثر انداز میں استعمال کیا۔

اس خاموش سفارتی سرگرمی کا بنیادی مقصد ممکنہ فوجی تصادم کو روکنا اور خطے کو ایک بڑے بحران سے بچانا تھا۔ پاکستان کی قیادت نے اس پورے عمل میں مرکزی حیثیت اختیار کی۔ وزیراعظم شہباز شریف نے اعلیٰ سطح پر سفارتی روابط کو متحرک رکھا جبکہ چیف آف آرمی سٹاف فیلڈ مارشل عاصم منیر نے سٹریٹجک سطح پر علاقائی اور بین الاقوامی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ اہم engagements کیے ۔ان کوششوں کا محور صرف کشیدگی میں کمی نہیں بلکہ ایک پائیدار امن کی بنیاد رکھنا تھا۔ سفارتی ماہرین کے مطابق پاکستان نے اس حساس صورتحال میں بیلنسڈ ڈپلومیسی کا مظاہرہ کیا-ایک طرف امریکہ کے ساتھ اپنے تعلقات کو برقرار رکھا جبکہ دوسری جانب ایران کے ساتھ بھی اعتماد پر مبنی رابطے قائم رکھے ۔

یہی متوازن حکمتِ عملی پاکستان کو ایک قابلِ اعتماد ثالث (mediator) کے طور پر سامنے لائی۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ترکیہ اور پاکستان کی مشترکہ سفارتی کوششیں اس بات کی غماز ہیں کہ اب علاقائی طاقتیں تنازعات کے حل کے لیے فوجی راستے کے بجائے مذاکرات، مفاہمت اور بیک چینل رابطوں کو ترجیح دے رہی ہیں۔ مصر کی شمولیت نے اس سفارتی کوشش کو مزید تقویت دی، خاص طور پر عرب دنیا میں اس کے اثر و رسوخ کے باعث۔بین الاقوامی حلقوں میں بھی پاکستان کی اس حکمتِ عملی کو سراہا جا رہا ہے ۔ سفارتی ذرائع کے مطابق پاکستان نے نہ صرف حالات کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے ذمہ دارانہ رویہ اختیار کیا بلکہ مختلف عالمی طاقتوں کے ساتھ اپنے روابط کو بروئے کار لا کر کشیدگی کم کرنے میں عملی کردار ادا کیا۔یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مشرقِ وسطیٰ آگ کی لپیٹ میں ہے اور کسی بھی نئی محاذ آرائی کے عالمی اثرات مرتب ہو سکتے تھے ۔ ایسے میں پاکستان کی فعال اور خاموش سفارتکاری نے ایک ممکنہ بڑے بحران کو ٹالنے میں اہم کردار ادا کیا۔ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر یہ سفارتی رفتار برقرار رہی تو مستقبل میں پاکستان نہ صرف خطے میں بلکہ عالمی سطح پر بھی ایک مؤثر امن ساز (peace broker) کے طور پر اپنی شناخت مزید مضبوط کر سکتا ہے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں