مذاکرات میں نرمی اختیار نہ کرنے پر سیز فائر نہیں ہو گا، ڈاکٹر فرخ

مذاکرات میں نرمی اختیار نہ کرنے پر سیز فائر نہیں ہو گا، ڈاکٹر فرخ

امریکاایران پر اسلحہ کا بڑا پریشر، سیاسی ، فوجی پریشر بھی ہے کہ جنگ بندی یا جنگ ختم کی جائے تیل لینے اور دینے والے ممالک کی کوشش جنگ زیادہ لمبی نہ چلے :دنیا مہر بخاری کیساتھ

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک)ماہر معاشیات ڈاکٹر فرخ سلیم نے کہا ہے کہ جب دو حریفوں میں مذاکرات شروع ہو تے ہیں تو دونوں طرف سے سخت پوزیشن لی جاتی ہے ، مذاکرات کی ٹیبل پردونوں ممالک نرمی اختیار نہیں کرینگے تو پھر معاہدہ یاسیز فائر نہیں ہو گا، ہوتا یہی ہے کہ مذاکرات کے آغاز پرسخت پوزیشن لیکر بعد میں پھر نرمی دکھائی جاتی ہے ۔دنیا نیوز کے  پروگرام دنیا مہر بخاری کے ساتھ میں گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر فرخ سلیم نے کہا جب کچھ ممالک جنگ میں ملوث ہوتے ہیں دونوں اطراف دو یا تین بڑے پریشر ہوتے ہیں،اس وقت امریکا اور ایران پر اسلحہ کا بہت بڑا پریشر ہے ، ایک طرف سے بلیسٹک میزائل اور ڈرون اوردوسر ی طرف انٹرسیپٹرختم ہو رہے ہیں ، پھر دونوں ممالک مجبور ہوجاتے ہیں ۔صدر ٹرمپ پر مارکیٹس کا اضافی پریشر ہے ، سٹاک مارکیٹس ،بانڈ مارکیٹ کا نقصان ہونے لگا ہے ، یہ امریکا جیسا ملک برداشت نہیں کرسکتا، تیسری وجہ سامنے یہ آئی ہے کہ امریکا میں مڈٹرم الیکشن نومبر میں ہونا ہے ،کئی ماہ پہلے صدر کے لیے جنگ بندی کرنا ضروری ہے تاکہ وہ معیشت پر فوکس کرسکے ، جہاں سے اسے ووٹ ملنے ہیں،دوسری طرف ایران کو دیکھیں،اس نے پہلے دن ساڑھے تین سو کے قریب حملوں میں بلیسٹک میزائل اور ڈرون استعمال کئے ،دوسرے دن دوسو بلیسٹک میزائل اور ڈرون حملے کئے ،25ویں دن ایران کی ایوریج ایک درجہ پر آگئی، بظاہر یہ نظر آتا ہے ا یک طرف انٹرسیپٹراوردوسری طرف سے بلیسٹک میزائل اور ڈرون ختم ہورہے ہیں، دونوں پر سیاسی اور فوجی پریشر بھی ہے کہ جنگ بندی کی جائے یا جنگ ختم کی جائے ۔انہوں نے آبنائے ہرمز کی بندش پر کہا اس سے دونوں اطراف نقصان ہورہا ہے ،ایک جو تیل پروڈیوس کرنیوالے ،سعودی عرب، کویت، یواے ای،عراق کا تیل یہاں سے گزرتا ہے ، یہاں تک ایران کا تیل بھی آبنائے ہر مز سے گزرتا ہے ،دوسری طرف بڑی بڑی طاقتیں تیل لیتی ہیں،ان میں چین، جاپان، سائوتھ کوریا،ویت نام ،پاکستان،بھارت، سری لنکا،بنگلہ دیش شامل ہیں ۔ تیل لینے اور دینے والے ممالک کی کوشش ہوگی کہ جنگ زیادہ لمبی نہ چلے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں