جنگ بندی ہماری شرائط پر:ایران:شکست نہ مانی تو مزید سخت حملے:امریکا
امریکا کا 15نکاتی منصوبہ مسترد ، قتل ِ عام کا خاتمہ، مزاحمتی گروہوں کیخلاف جنگ ختم ،دوبارہ جنگ روکنے کامربوط طریقہ کار،نقصانات کا ازالہ، آبنائے ہرمز پر ایران کا اختیار تسلیم:ایرانی شرائط ایرانی ایٹمی پروگرام کا خاتمہ ، میزائل پروگرام میں کمی،آبنائے ہرمز تک رسائی:جنگ بندی کیلئے امریکی تجاویز،صدر ٹرمپ جھوٹ نہیں بولتے ،وہ ’’جہنم کھولنے ‘‘ کیلئے تیار ہیں:وائٹ ہائوس امریکی طیارہ بردار جہاز پرکروز میزائلوں سے حملہ ،ایف 18طیارہ تباہ ، سعودی عرب نے 3،کویت نے 6ڈرونز مار گرائے ،لبنان پر حملے میں 6،عراق میں 7 ہلاک ،جنگ قابو سے باہر :اقوام متحدہ
واشنگٹن ،تہران (نیوز ایجنسیاں )ایران نے امریکا کا 15 نکاتی مجوزہ منصوبہ مسترد کر دیا اور جنگ بندی کے لیے پانچ شرائط پیش کر دیں۔ امریکا کا کہنا ہے کہ مذاکرات جاری ہیں اور اگر ایران نے شکست نہ مانی تو سخت حملوں کا سامنا کریگا،تفصیلات کے مطابق ایرانی سرکاری پریس ٹی وی کے مطابق اسے ایک سینئر سیاسی و سکیورٹی عہدیدار نے بتایا ہے کہ ایران صدر ٹرمپ کو اس جنگ کے خاتمے کے وقت کا تعین نہیں کرنے دے گا،اس عہدیدار کا مزید کہنا تھا کہ ‘ایران اس جنگ کا اختتام اپنی مرضی کے وقت پر کرے گا جب اس کی شرائط مان لی جائیں گی، ایرانی نشریاتی ادارے کے مطابق سیاسی و سکیورٹی عہدیدار نے اسے مزید بتایا کہ واشنگٹن متعدد سفارتی ذرائع سے مذاکرات کی کوشش کر رہا ہے اور ایسی تجاویز پیش کر رہا ہے جو ایران کے نزدیک ‘حدود سے تجاوز’ ہیں۔اس عہدیدار نے مذاکرات کے لیے ایران کی پانچ شرائط بھی پیش کی ہیں جن میں :دشمن کی طرف سے ‘جارحیت اور قتلِ عام’ کا مکمل خاتمہ،ایران کے خلاف دوبارہ جنگ کو روکنے کے لیے مربوط طریقہ کار،جنگ میں ہونے والے نقصانات کے معاوضے کی ضمانت،خطے میں تمام محاذوں اور ‘مزاحمتی گروہوں’ کے خلاف جنگ کا خاتمہ اور بین الاقوامی برادری کاآبنائے ہرمز پر ایران کا اختیار تسلیم کرنا شامل ہیں ،قبل ازیں متعدد خبر رساں اداروں نے رپورٹ کیا تھا امریکا نے بذریعہ پاکستان ایران کو یہ مجوزہ منصوبہ بھیجا ہے ،پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ مجوزہ منصوبے میں ان معاملات سے جڑے نکات درج ہیں:ایران پر پابندیوں میں نرمی۔ایران اور امریکا کے درمیان سویلین جوہری تعاون۔ایران کے نیوکلیئر پروگرام کا خاتمہ۔انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کی طرف سے ایران کی نگرانی۔
ایران کے میزائل پروگرام میں کمی اور آبنائے ہرمز تک رسائی۔خیال رہے گزشتہ روز پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف نے کہا تھا کہ ان کا ملک اس تنازع کے لیے مذاکرات کی میزبانی کے لیے تیار ہے ۔دوسری جانب ایک اعلیٰ ایرانی عہدیدار نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ ایران خلیج میں جنگ کے خاتمے کے لیے امریکا کی پیشکش کا اب بھی جائزہ لے رہا ہے ، اگرچہ ابتدائی ردِعمل منفی تھا۔ حالانکہ ایرانی حکام نے اعلانیہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے ساتھ کسی بھی قسم کے مذاکرات کے امکان کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا تاہم پاکستان کو باضابطہ جواب دینے میں تاخیرہوئی جس نے واشنگٹن کی جانب سے 15 نکاتی تجویز پہنچائی تھی جو اس بات کا اشارہ ہے کہ تہران کے بعض حلقے کم از کم اس پر غور کر رہے ہیں،ایک اعلیٰ پاکستانی سکیورٹی اہلکار نے بتایا کہ پاکستان نے ایران کے وزیرِ خارجہ سے اس معاملے پر دوبارہ رابطہ کیا ہے اور اب تک باضابطہ جواب کا انتظار ہے ،ایک دوسرے پاکستانی ذریعے نے کہا: ایرانیوں نے ہمیں بتایا ہے کہ وہ آج(گزشتہ )رات جواب دیں گے ۔ میڈیا میں یہ خبر چل رہی ہے کہ انہوں نے انکار کر دیا ہے ، لیکن ہمیں ایران کی جانب سے کوئی سرکاری تصدیق موصول نہیں ہوئی، اس لیے ہم صرف انتظار کر رہے ہیں، وہ سب زیرِ زمین ہیں اور رابطہ کرنا ایک بڑا چیلنج بنا ہوا ہے ۔ایک سینئر پاکستانی سکیورٹی اہلکار نے بتایا کہ پاکستانی انٹیلیجنس نے امریکی تجاویز ایران تک پہنچائیں، جبکہ وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی سے اس حوالے سے رابطہ بھی کیا۔
پاکستانی عہدیدار کے مطابق، اب تک ایران کی جانب سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا اور نہ ہی مذاکرات کے لیے کسی تاریخ یا مقام کی تصدیق کی گئی ہے ۔ایک اور سینئر ایرانی عہدیدار نے اس سے قبل تصدیق کی تھی کہ تہران کو یہ تجاویز موصول ہو چکی ہیں ، اور یہ بھی کہا کہ اگر مذاکرات آگے بڑھتے ہیں تو یہ پاکستان یا ترکی میں منعقد ہو سکتے ہیں۔ادھر اسرائیلی کابینہ کے تین ذرائع نے بتایا کہ وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو کی سکیورٹی کابینہ کو امریکی تجاویز پر بریفنگ دی گئی ہے ۔ ان کے مطابق تجاویز میں ایران کے اعلیٰ درجے پر افزودہ یورینیم کے ذخائر کو ختم کرنا، یورینیم کی افزودگی روکنا، اس کے بیلسٹک میزائل پروگرام کو محدود کرنا اور خطے میں اپنے اتحادیوں کی مالی معاونت بند کرنا شامل ہے ۔ادھر ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم نے ایک نامعلوم فوجی ذریعے کے حوالے سے بدھ کے روز رپورٹ کیا کہ اگر ایرانی سرزمین یا اس کے جزیروں پر حملے کیے گئے تو ایران باب المندب آبنائے میں ایک نیا محاذ کھول سکتا ہے ، ذریعے کے مطابق ایران اس اہم آبی گزرگاہ-جو بحیرۂ احمر تک جاتی ہے -میں ایک مؤثر اور قابلِ اعتبار خطرہ پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے ۔
ایران کی مشترکہ فوجی کمان کے اعلیٰ ترجمان ابراہیم ذوالفقاری نے ایرانی سرکاری ٹی وی پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو طنز کا نشانہ بناتے ہوئے کہا:کیا آپ کی اندرونی کشمکش اس حد تک پہنچ گئی ہے کہ آپ خود سے ہی مذاکرات کرنے لگے ہیں؟ایک سینئر اسرائیلی دفاعی عہدیدار نے کہا کہ اسرائیل کو اس بات پر شک ہے کہ ایران ان شرائط سے اتفاق کرے گا، اور اسے یہ خدشہ بھی ہے کہ ممکنہ مذاکرات میں امریکی نمائندے کچھ رعایتیں دے سکتے ہیں۔اسرائیل کی جنگی حکمتِ عملی سے واقف ایک ذریعے نے بتایا کہ اسرائیل چاہتا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والا کوئی بھی معاہدہ ایسا ہو جس سے اسرائیل کو پیشگی حملے (پری ایمپٹو اسٹرائیکس) کرنے کا اختیار برقرار رہے ۔
ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف کا کہنا ہے کہ ایران ‘خطے میں امریکا کی ہر قسم کی نقل و حرکت کی نگرانی کر رہا ہے ۔’سوشل میڈیا پر اپنی پوسٹ میں انہوں نے لکھا کہ ‘اپنی سرزمین کے دفاع کے لیے ہمارے عزم کا امتحان نہ لیں۔’مزید براں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کے روز واضح کیا کہ اگر تہران یہ تسلیم نہیں کرتا کہ اسے فوجی طور پر شکست ہوئی ہے تو امریکا ایران پر اور زیادہ سخت حملے کرے گا۔ وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری کیرولین لیوٹ نے صحافیوں کو بتایا کہ صدر ٹرمپ جھوٹ نہیں بولتے اور وہ جہنم کھولنے کے لیے تیار ہیں، اور ایران کو دوبارہ غلطی کرنے کی اجازت نہیں دینی چاہیے ۔لیوٹ نے کہا کہ تہران اگر امریکی شرائط کو قبول نہیں کرتا تو مزید فوجی کارروائیاں بڑھائی جا سکتی ہیں۔ انہوں نے ایران کو صاف واضح پیغام دیا کہ اب مزید غلطی کی کوئی گنجائش نہیں، اور صدر ٹرمپ کسی بھی ضروری اقدام کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔کیرولین لیوٹ نے کہا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات ابھی بھی جاری ہیں اور یہ نتیجہ خیز ہیں۔
تہران ( نیوز ایجنسیاں)ایران نے بدھ کے روز اعلان کیا کہ اس نے ایک امریکی طیارہ بردار بحری جہاز پر کروز میزائلوں کی بوچھاڑ کر دی ہے ، جبکہ مشرقِ وسطیٰ بھر میں حملوں کا سلسلہ جاری ہے ، حالانکہ تقریباً چار ہفتوں سے جاری جنگ کے خاتمے کے لیے پسِ پردہ سفارتی کوششیں بھی ہو رہی ہیں۔یہ تنازع 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر بمباری سے شروع ہوا، جو تیزی سے پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے چکا ہے ۔ اس کے نتیجے میں تیل کی قیمتیں آسمان کو چھونے لگی ہیں اور عالمی معیشت کو شدید خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔سفارت کاروں کے مطابق، وہ پسِ پردہ رابطوں کے ذریعے فریقین کے درمیان پیغامات کا تبادلہ کرنے میں مصروف ہیں، اگرچہ عوامی بیانات میں اس بات پر تضاد پایا جاتا ہے کہ آیا واقعی مذاکرات جاری ہیں یا نہیں۔تاہم فوجی کارروائیوں میں کوئی کمی نہیں آئی، اور ایران، اسرائیل، لبنان، بحرین، کویت، اردن اور سعودی عرب میں مختلف مقامات کو نشانہ بنایا گیا۔
ایران کی فوج نے کہا کہ اس کے کروز میزائلوں نے امریکی طیارہ بردار بحری بیڑے یو ایس ایس ابراہام لنکن کو اپنی پوزیشن تبدیل کرنے پر مجبور کر دیا، اور خبردار کیا کہ جب یہ دشمن بحری بیڑا ان کی زد میں آئے گا تو اس پر شدید اور فیصلہ کن حملے کیے جائیں گے ۔دوسری جانب، اسرائیل نے دعویٰ کیا کہ اس نے تہران میں مختلف اہداف کو نشانہ بنایا، نیز وسطی شہر اصفہان میں واقع آبدوز سازی کے ایک مرکز پر بھی حملہ کیا۔ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے اعلان کیا ہے کہ انہوں نے اسرائیل اور کویت، اردن اور بحرین میں امریکی فوجی اڈوں پر نئے حملے کیے ہیں جبکہ2 امریکی جنگی طیاروں ایف 18 کو تباہ کر دیاہے ۔ ایک بیان میں پاسداران انقلاب نے کہاہے کہ امریکی ایف 18 جہاز کو ایران کی فضائی حدود میں نشانہ بنایا گیا ہے ۔ ادھر سعودی عرب کی وزارتِ دفاع نے کہا ہے کہ اس نے ملک کے مشرقی حصے میں تین ڈرونز کو تباہ کر دیا ہے ۔ محکمہ شہری دفاع کے حکام کا کہنا ہے کہ تباہ شدہ میزائل کا ایک ٹکڑا دو گھروں کی چھت پر گِرا لیکن کسی کے زخمی ہونے کی اطلاعات نہیں ملیں،کویت کے نیشنل گارڈ کے ترجمان کے مطابق انھوں نے علی الصبح چھ ڈرونز کو تباہ کیا ہے۔
ادھر متحدہ عرب امارات کے صدارتی مشیر انور قرقاش کا کہنا ہے کہ متحدہ عرب امارات کو ہتھیاروں اور فوجی دستوں کی ضرورت نہیں، یو اے ای وضاحت چاہتا ہے کہ مشکل وقت میں کن ممالک پر بھروسہ کیا جاسکتا ہے ،کچھ ممالک نے حقیقی حمایت فراہم کی جب کہ کچھ صرف بیانات تک محدود رہے ،لبنان کی نیشنل نیوز ایجنسی کی جانب سے سامنے آنے والی خبروں میں یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ صیدا کے جنوبی علاقے میں اسرائیلی دفاعی افواج کے حملوں میں کم از کم چھ افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہو گئے ہیں۔ عراق کے صوبے الانبار میں ایک فوجی ٹھکانے پر میزائل حملہ کیا گیا، جس میں کم از کم سات اہلکار ہلاک اور 13 دیگر زخمی ہو گئے ۔ علاوہ ازیں بین الاقوامی چیمبر آف کامرس کے سربراہ نے خبر دار کیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ بدترین صنعتی بحران کا سبب بن سکتی ہے ۔جبکہ اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ میں جنگ قابو سے باہر ہو چکی ہے ، اور خبردار کیا کہ جتنی زیادہ یہ لڑائی جاری رہے گی، اتنا ہی انسانی اور معاشی نقصان بڑھتا جائے گا۔انہوں نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، دنیا ایک وسیع تر جنگ کے دہانے پر کھڑی ہے ، انسانی مصائب میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے ، اور عالمی معیشت کو ایک گہرا جھٹکا لگنے کا خدشہ ہے ۔ یہ معاملہ حد سے بڑھ چکا ہے ۔