منی لانڈرنگ :شہباز ،حمزہ کی بریت کیخلاف درخواست خارج
شواہد پیش کرنے کا موقع دئیے بغیر ہی ملزموں کو بری کیا گیا،وکیل کے دلائل مقدمے کو عرصہ گزر گیا،آپ آج عدالت آگئے ،چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ
لاہور (کورٹ رپورٹر)لاہور ہائیکورٹ نے منی لانڈرنگ کے مقدمے میں وزیراعظم شہباز شریف اور حمزہ شہباز کے خلاف درخواست پر رجسٹرار آفس کا اعتراض برقرار رکھتے ہوئے درخواست ناقابل سماعت قرار دے کر خارج کر دی۔چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس عالیہ نیلم نے 16 ارب روپے کی منی لانڈرنگ کے مقدمے میں وزیراعظم شہباز شریف اور حمزہ شہباز کی بریت کے خلاف درخواست پر سماعت کی، دوران سماعت درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ شہباز شریف نے وزیراعظم بننے کے 15 روز میں اپنے حق میں فیصلہ کروا لیا، فردِ جرم عائد ہونے سے قبل شہباز شریف اور حمزہ شہباز شریف نے بریت کی درخواستیں دائر کیں، سپیشل سنٹرل کورٹ کے جج نے شہباز شریف اور حمزہ شہباز شریف کو بری کیا،غیر قانونی فیصلے کے تحت سپیشل سنٹرل کورٹ کے جج نے ملزموں کو ریلیف دیا،پراسیکیوشن نے عدالت میں تقریباً 100 گواہ پیش کرنے تھے ، اربوں روپے کے سنگین مقدمے میں پراسیکیوشن کو شواہد پیش کرنے کا موقع دئیے بغیر فیصلہ سنانا ناانصافی ہے ، عدالت ٹرائل کورٹ کے فیصلے کو غیر قانونی اور کالعدم قرار دے ۔ چیف جسٹس نے وکیل سے استفسار کیا کہ آپ کس طرح متاثرہ فریق ہیں؟کوئی بھی چار پانچ سالوں بعد آئے اور فیصلوں کو چیلنج کر دے ، آپ سمجھتے ہیں ہم کوئی نیا قانون بنا دیں، یہ عوامی مفاد کا کیس نہیں ہے ، رجسٹرار آفس نے درخواست گزار کے متاثرہ فریق نہ ہونے کا اعتراض عائد کیا تھا آپ اس مقدمے میں کیسے فریق ہیں؟انہوں نے کہا کہ اس مقدمے کو اتنا عرصہ گزر گیا اور آپ آج عدالت آگئے ہیں، عدالت نے رجسٹرار آفس کے اعتراض کو برقرار رکھتے ہوئے درخواست ناقابل سماعت قرار دے کر خارج کر دی۔درخواست ایڈووکیٹ وشال احمد شاکر نے سینئر قانون دان عامر سعید راں کی وساطت سے دائر کی تھی۔