قائمہ کمیٹی نے مری پوسٹ آفس کو ٹی ہاؤس بنانے کا عمل روکدیا
قومی ورثہ عمارتوں کو تجارتی استعمال کیلئے تبدیل نہ کیا جائے ، سینیٹ کمیٹی مواصلات پاکستان پوسٹ کی ڈیجیٹل اصلاحات کیلئے جامع منصوبہ جلد پیش کرنے ہدایت
اسلام آباد (نیوز رپورٹر)سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے مواصلات نے مری کے تاریخی پوسٹ آفس کو ٹی ہاؤس میں تبدیل کرنے کے عمل کو فوری طور پر روکنے کی ہدایت جاری کرتے ہوئے واضح کیا کہ قومی ورثے کی حامل عمارتوں کو ایسے تجارتی مقاصد کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا جو ان کی تاریخی حیثیت کو متاثر کریں۔ کمیٹی کا اجلاس سینیٹر پرویز رشید کی صدارت میں ہوا جس میں پاکستان پوسٹ کی کارکردگی، مالی خسارے اور ادارے کے اثاثوں کے تحفظ سے متعلق امور کا جائزہ لیا گیا۔
کمیٹی نے مری کے تاریخی پوسٹ آفس کو کیفے یا ٹی ہاؤس میں تبدیل کرنے کی اطلاعات پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ عمارت میں جاری تمام تجارتی سرگرمیاں فوری طور پر بند کی جائیں اور اس کی تاریخی حیثیت ہر صورت محفوظ بنائی جائے ۔ کمیٹی نے پاکستان پوسٹ کی مجموعی کارکردگی اور مالی صورتحال پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ ملک بھر میں 13 ہزار ڈاکخانے اور 21 ہزار ملازمین ہونے کے باوجود ادارہ نجی کمپنیوں کا مؤثر مقابلہ نہیں کر پا رہا جبکہ نجی کوریئر کمپنی ٹی سی ایس محدود افرادی قوت کے ساتھ اربوں روپے آمدن حاصل کر رہی ہے اور پاکستان پوسٹ کو سالانہ تقریباً 19 ارب روپے خسارے کا سامنا ہے ۔ کمیٹی نے پاکستان پوسٹ انتظامیہ کو ہدایت کی کہ ادارے کی ڈیجیٹلائزیشن اور اصلاحات کے لیے جامع منصوبہ جلد پیش کیا جائے۔