ایڈز کا خطرہ سنگین، ملک کے 54 فیصد مریض پنجاب سے نکلے : رپورٹ
ملک میں ایڈز کے 84ہزار ،پنجاب میں 45ہزارسے زائد مریض ، 13ہزار علاج سے محروم، 1900بچے متاثر لاہور میں سب سے زیادہ 10ہزار کیسز رپورٹ ، غیر رجسٹرڈ کلینکس بھی وائرس کے تیز پھیلاؤ کا سبب:ماہرین
لاہور (بلال چودھری )پنجاب میں ایڈز کا خطرہ شدت اختیار کرگیا، ملک کے 54 فیصد مریض پنجاب سے سامنے آگئے ، ملک بھر میں ایڈز کے مریض مجموعی طور 84 ہزار جبکہ صرف پنجاب میں تعداد 45 ہزار 391 تک پہنچ گئی،32 ہزار 254 مریض علاج کرا رہے ہیں پنجاب میں 13 ہزار سے زائد افراد بغیر علاج کے ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق پنجاب میں 31 ہزار سے زائد مرد، 9 ہزار 510 خواتین، 2 ہزار 514 خواجہ سرا ایڈز کا شکار ہیں جبکہ بچوں میں بھی ایڈز کے خطرناک پھیلاؤ کا انکشاف ہوا ہے ،14 سال سے کم عمر 1900 سے زائد بچے متاثرہیں ،ان میں 1 ہزار 29 لڑکے اور 900 لڑکیاں شامل ہیں۔
ایک رپورٹ کے مطابق ڈی ایچ کیو ہسپتال ڈیرہ غازی خان میں ایڈز سے متاثرہ 267 بچے ،ننکانہ صاحب میں 532، لاہور میں 511 اور قصور میں 229 بچے رجسٹرڈ ہیں جبکہ پنجاب میں ایڈز متاثرہ 37 فیصد بچے علاج سے محروم ہیں۔تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق لاہور سب سے زیادہ متاثرہ شہر ہے جہاں 10 ہزار سے زائد مریض رپورٹ ہیں جبکہ فیصل آباد 5 ہزار، ملتان 3 ہزار سے زائد،سرگودھا اور گجرات میں 2 ہزار 800 سے زائد، ننکانہ صاحب میں 2 ہزار سے زائد کیسز سامنے آئے ہیں۔طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ پنجاب سمیت ملک بھر میں غیر رجسٹرڈ ایڈز کے مریضوں کی تعداد 3 لاکھ سے زائد ہے ،بڑے شہروں میں غیر رجسٹرڈ کلینکس، ہائی رسک گروپس اور تیزی سے بڑھتی آبادی وائرس کے پھیلاؤ کو مزید تیز کر رہی ہے ۔پنجاب میں بڑھتے کیسز کی بڑی وجوہات میں غیر محفوظ انجیکشنز، جگہ جگہ نشے کے پوائنٹ ، ناقص بلڈ سکریننگ، عطائی ڈاکٹرز اور صحت کے شعبے کی کمزور نگرانی شامل ہیں ،سماجی بدنامی کے باعث بڑی تعداد میں افراد ٹیسٹنگ سے گریز کرتے ہیں جس کی وجہ سے وائرس خاموشی سے پھیل رہا ہے ۔