قرارداد پاکستان سے 2026 تک : 86 سالہ سفر میں سیاسی و معاشی چیلنجز، ایٹمی قوت، 5 جی کے سنگ میل
ملک 1947کے بعد 9سال آئین سے محروم، 1958میں پہلا مارشل لا، 1965میں بھارت سے جنگ، 1971میں دولخت 60کی دہائی صنعتی ترقی کا سنہری دور، جی ڈی پی 6فیصد سے بھی اوپر، 1990میں سیاسی عدم استحکام سے ترقی کی رفتار سست ہو گئی 1974کی اسلامی سربراہی کانفرنس، 1998میں جوہری دھماکوں سے دنیا کی ساتویں ایٹمی طاقت، 2015میں سی پیک کا آغاز ہوا 1988بے نظیر بھٹو عالمِ اسلام میں پہلی خاتون وزیرِ اعظم بنیں، 2013میں جمہوری عمل سے پرامن طریقے اقتدار منتقل کیا گیا
اسلام آباد (ایس ایم زمان)قرارداد پاکستان کی 23 مارچ 1940 کو منظوری سے لے کر 23 مارچ 2026 تک پاکستان نے سیاسی اور معاشی محاذوں پر طویل اور پرپیچ سفر طے کیا ہے ۔ اس 86 سالہ تاریخ میں ملک نے جہاں ایٹمی قوت بننے اور فائیو جی سروس شروع کرنے جیسے سنگ میل عبور کیے ، وہاں معاشی عدم استحکام اور قرضوں کے بوجھ جیسے سنگین چیلنجز کا بھی سامنا ہے ۔پاکستان کی سیاسی تاریخ جمہوریت اور فوجی حکومت کے درمیان رہی ہے ۔ 1947 میں قیام کے بعد ابتدائی نو سال تک ملک کا اپنا آئین نہیں تھا، جس کے بعد 1956، 1962 اور بالآخر 1973 کا متفقہ آئین سامنے آیا۔ 1971 میں ملک کا دو لخت ہونا ایک بڑا سیاسی و جغرافیائی دھچکا تھا، تاہم 1990 کی دہائی میں دو جماعتی نظام کی واپسی اور 2000 کے بعد دہشت گردی کے خلاف جنگ نے ملکی سیاست پر گہرے اثرات مرتب کیے ۔ 2024 کے انتخابات کے بعد اب ملک میں ایک نئی سیاسی صف بندی موجود ہے جو معاشی بحالی کو اپنی اولین ترجیح قرار دیتی ہے۔
قیام پاکستان کے وقت معیشت کا حجم نہایت چھوٹا تھا اور جی ڈی پی کا زیادہ تر انحصار زراعت پر تھا۔ 1960 کی دہائی میں صنعتی ترقی کی بدولت جی ڈی پی گروتھ 6 فیصد سے تجاوز کر گئی تھی، جسے پاکستان کا سنہری دور بھی کہا جاتا ہے ۔ 1990 کی دہائی میں معاشی لبرلائزیشن شروع ہوئی، لیکن سیاسی عدم استحکام نے ترقی کی رفتار سست کر دی۔ 2020 میں کورونا وبا اور 2022 کے تباہ کن سیلاب نے معیشت کو شدید نقصان پہنچایا۔ آج 2026 میں، حکومت 13ویں پانچ سالہ منصوبے کے تحت جی ڈی پی گروتھ کو دوبارہ 6 فیصد تک لے جانے کے لیے کوشاں ہے ، جس میں ڈیجیٹل اکانومی اور نجی سرمایہ کاری پر توجہ دی جا رہی ہے ۔پاکستان کی معاشی تاریخ کا ایک افسوسناک پہلو قرضوں میں مسلسل اضافہ رہا ہے ۔ ابتدائی دہائیوں میں قرضے ترقیاتی منصوبوں کے لیے لیے گئے ، لیکن بعد میں یہ بجٹ خسارہ پورا کرنے اور قرضوں کی ادائیگی کے لیے استعمال ہونے لگے ۔ 1970 کی دہائی میں بیرونی قرضوں کا حجم بڑھنا شروع ہوا جو 2020 تک پہنچتے پہنچتے جی ڈی پی کے 70 فیصد سے بھی تجاوز کر گیا۔ 23 مارچ 1940 (قراردادِ پاکستان) سے لے کر 2026 تک کے سفر میں پاکستان نے کئی سیاسی نشیب و فراز دیکھے ہیں۔
لاہور کے منٹو پارک (اقبال پارک) میں 23 مارچ 1940 کو آل انڈیا مسلم لیگ کے سالانہ اجلاس میں \"قراردادِ پاکستان\" منظور ہوئی جس نے علیحدہ وطن کی بنیاد رکھی۔برصغیر کی تقسیم کے نتیجے میں دنیا کے نقشے پر پاکستان ایک آزاد ریاست کے طور پر ابھرا اور قائد اعظم محمد علی جناح پہلے گورنر جنرل بنے ۔قائد اعظم محمد علی جناح کا انتقال اور مسئلہ کشمیر پر پہلی پاک بھارت جنگ ہوئی۔ پاکستان کا پہلا آئین منظور ہوا اور ملک باقاعدہ طور پر \"اسلامی جمہوریہ پاکستان\" قرار پایا۔ فیلڈ مارشل ایوب خان نے 1958 میں ملک میں پہلا مارشل لاء لگایا۔ ستمبر 1965 میں پاکستان اور بھارت کے درمیان پہلی 17 روزہ جنگ ہوئی جس کے بعد معاہدہ تاشقند طے پایا۔ ملک کے مشرقی حصے میں سیاسی بحران کے بعد 1971 میں دوسری پاکستان بھارت جنگ ہوئی جس کے نتیجے میں مشرقی پاکستان الگ ہو کر بنگلہ دیش بن گیا۔ جس کے بعد 1971 میں ذوالفقار علی بھٹو نے حکومت سنبھالی اور ایٹمی پروگرام شروع کیا اور موجودہ متفقہ آئین نافذ کیا گیا جس نے ملک کو وفاقی پارلیمانی نظام دیا،لاہور میں 1974 میں دوسری اسلامی سربراہی کانفرنس منعقد ہوئی اور اسی سال بھارت کے ایٹمی دھماکے کے جواب میں پاکستان نے اپنے ایٹمی پروگرام کی بنیاد رکھی۔ جنرل ضیاء الحق نے 1977 میں ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت ختم کرکے مارشل لاء لگا دیا۔
سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی کی سزا پاکستان کی تاریخ کا بڑا واقعہ ہے ، 1979 میں شروع ہونے والی افغان جنگ میں پاکستان کا کلیدی کردار رہا اور اسی دوران ملک میں اسلامائزیشن کے قوانین نافذ ہوئے ۔ بے نظیر بھٹو 1988 میں عالمِ اسلام کی پہلی خاتون وزیرِ اعظم بنیں۔ وزیراعظم میاں نواز شریف کے دور حکومت میں بھارت کے ایٹمی تجربات کے جواب میں 1998 میں چاغی کے مقام پر کامیاب ایٹمی دھماکے کر کے پاکستان دنیا کی ساتویں ایٹمی قوت بن گیا۔کارگل کی جنگ 1999 ہوئی اور اسی سال اکتوبر میں جنرل پرویز مشرف نے نواز شریف کی حکومت ختم کر کے اقتدار سنبھال لیا ،امریکا میں نائن الیون ٹوئن ٹاور حادثے کے بعد پاکستان دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ میں فرنٹ لائن ریاست بن گیا۔ صدر مشرف کے استعفے کے بعد 2008 میں آصف علی زرداری صدر بنے ۔ملکی تاریخ میں پہلی بار 2013 میں ایک جمہوری حکومت نے دوسری منتخب حکومت کو پرامن طریقے سے اقتدار منتقل کیا، چین پاکستان اقتصادی راہداری (CPEC) کے منصوبے کا باقاعدہ آغاز 2015 میں ہوا۔عمران خان کی قیادت میں تحریک انصاف نے 2018 میں حکومت بنائی۔ اور 2022 میں تحریکِ عدم اعتماد کے ذریعے عمران خان کی حکومت کا خاتمہ ہوا اور شہباز شریف کی قیادت میں پی ڈی ایم کی حکومت قائم ہوئی۔ اسی سال ملک نے تاریخ کے بدترین سیلاب کا سامنا کیا۔ فروری 2024 میں عام انتخابات کا انعقاد ہوا جس کے نتیجے میں نئی حکومت تشکیل پائی۔پاکستان نے 2025 میں معاشی استحکام کے لیے آئی ایم ایف کے نئے پروگرام اور خلیجی ممالک کے ساتھ بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کے معاہدوں پر عملدرآمد شروع کیا۔