والد کے قاتل کو عمر قید بھی کم، کیس کا فیصلہ پاکستان کو ہلا کر رکھ دیگا : سپریم کورٹ
قصاص یا دیت سے معافی ممکن، حل نکالنا ہوگا:جسٹس اشتیاق، زینب کیس کے بعدکسی کو پھانسی ہوئی نہ ہو گی،جسٹس ہاشم ملزم مدعی ایک دوسرے کے قتل کر چکے ، پختون روایات کے مطابق حساب برابر:ریمارکس، سزائے موت عمر قید میں تبدیل
اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک، این این آئی) سپریم کورٹ میں باپ کو قتل کرنے والے ملزم محمد صفدر کی سزا معافی کے کیس کی سماعت کے دوران مجرم کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ میرا موکل 14 سال سے قید میں ہے ۔ جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا باپ کو مارنے والے کو 24 سال قید بھی کم ہے ۔ جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کہا قصاص یا دیت کے تحت معافی ممکن ہے مگر ایسے کیسز کا کوئی حل نکالنا ہوگا۔ جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا اس کیس میں فیصلہ دے کر کوئی راستہ نکالنا ہوگا اور اس طرح کے کیسز کے حل کے لیے اہم فیصلہ دینا چاہیے۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے مزید کہا والد کو مارنے والے کو کم از کم کلین چٹ تو نہیں ملنی چاہیے ۔ جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا ہم 8 اپریل کو اس پر کوئی فیصلہ دیں گے ، ایسا فیصلہ جو پاکستان کو ہلا کر رکھ دے گا۔ جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔ سپریم کورٹ نے سیشن عدالت گجرات کے احاطے میں قتل کیس میں ملزم کی سزائے موت عمر قید میں تبدیل کر دی۔ جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے سماعت کی۔
وکیلِ صفائی نے دلائل میں کہا ملزم عمر قید کی سزا پوری کر چکا، ایک سزا کے بعد دوسری سزا نہیں دی جا سکتی، نیلسن منڈیلا رولز کے تحت بھی ملزم ریلیف کا حق دار ہے ۔ جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیئے کہ زینب قتل کیس کے بعد کسی کو پھانسی نہیں ہوئی اور نہ ہی ہو گی۔ ملزم اور مدعی دونوں فریق ایک دوسرے کے افراد قتل کر چکے اور ہماری پختون روایات کے مطابق حساب برابر ہو چکا، عدالت کے لیے کیس خاصا پیچیدہ اور کنفیوزنگ ثابت ہوا۔