"AIZ" (space) message & send to 7575

مال و دولت کے مثبت اور منفی پہلو

دنیا میں رہتے ہوئے ہر انسان کو مال ودولت کی ضرورت رہتی ہے۔ بہت سے لوگ مال و دولت سے محض اس حد تک دلچسپی رکھتے ہیں کہ وہ اپنی جائز ضروریات کو پورا کر سکیں۔ ان کے مقابلے بہت سے انسان مال و دولت کے ذریعے آسائشیں اور سہولتیں حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں جبکہ بہت سے لوگ مال ودولت کی وجہ سے اثر ورسوخ اور عیش و عشرت والی زندگی گزارنا چاہتے ہیں۔ قرآن مجید اور احادیث طیبہ میں اس حوالے سے بیش قیمت رہنمائی موجود ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے قرآن مجید میں مال اور دنیاوی اسباب کو حاصل کرنے سے منع نہیں کیا بلکہ حج اور عمرہ کے دوران حجرِ اسود اور رُکنِ یمانی کے درمیان مانگی جانے والی ایک بہترین دعا میں دنیا اور آخرت کی بھلائیوں کو بیک وقت طلب کیا گیا ہے۔ اس دعا کو سورۃ البقرہ کی آیت: 201 میں یوں بیان کیا گیا ''اے ہمارے رب! ہمیں دنیا میں بھلائی دے اور آخرت میں بھی بھلائی عطا فرما اور ہمیں عذابِ جہنم سے نجات دے‘‘۔ اس آیت مبارکہ سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ مال و دولت کو جائز مقاصد کے لیے کمانے اور خرچ کرنے میں کوئی حرج نہیں لیکن بہت سے لوگ مال و دولت کو فخر اور دوسروں کے مقابلے میں اپنی بڑائی ثابت کرنے کے لیے کماتے ہیں‘ ایسے لوگ آخرت کی ناکامی اور نامرادی کے ساتھ ساتھ کئی مرتبہ دنیا میں بھی تباہی اور بربادی کا نشانہ بن جاتے ہیں۔
اللہ تبارک و تعالیٰ نے قرآن مجید میں قارون کے زمین میں دھنس جانے کا ذکر کیا جو اپنے مال پر اتراتا اور اس کی وجہ سے فخر کیا کرتا تھا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ اس واقعہ کو سورۃ القصص کی آیات: 76 تا 82 میں کچھ یوں بیان فرماتے ہیں ''قارون تھا تو قومِ موسیٰ سے‘ لیکن ان پر ظلم کرنے لگا تھا۔ ہم نے اسے (اس قدر) خزانے دے رکھے تھے کہ کئی کئی طاقتور لوگ بمشکل اس کی کنجیاں اٹھا سکتے تھے۔ ایک بار اس کی قوم نے اس سے کہا کہ اترا مت! اللہ اترانے والوں سے محبت نہیں رکھتا۔ اور جو کچھ اللہ نے تجھے دے رکھا ہے اس میں سے آخرت کے گھر کی تلاش بھی رکھ اور اپنے دنیوی حصے کو بھی نہ بھول اور جیسے کہ اللہ نے تیرے ساتھ احسان کیا ہے تو بھی اچھا سلوک کر اور ملک میں فساد کا خواہاں نہ ہو۔ یقین مان کہ اللہ مفسدوں کو ناپسند رکھتا ہے۔ قارون نے کہا: یہ سب کچھ مجھے میری اپنی سمجھ کی بنا پر ہی دیا گیا ہے۔ کیا اسے اب تک یہ نہیں معلوم کہ اللہ نے اس سے پہلے بہت سے بستی والوں کو غارت کر دیا جو اس سے بہت زیادہ قوت والے اور بہت بڑی جمع پونجی والے تھے۔ اور گنہگاروں سے ان کے گناہوں کی باز پرس ایسے وقت نہیں کی جاتی۔ پس قارون پوری آرائش کے ساتھ اپنی قوم کے مجمع میں نکلا تو دنیاوی زندگی کے خواہشمند کہنے لگے: کاش کہ ہمیں بھی کسی طرح وہ سب مل جاتا جو قارون کو دیا گیا ہے۔ یہ تو بڑا ہی قسمت کا دھنی ہے۔ ذی علم لوگ انہیں سمجھانے لگے کہ افسوس! بہتر چیز تو وہی ہے جو بطور ثواب انہیں ملے گی جو اللہ پر ایمان لائیں اور نیک عمل کریں۔ یہ بات انہی کے دل میں ڈالی جاتی ہے جو صبر والے ہوں۔ (آخرکار) ہم نے اسے اس کے محل سمیت زمین میں دھنسا دیا اور اللہ کے سوا کوئی جماعت اس کی مدد کے لیے تیار نہ ہوئی نہ وہ خود اپنے بچانے والوں میں سے ہو سکا۔ اور جو لوگ کل اس کے مرتبہ پر پہنچنے کی آرزو مندیاں کر رہے تھے وہ آج کہنے لگے کہ کیا تم نہیں دیکھتے کہ اللہ ہی اپنے بندوں میں سے جس کے لیے چاہے روزی کشادہ کر دیتا ہے اور تنگ بھی! اگر اللہ ہم پر فضل نہ کرتا تو ہمیں بھی دھنسا دیتا۔ کیا دیکھتے نہیں ہو کہ ناشکروں کو کبھی کامیابی نہیں ہوتی؟‘‘۔
اسی طرح مال کے حوالے سے انسانوں پر یہ بھی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ مال کو اللہ تبارک و تعالیٰ کے راستے میں خرچ کریں۔ اس حوالے سے قرآن مجید کے بہت سے مقامات پر مفید نصیحتیں بیان کی گئی ہیں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے سورۃ الانعام میں فصلوں کی کٹائی کے دن اللہ کے حق کی ادائیگی کا ذکر کیا ہے۔ سورۃ الانعام کی آیت: 141 میں ارشاد ہوا ''اور اللہ کا حق ادا کرو اسی دن جب ان کی فصل کاٹو اور اسراف نہ کرو‘ بیشک اللہ اسراف کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا‘‘۔ جو لوگ اللہ تبارک و تعالیٰ کے راستے میں اپنے مال کو خرچ کرتے ہیں اللہ تبارک و تعالیٰ اُن کو اس کا بہترین بدل دیتے ہیں۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورۂ سباء کی آیت: 39 میں ارشاد فرماتے ہیں ''تم جو کچھ بھی اللہ کی راہ میں خرچ کرو گے اللہ اس کا (پورا پورا) بدلہ دے گا اور وہ سب سے بہتر روزی دینے والا ہے‘‘۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے اس سورۃ البقرہ میں اس بات کا بھی ذکر کیا کہ اللہ تبارک وتعالیٰ انفاق فی سبیل اللہ کی وجہ سے انسانوں کے خوف اور غموں کو دور فرما دیتے ہیں؛ چنانچہ سورۃ البقرہ کی آیت: 274 میں ارشاد ہوا ''جو لوگ اپنے مالوں کو رات دن چھپے کھلے خرچ کرتے ہیں ان کے لیے ان کے رب کے پاس اجر ہے اور نہ انہیں خوف ہے اور نہ غمگینی‘‘۔ اس کے مد مقابل اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے حق کو ادا نہ کرنے والوں کیلئے جہاں اخروی سزائوں کو مقرر کر دیتے ہیں وہاں کئی مرتبہ دنیا میں بھی ان کا مال تلف ہو جاتا ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے سورۃ القلم میں ایک سخی باغبان کے بیٹوں کا ذکر کیا جنہوں نے مساکین سے بچنے کے لیے منہ اندھیرے اپنے باغ کی کٹائی کا فیصلہ کیا تو اللہ تبارک وتعالیٰ نے ان کے باغ کو تباہ کر دیا۔
مال ودولت کو جمع کرتے رہنے اور اس میں سے اللہ کے حق کو ادا نہ کرنے والوں کے بارے میں اللہ تبارک و تعالیٰ سورۃ التوبہ کی آیات: 34 تا 35 میں ارشاد فرماتے ہیں ''اور جو لوگ سونے چاندی کا خزانہ رکھتے ہیں اور اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے انہیں دردناک عذاب کی خبر پہنچا دیجیے۔ جس دن اس خزانے کو آتشِ دوزخ میں تپایا جائے گا پھر اس سے ان کی پیشانیاں اور پہلو اور پیٹھیں داغی جائیں گی (اور پھر ان سے کہا جائے گا) یہ ہے (وہ مال و زر) جسے تم نے اپنے لیے خزانہ بنا کر رکھا تھا۔ پس اپنے خزانوں کا مزہ چکھو‘‘۔
اسی طرح اللہ تبارک و تعالیٰ نے سورۃ الھمزہ میں بھی مال کو گن گن کر جمع کرنے کے برے نتیجے کا ذکر کیا ہے۔ مال کے حوالے سے انسان پر یہ بھی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ مال اکٹھا کرنے میں اس حد تک مصروف نہیں ہو جانا چاہیے کہ انسان اپنے فرائض اور ذمہ داریوں کو فراموش کر دے۔ بہت سے لوگ نماز اور ارکانِ اسلام کی بجا آوری کو فراموش کر کے فقط مال ودولت ہی کے حصول کے لیے سرگرداں رہتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو سورۃ التکاثر میں بیان کردہ حقائق کو مدنظررکھنا چاہیے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ سورۂ تکاثر میں کثرت کی ہوس کی مذمت کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں ''زیادہ کی چاہت نے تمہیں غافل کر دیا۔ یہاں تک کہ تم قبرستان جا پہنچے۔ ہرگز نہیں! تم عنقریب معلوم کر لو گے۔ ہرگز نہیں! پھر تمہیں جلد علم ہو جائے گا۔ ہرگز نہیں! اگر تم یقینی طور پر جان لو۔ تو بیشک تم جہنم دیکھ لو گے۔اور تم اسے یقین کی آنکھ سے دیکھ لو گے۔ پھر اُس دن تم سے ضرور بالضرور نعمتوں کا سوال ہو گا‘‘۔
مذکورہ بالا دلائل سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ مال و دولت کو حلال طریقے سے کمانے اور اس کے مثبت استعمال کے ذریعے انسان کامیاب اور کامران ہو سکتا ہے جبکہ مال کو غلط طریقے سے کمانے‘ اس کی وجہ سے گھمنڈ کرنے اور اس کو روک کے رکھنے کی وجہ سے انسان ہلاکت کے گھڑے میں گر جاتا ہے۔ دعا ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ ہمیں جائز طریقے سے مال کمانے اور پھر درست سمت میں اس کے استعمال کی توفیق دے‘ آمین!

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں