ڈسپنسرز، ٹیکنیشنز، ٹیکنالوجسٹس کو لائسنس یافتہ طبی مراکز قائم کرنے کی اجازت

ڈسپنسرز، ٹیکنیشنز، ٹیکنالوجسٹس کو لائسنس یافتہ طبی مراکز قائم کرنے کی اجازت

الائیڈ ہیلتھ پروفیشنلز کونسل نے پیشہ ورانہ دائرہ کار اور قانونی حدود کا نیا پالیسی فریم ورک منظور کر لیا ،رجسٹریشن، تعلیمی اہلیت واضح مریضوں کے تحفظ، ادویات کے محفوظ استعمال، لازمی تربیت، ڈیٹا رازداری اور ضابطہ خلاف ورزی پر سخت تادیبی کارروائی ہوگی

اسلام آباد (ایس ایم زمان)الائیڈ ہیلتھ پروفیشنلز کونسل نے ملک بھر کے ڈسپنسرز، ٹیکنیشنز، ایسوسی ایٹ ٹیکنالوجسٹس اور ٹیکنالوجسٹس کے لیے پیشہ ورانہ دائرہ کار اور قانونی حدود کا نیا پالیسی فریم ورک منظور کر لیا جس کے تحت انہیں سرکاری اور نجی شعبے میں لائسنس یافتہ طبی مراکز قائم کرنے اور چلانے کی اجازت دی گئی ۔کونسل کے مطابق نئے ضوابط کا مقصد مریضوں کے تحفظ، اخلاقی طرزِ عمل اور قانونی تقاضوں کی مؤثر پاسداری کو یقینی بنانا ہے۔ تعلیمی اہلیت کے طور پر ڈسپنسر کے لیے ایک سالہ سرٹیفکیٹ، ٹیکنیشن کے لیے دو سالہ ڈپلومہ، ایسوسی ایٹ ٹیکنالوجسٹ کے لیے اے ڈی پی اور ٹیکنالوجسٹ کے لیے بی ایس ڈگری لازمی قرار دی گئی ہے۔

کونسل سے رجسٹریشن اور درست لائسنس کے بغیر پریکٹس کی اجازت نہیں ہوگی جبکہ لائسنس کی مدت تین سال مقرر کی گئی ہے ۔فریم ورک کے تحت متعلقہ عملہ رجسٹرڈ ڈاکٹر کے نسخے کے مطابق ادویات کی تیاری، مقدار کے تعین، لیبلنگ اور مریضوں کو استعمال، مضر اثرات اور احتیاطی تدابیر سے آگاہ کرنے کا مجاز ہوگا تاہم نشہ آور اور کنٹرولڈ ادویات صرف خصوصی اجازت اور نگرانی میں استعمال کی جا سکیں گی۔کونسل نے مسلسل پیشہ ورانہ ترقی (سی پی ڈی) کو لازمی قرار دیتے ہوئے سالانہ تربیت کی شرط عائد کی ہے جبکہ مریضوں کے ڈیٹا کی رازداری، طبی ریکارڈ کی حفاظت اور مراکز کے باقاعدہ معائنے کو بھی لازمی قرار دیا گیا ہے ۔ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی، غیر قانونی ادویات کی فروخت یا غفلت کی صورت میں جرمانہ، لائسنس کی معطلی یا منسوخی کی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں