پاکستان، ترکیہ کا جدید ٹیکنالوجی سے نظام انصاف بہتر بنانے پر اتفاق
ترکیہ مصنوعی ذہانت کے استعمال میں مثال :جسٹس یحییٰ آفریدی،باہمی تجربات سے مزید مؤثر بنایا جا سکتا:جسٹس قادر اوزکایا چیف جسٹس پاکستان اورچیف جسٹس ترکیہ کے مفاہمتی یادداشت پر دستخط ،تقریب میں چیف جسٹس آئینی عدالت ودیگرشریک
اسلام آباد(کورٹ رپورٹر)پاکستان اور ترکیہ کی آئینی عدالتوں کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہو گئے ۔جسٹس یحییٰ آفریدی اور ترکیہ کی آئینی عدالت کے چیف جسٹس قادر اوزکایا نے معاہدہ کیا۔معاہدے میں عدالتی تعاون، تربیت، ٹیکنالوجی اور اصلاحات پر اتفاق ہوا۔ جسٹس یحییٰ نے تعاون کو اہم قرار دیا،ترک چیف جسٹس نے بھائی چارے اور جدید عدالتی نظام پر زور دیا۔پاکستان اور ترکیہ کی آئینی عدالت کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخطوں کی تقریب سپریم کورٹ آف پاکستان کی بلڈنگ میں ہوئی،معاہدے پر چیف جسٹس پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی اور ترکیہ کی آئینی عدالت کے چیف جسٹس قادر اوزکایا نے دستخط کیے۔
تقریب میں چیف جسٹس آئینی عدالت جسٹس امین الدین خان، ہائیکورٹس کے چیف جسٹس صاحبان، وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ، اٹارنی جنرل منصور اعوان، دیگر ججز اور ترک چیف جسٹس قادر اوزکایا کی قیادت میں 6 رکنی وفد نے شرکت کی۔مفاہمتی یادداشت کے تحت عدالتی تعاون، جوڈیشل افسران کی تربیت، بہترین طریقہ کار کے تبادلے اور جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے نظامِ انصاف کو بہتر بنانے پر اتفاق کیا گیا، جبکہ مشترکہ ورکنگ گروپ کے قیام اور ضلعی عدلیہ کی پیشہ ورانہ تربیت پر بھی زور دیا گیا۔
چیف جسٹس پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ ترکیہ یہ مفاہمتی یادداشت عدالتی تعاون کو مزید مضبوط بنائے گی،آج کی مربوط دنیا میں عدالتی نظام الگ نہیں رہ سکتا جبکہ ترکیہ مصنوعی ذہانت کے استعمال میں ایک مثال ہے ۔ترکیہ کی آئینی عدالت کے چیف جسٹس قادر اوزکایا نے کہا کہ عدالتی نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنا ناگزیر ہے اور باہمی تجربات سے اسے مزید مؤثر بنایا جا سکتا ہے ۔تقریب کے اختتام پر پاکستان اور ترکیہ عدالتی اصلاحات، قانون کی حکمرانی اور عدالتی خودمختاری کے فروغ کے لیے مشترکہ طور پر کام جاری رکھنے کا عزم کیا گیا۔