ٹرمپ کا جنگ جاری رکھنے کا اعلان، پاکستان ثالثی کیلئے پرعزم
امریکی صدر کے قوم سے خطاب سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ مایوسی کا شکار ہوگئے
(تجزیہ :سلمان غنی )
صدر ٹرمپ کی جانب سے ایران پر حملے جاری رکھنے اور اپنے سٹرٹیجک مقاصد کے حصول تک جنگ جاری رکھنے کے اعلان نے دنیا بھر میں پریشانی کی لہر دوڑا دی ہے ۔ امریکی صدر کا کہنا ہے کہ ایران کی ایئر فورس اور نیوی تباہ ہو چکی ہیں، ان کی ایٹمی صلاحیت اور لیڈر شپ ختم ہو چکی ہے اور ایران اب امریکا کے لیے خطرہ نہیں رہا۔ انہوں نے کہا کہ امریکا اپنے سٹرٹیجک مقاصد کے حصول کے ساتھ اپنا مشن مکمل کر لے گا تاہم ایران کی جانب سے جوابی اقدامات کا سلسلہ جاری ہے اور وہ کسی طور پسپائی اختیار کرنے کے لیے تیار نہیں۔صدر ٹرمپ کے خطاب سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ جنگ کی صورتحال سے خاصے پریشان اور مایوس ہیں۔ ایک ماہ سے زائد عرصے کے باوجود ایران کے ردعمل کے جاری رہنے ، امریکی بیانات میں تضاد اور امریکا کے اندر احتجاجی مظاہروں نے صدر ٹرمپ کی پوزیشن کو متنازعہ بنایا ہے ۔
امریکی صدر ایک طرف جنگی مقاصد حاصل کرنے کی بات کر رہے ہیں تو دوسری جانب جنگ کو مزید دو سے تین ہفتے جاری رکھنے کا اعلان بھی کر رہے ہیں، جو ان کی حکمت عملی میں مایوسی اور دباؤ کا مظہر ہے ۔صدر ٹرمپ کے خطاب میں تین اہم نکات نمایاں ہیں،ایک ایران پر دباؤ برقرار رکھتے ہوئے مذاکرات سے گریز،دوسرا امریکا کی روایتی طاقت اور عسکری قوت کا اظہار جس سے ایران پر ممکنہ دباؤ بڑھانے اور مذاکرات کے لیے ڈیل کی گنجائش برقرار رکھنے کا پیغام جاتا ہے اورتیسرا خلیجی ممالک کو امریکی تحفظ کی یقین دہانی، اگرچہ اس سے خطے میں کشیدگی کم ہونے کے بجائے قائم رہنے کا امکان زیادہ ہے ۔صدر ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کے حوالے سے بھی موقف واضح کیا کہ جب امریکا اپنے مقاصد حاصل کر لے گا تو مسئلہ خود حل ہو جائے گا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ مطلوبہ نتائج حاصل کرنے میں ناکام رہے ہیں اور خلیجی ممالک کو خود اقدام کرنے کا پیغام دے رہے ہیں۔
پاکستان نے اس کشیدہ صورتحال میں ثالثی کے عمل کو جاری رکھا ہے ۔ وزیر اعظم شہباز شریف کی قیادت میں اعلیٰ سطح اجلاس میں پاکستان نے عزم ظاہر کیا کہ وہ جنگ رکوانے اور مذاکراتی عمل کو جاری رکھنے کے لیے اپنا کردار ادا کرے گا۔ پاکستان کے اقدامات کو عالمی سطح پر سراہا گیا ہے اور اگر چین بھی پشت پناہی کرے تو مثبت نتائج کے امکانات موجود ہیں۔ پاکستان کی ترجیح یہ ہے کہ جنگ رک جائے اور مذاکرات جاری رہیں۔ایران کی جانب سے جوابی حملوں کا سلسلہ بھی جاری ہے ۔ یو اے ای میں 37 امریکی فوجیوں کے ہلاک ہونے کے دعوے اور اسرائیلی آئل ٹینکر کو نشانہ بنانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ ایرانی فورسز کے کمانڈر جنرل امیر خاتمی نے اپنی افواج کو ردعمل کی پالیسی جاری رکھنے کی ہدایات دی ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران کی پالیسی میں لچک نہیں ہے ۔عالمی سطح پر صدر ٹرمپ کے خطاب نے اقتصادی غیر یقینی صورتحال بڑھا دی ہے ۔
تیل، توانائی اور کرنسی کی مارکیٹس متاثر ہوئی ہیں اور معیشت میں بے چینی پیدا ہوئی ہے ۔ امریکا میں رائے عامہ تقسیم ہے ؛ حامی سخت موقف کی حمایت کرتے ہیں جبکہ مخالفین اسے غیر ضروری اور اشتعال انگیزی قرار دیتے ہیں۔ امریکی میڈیا دو مختلف بیانیے پیش کر رہا ہے ، ایک قوت کا اظہار اور دوسرا خطرات کی تشہیر۔خطے میں دیگر طاقتیں، جیسے روس اور چین، امریکی اقدامات کو علاقائی عدم استحکام کا سبب قرار دے رہی ہیں اور سمجھتی ہیں کہ یہ جنگ صرف ایران تک محدود نہیں رہے گی بلکہ پورے خطے کو متاثر کرے گی۔ بعض ماہرین صدر ٹرمپ کے خطاب کو متوازن جارحانہ حکمت عملی اور علاقائی کنٹرول کے شاخسانے کے طور پر دیکھتے ہیں جبکہ دیگر اسے ایران کے لیے سخت نفسیاتی پیغام قرار دے رہے ہیں تاکہ دشمن کو ڈرایا اور عالمی برادری کو مطمئن رکھا جا سکے ۔صدر ٹرمپ کے خطاب اور ایران پر حملوں کے سلسلے کے باوجود پاکستان ثالثی میں پرعزم نظر آ رہا ہے ۔ اسلام آباد میں وزیر اعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اعلیٰ سطح اجلاس میں دوبارہ عزم ظاہر کیا گیا کہ پاکستان جنگ روکنے اور مذاکرات کو جاری رکھنے کے لیے اپنا کردار ادا کرے گا۔ پاکستان کی کوششیں علاقائی سطح پر پذیرائی حاصل کر رہی ہیں اور عالمی میڈیا کی جانب سے بھی پاکستان کی ثالثی کی تعریف کی گئی ہے ، تاہم فوری جنگ بندی کے امکانات ابھی تک محدود ہیں، لیکن اگلے چند روز میں مثبت پیش رفت متوقع ہے ۔