خواتین کے مالی حقوق کے تحفظ کیلئے حکومت قانون سازی کرے : اسلام آباد ہائیکورٹ
جہیز، ذاتی تحائف خاتون کی ملکیت، واپس نہ ملنے پر قیمت لے سکتی، جائیداد برابر تقسیم کی شرط نکاح نامہ میں شامل کی جائے سکولز، کالجز میں ہر لڑکی کو ازدواجی حقوق کی تعلیم دی جائے :تحریری فیصلہ، فیملی کورٹ کو دو ماہ میں جہیز واپسی کا فیصلہ کرنیکا حکم
اسلام آباد (اپنے نامہ نگار سے )اسلام آباد ہائیکورٹ نے شوہر سے علیحدگی کے بعد جہیز کے سامان کی واپسی سے متعلق دائر درخواست پر بڑا فیصلہ جاری کرتے ہوئے فیملی کورٹ کو دو ماہ میں فیصلہ کرنے کا حکم دیا اور حکومت کو خواتین کے مالی حقوق کے تحفظ اور موثر نفاذ کے لیے قانون سازی کی ہدایت کردی۔ جسٹس محسن اختر کیانی نے 28 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ میں اسلامی قوانین اور قرآنی آیات کے علاوہ غیر ملکی عدالتوں کے فیصلوں کا حوالہ بھی دیا،عدالت نے فیملی کورٹ اور ڈسٹرکٹ کورٹ کے فیصلے کالعدم قرار دیتے ہوئے کہاکہ ایپلٹ کورٹ نے غلطی کی اور درخواست گزار/بیوی کے حقوق سے انکار کیا، شادی کے دوران حاصل جائیداد میں بیوی کا حق تسلیم کیا جاسکتا بشرطیکہ اس کی شراکت داری ثابت ہو، جہیز اور دلہن کے ذاتی تحائف خاتون کی ملکیت ہیں، جہیز کا سامان واپس نہ ہونے پر خاتون متبادل قیمت حاصل کر سکتی ہے ۔
حکومت قانون سازی سے خواتین کے ملکیتی حقوق کا واضح طور پر اعلان اور تحفظ کرے اور ایسی قانون سازی کرے جس کے تحت گھریلو خواتین کو شادی کے دوران حاصل اثاثوں میں مناسب حصہ دیا جاسکے ، ان اقدامات میں خواتین کے مفادات کو مدنظر رکھا جائے ۔ عدالت نے نکاح نامہ میں بھی ترمیم کرنے کی ہدایت کی اور کہاکہ نکاح نامہ میں ترمیم کر کے شادی کے بعد شوہر کی ملکیتی کوئی بھی جائیداد شادی کے دوران، طلاق کے بعد یا شوہر کی موت کی صورت میں بیوی کے ساتھ مساوی تقسیم ہونے کی شرط عائد ہو، یہ شرط بغیر قانون سازی متبادل راستے کے طور پر پاکستان میں بیوی کے جائیداد کے حقوق کی حفاظت کرے گی۔ سکول، کالج اور یونیورسٹی سطح پر ہر لڑکی کو ازدواجی حقوق کی تعلیم دی جائے ، اس سے خواتین نکاح نامہ کے کالم 18 میں اپنے حقوق کا حوالہ دے سکیں گی۔