سندھ کے علاوہ ملک بھر میں بازار اور مارکیٹیں رات 8 بجے بند کرنے کا فیصلہ
اسلام آباد: (دنیا نیوز) وزیراعظم محمد شہباز شریف کے زیر صدارت پٹرولیم مصنوعات ، توانائی کی بچت اور کفایت شعاری کے اقدامات کے نفاذ کے حوالےسے اہم جائزہ اجلاس ہوا۔
اجلاس میں صوبہ پنجاب، خیبر پختونخوا، بلوچستان ، اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری، گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر میں بازار، مارکیٹیں، شاپنگ مالز رات 8 بجے بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
وزیراعظم کے زیر صدارت اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ خیبر پختونخوا کے ڈویژنل ہیڈکوارٹرز میں بازار، مارکیٹس اور شاپنگ مالز رات 9 بجے تک کھلے رکھنے کی اجازت ہو گی، یہ فیصلہ صوبائی حکومت کی مشاورت سے کیا گیا ہے۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ روزمرہ کے استعمال کی اشیاء کی دکانیں، ڈیپارٹمنٹل سٹورز اور ہر قسم کے مالز بھی رات 8 بجے بند ہوں گے۔
بیکریاں، ریسٹورنٹ، تنور اور کھانے پینے کی دیگر دکانیں رات دس بجے بند کر دی جائیں گی، میرج ہالز، مارکیز اور دیگر کمرشل جگہیں جن میں شادیاں منعقد ہوتی ہیں، رات 10 بجے کے بعد بند رہیں گی۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ نجی پراپرٹیز اور گھروں میں بھی شادی بیاہ کی تقریبات 10 بجے رات کے بعد منعقد کرنے پر پابندی ہو گی۔
یہ بھی پڑھیں: بچت کیلئے ماحول دوست گاڑیوں کے استعمال کو فروغ دینا ہوگا: وزیراعظم
میڈیکل سٹورز اور فارمیسیز کے اوقات کار ان پابندیوں سے مستثنیٰ ہوں گے، اجلاس میں کئے گیے تمام فیصلوں کا اطلاق 7 اپریل سے ہوگا۔
شرکا کو بتایا گیا کہ صوبہ سندھ میں مارکیٹس اور دیگر اوقات کار کے حوالے سے مشاورت کا عمل جاری ہے۔
اجلاس کے شرکا کو بریفنگ دی گئی کہ وفاقی حکومت کی جانب سے پٹرولیم مصنوعات کی مد میں دی گئی سبسڈی ڈیجیٹل والٹس کے ذریعے منتقل کرنے کا عمل جاری ہے، 1 لاکھ ٹرانزیکشن ہو چکی ہیں۔
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ کہ وزرائے اعلیٰ پنجاب، خیبر پختونخوا، بلوچستان، گلگت بلتستان اور وزیراعظم کا آزاد جموں و کشمیر کا شکریہ ادا کرتے ہیں کہ انہوں نے قومی اہمیت کے ان اہم معاملات میں اتفاق رائے سے فیصلہ کیا۔
شہباز شریف کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت کی سٹیک ہولڈرز سے مشاورت جاری ہے، مجھے امید ہے کہ وزیر اعلیٰ سندھ بھی اس حوالے سے جلد مشاورت کا عمل مکمل کرنے کے بعد اس فیصلے میں شامل ہو جائیں گے۔
وزیراعظم نے کہا کہ گلگت شہر اور مظفرآباد شہر میں انٹراسٹی پبلک ٹرانسپورٹ ایک ماہ کے لئے مفت ہو گی، تمام اخراجات وفاقی حکومت برداشت کرے گی۔
اجلاس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وفاقی وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران نے شرکت کی۔