"RBC" (space) message & send to 7575

جنگ اور جوا

آپ مانیں یا نہ مانیں موجودہ دور کے جنونی‘ جذباتی اور انا پرست طاقتور ملکوں کے سربراہوں نے مہلک جنگوں کو قمار بازی کی شکل دے دی ہے۔ ایران کے خلاف جنگ میں انہوں نے سب کچھ نہیں تو بہت کچھ داؤ پر لگا دیا ہے۔ امریکی لوگ بھی عجیب ہیں کہ جنگ کو بھی کچھ جواریوں نے بغیر ہاتھ میلے کیے کمانے کا موقع بنا لیا۔ جب سے ایک امریکی ہوا باز کا جہاز ایران نے گرایا‘ وہ چھاتے سے کہیں زمین پر اترا تو آن لائن جواریوں نے لاکھوں ڈالروں میں شرطیں باندھنا شروع کر دیں کہ کب تک خطے میں موجود ملکی فوجیں اسے ڈھونڈ سکیں گی۔ امریکی حکومت نے اسے ایک حساس مسئلہ خیال کرتے ہوئے اس پر پابندی لگا دی ہے لیکن جو جوا اس نے ایران کے خلاف جنگ کر کے کھیلا ہے اس میں اسے وہ پتے ابھی تک نصیب نہیں ہوئے جن کی اسے توقع تھی۔ تاش کھیلنے سے ہمارا کبھی تعلق نہیں رہا مگر بزرگوں سے سنا تھا کہ سب کھلاڑی دوستوں کے ساتھ بھی دیانت داری سے نہیں کھیلتے‘ کچھ پتے اپنی مرضی کے لگا لیتے ہیں۔ لگتا یہی ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی ایسا ہی کیا ہے مگر اس کے باوجود بازی اس کے حق میں نہیں جا رہی۔ بہت کچھ داؤ پر لگا دیا ہے جس سے اس خطے کے مستقبل کی سلامتی‘ عالمی معیشت اور خود امریکی طاقت پر اس کے حلیفوں کا بھروسا متاثر ہو سکتا ہے۔ چھ ہفتے کی اس خوفناک جنگ کے بعد‘ جس میں ہر روز شدت اور اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے‘ امریکیوں کو یہ معلوم نہیں کہ وہ کیا حاصل کر سکتے ہیں اور کیا چاہتے ہیں۔
امریکہ کی پسند کی جنگ نے ایران میں تباہی تو بہت مچائی ہے اور ابھی اس سے بھی زیادہ بم برسانے کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں مگر ان کے مقاصد ہمارے شمالی علاقوں کے موسم کی طرح دن میں کئی بار تبدیل ہو رہے ہیں۔ بات تو انہوں نے رجیم چینج سے شروع کی تھی اور ان کی اعلیٰ سیاسی اور عسکری قیادت کو شہید بھی کر ڈالا مگر ایرانیوں کی بے مثال مزاحمت اور استقامت کو دیکھ کر ''ہم جلد جنگ ختم کر دیں گے‘‘ کے اعلانات کر رہے ہیں۔ کبھی یہ کہتے ہیں کہ ہم نے رجیم چینج کر دیا ہے‘ اہداف حاصل کر لیے ہیں اور جلد ہی گھر لوٹ آئیں گے۔ لیکن عملی طور پر دیکھنے میں آیا ہے کہ ایران کے ایک ہی دائو نے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی سب تدبیریں آبنائے ہرمز میں غرق کر دی ہیں۔ اس کا اس سمندری راہ گزر پر کنٹرول ہے جس نے جنگ کو عالمی بحران میں تبدیل کر دیا ہے۔ کوئی مال بردار جہاز اس کی مرضی کے خلاف صحیح سلامت وہاں سے نکل کر نہیں جا سکتا۔ اکانومسٹ میگزین کی ایک پوسٹ کے مطابق اگر ایران کا یہ غلبہ جنگ کے بعد بھی جاری رہا تو وہ ٹول ٹیکس لگا کر سالانہ 500 ارب ڈالر کما سکتا ہے۔ خلیج کے امریکی اتحادی ممالک تو اپنا تیل یہاں سے نہیں گزار سکتے مگر ایرانی تیل کی ترسیل اس کے خریدار ممالک کو جاری ہے۔ تیل کی عالمی منڈی کو اعتدال میں رکھنے کیلئے امریکہ نے مجبوراً ایران کے تیل کی برآمدات پر سے پابندیاں نرم کی ہیں۔ اب وہ جنگ سے پہلے کی تیل کی برآمدات کو جنگ کے دوران دُگنا کر چکا ہے۔ امریکہ اور اس کے علاقائی حلیفوں نے جنگ کے اس جوئے میں سب کچھ داؤ پر لگا دیا ہے۔ کل کی کوئی خبر نہیں‘ مگر ابھی تک میرے نزدیک حالات جواریوں کے حق میں نہیں جا رہے۔ ناکامی اور جھنجھلاہٹ میں ٹرمپ نے یہاں تک کہہ دیا ہے کہ جس کو خلیج فارس کے تیل کی ضرورت ہے وہ خود جا کر اسے کھلوا لے۔ اب ہم کیا کہیں کہ یہ تو کھلی ہوئی تھی آپ کی اختیاری جنگ نے ہمارے جیسے ملکوں کے لیے مسئلہ کھڑا کر دیا ہے۔
بات جوئے کی ہے اور مستقبل داؤ پر ہے۔ سوچیں اگر ایران ثابت قدم رہتا ہے اور ہتھیار نہیں پھینکتا تو پھر ایران کو ایٹمی قوت بننے سے کوئی نہیں روک سکے گا۔ اب صرف انہیں نہیں‘ ساری دنیا کو معلوم ہے کہ اگر وہ استعداد ہوتی تو اسرائیل اور امریکہ ایران کے شہروں‘ عسکری تنصیبات‘ معاشی وسائل کی طرف آنکھ اٹھا کر دیکھنے کی جرأت نہ کرتے۔ ان کی توقعات کے برعکس معتدل نہیں بلکہ پہلے سے بھی کہیں زیادہ امریکہ مخالف سیاسی اور عسکری قیادت ابھری ہے۔ سب سے زیادہ نقصان تو اس غیر لازمی جنگ نے تبدیلی کی تحریک کو پہنچایا ہے جس کی حمایت کچھ بیرونی طاقتیں ایک عرصہ سے کر رہی تھیں۔ ایران کے اندر قومیت کا جذبہ ایک نئے جوش اور ولولے کے ساتھ ابھرا ہے اور اب تمام دھڑے اندرونی اختلافات ختم کر کے ایران کی سلامتی کے لیے یکجا ہو رہے ہیں۔ امریکی میڈیا اور اس میں جو خیالات پھیلائے جا رہے ہیں وہ جوئے کی رقم کو کئی گنا کرنے کی تجاویز دے رہے ہیں کہ آسمانوں سے جہنم برسانے کی دھمکیوں سے ایرانی بھاگے بھاگے کسی بنے بنائے معاہدے پر دستخط کر دیں گے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ جنگ کبھی نہیں چاہتے تھے اور انہوں نے اس سے بچنے کے لیے بہت لچک دکھائی‘ اب بھی اسے منصفانہ انداز میں ختم کرنے کے حق میں ہیں۔ مسئلہ کہیں اور ہے۔
اگر میں کچھ صحیح سُن اور پڑھ سکا ہوں تو وہ یہ ہے کہ امریکہ کے کچھ حلیف اور عسکری صنعتی کمپلیکس کے لوگ ٹرمپ سے بار بار مطالبہ کر رہے ہیں کہ جنگ کو ہر صورت میں جیتا جائے ورنہ تزویراتی شہ مات ہو جائے گی۔ سب سے بڑا انعام ایران کی جھولی میں آ کر گرے گا۔ وہ زور دے رہے ہیں کہ رجیم چینج کے اولین مقصد سے ایک قدم بھی پیچھے ہٹے تو ایران کی طاقت کا جن کسی کے قابو میں نہیں آئے گا۔ یہ اتنا آسان نہیں اور نہ ہی ایسے جنونیوں کو اس بات کا ادراک ہے کہ عالمی سطح پر خصوصاً غریب ممالک کی معیشتوں‘ خوراک کی کمی اور انسانی المیوں نے کتنی خوفناک صورتحال اختیار کر لی ہے۔ اگلے چند دنوں میں دیکھیں کیا ہوتا ہے۔ اب کوشش یہ بھی ہو سکتی ہے کہ ایران کی تیل پیدا کرنے اور ترسیل کی صلاحیت تباہ اور انرجی فراہم کرنے کے وسائل کو نشانہ بنایا جائے۔ یہ سب کچھ جائز اور منصفانہ جنگوں اور قابلِ جواز قومی مفاد کے زمرے میں تو نہیں‘ تزویراتی جوئے میں ضرور آتا ہے۔ اس جنگ کے بارے میں کچھ ابہام تو اس کھیل کا حصہ ہے اور کچھ تاریخی غلطیوں کا‘ جو امریکی ادارے ایران اور اس خطے کے بارے میں دہراتے چلے آئے ہیں۔ پاکستان اور چین نے پانچ نکاتی فارمولا دے کر امریکہ اور اس کے حلیفوں کو محفوظ راستہ دیا۔ اگر کہیں گہری سوچ اور اس خطے کے لوگوں کے لیے کوئی نرم دلی ہے تو مزید وقت اور جانیں ضائع کیے بغیر اس جنگ کے جوئے سے ہاتھ کھینچ لینے چاہئیں۔ ہمیں کوئی زیادہ امید اس لیے نہیں کہ جواریوں کو طاقت کا گھمنڈ ہے اور ان کی روایت بھی کہ عالمی مسائل کو حل کرنے کے لیے سفارت کاری نہیں بندوق کا سہارا ڈھونڈتے ہیں۔ ہم کئی جنگیں‘ ویتنام، افغانستان سے لے کر اب ایران تک‘ دیکھ چکے ہیں۔ تباہی کی صلاحیت اور اسے برپا کرنے کے باوجود وہ تزویراتی جوا ہمیشہ ہارے ہیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں