اسلام آباد میں تاریخ رقم : امن مذاکرات میں ایران اور امریکا کے وفود آمنے سامنے
امریکی نائب صدر،ایرانی سپیکر کے پاکستانی حکام کی موجودگی میں براہ راست ڈھائی گھنٹے مذاکرات، مزید دو ادوار، رات گئے تک تکنیکی پہلوؤں کا جائزہ،تحریری مسودوں کا تبادلہ،1979 کے ایرانی انقلاب کے بعد اس طرح کا پہلا موقع مذاکرات سے قبل وفود کی شہباز شریف سے الگ الگ ملاقاتیں، فیلڈ مارشل عاصم منیر،اسحاق ڈار،محسن نقوی بھی شریک، مذاکرات پائیدار امن کی جانب اہم پیشرفت ثابت ہوں گے ، سہولت کاری جاری رکھنا چاہتے :وزیراعظم
اسلام آباد(وقائع نگار،نیوز ایجنسیاں، مانیٹرنگ ڈیسک)اسلام آباد میں تاریخ رقم ،مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے خاتمے کیلئے پاکستان کی ثالثی میں امریکا، ایران نے آمنے سامنے بیٹھ کر طویل مذاکرات کئے ،مذاکرات میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس، نمائندہ خصوصی سٹیو وٹکوف اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر جبکہ ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف اور وزیر خارجہ عباس عراقچی شریک ہوئے ۔پاکستانی حکام کی موجودگی میں اسلام آباد کے سرینا ہوٹل میں ہونے والے براہ راست مذاکرات کا پہلا دور ڈھائی گھنٹے طویل رہا۔ وائٹ ہاؤس کے سینئر اہلکار کے مطابق امریکی وفد میں قومی سلامتی کے مشیر اینڈریو بیکر اور ایشیائی امور کے مشیر مائیکل وینس بھی شامل ہوئے ،جبکہ واشنگٹن ڈی سی سے معاونت کرنے والے دیگر ماہرین کے ساتھ مختلف معاملات پر امریکی ماہرین کی ٹیم بھی اسلام آباد میں موجود رہی۔ایرانی مذاکراتی وفد بھی 70سے زائد ارکان پر مشتمل تھا جس میں ایران کے مرکزی بینک کے گورنر ڈاکٹر ناصر ہمتی سمیت تکنیکی ماہرین موجود تھے۔
سربراہان کی سطح پر بات چیت کا پہلا دور ختم ہونے پر مختصر وقفے کے بعد تکنیکی ماہرین کی سطح پر مذاکرات کا دوسرا دور شروع ہوا جو رات گئے تک جاری رہا،جس میں دونوں فریقین کی جانب سے پیش کردہ مطالبات کے ‘تکنیکی پہلوؤں کا جائزہ لیا گیا۔جس کے بعد معاملہ زیرِ بحث امور پر تحریری مسودوں کے تبادلے تک پہنچا، پھر تیسرا دور شروع ہوا، جس کے بارے میں ایرانی میڈیا نے کہا یہ امریکا کے ساتھ کسی مشترکہ فریم ورک تک پہنچنے کا آخری موقع دکھائی دیتا ہے ، ایرانی حکومت کی انفارمیشن کونسل کے ترجمان محمد گلزاری کے مطابق جیسے جیسے سہ فریقی مذاکرات کا ماحول سنجیدہ ہوتا گیا، بات چیت ماہرین کے مرحلے میں داخل ہو گئی جس کے بعد ایرانی وفد کی خصوصی کمیٹیوں کے بعض ارکان بھی مذاکرات میں شامل ہونے کے لیے روانہ ہو گئے ۔جس کے بعد تین ایرانی طیارے پاکستان پہنچ گئے ۔ یہ ایک تاریخی واقعہ ہے جس میں پاکستان نے ثالثی کی ہے ،یہ 1979 میں اسلامی انقلاب کے بعد سے امریکا اور ایران کے درمیان اعلیٰ ترین سطح کے آمنے سامنے مذاکرات ہیں، یہ حالیہ طریقہ کار سے مختلف ہے جہاں دونوں فریق علیحدہ کمروں میں بیٹھ کر ثالث کے ذریعے بات چیت کرتے تھے۔
بی بی سی نے سرکاری عہدیداروں کے حوالے سے بتایا کہ ابتدائی بات چیت مثبت رہی ، بی بی سی کی نامہ نگار کے مطابق بظاہر مذاکرات میں توقعات سے زیادہ پیش رفت ہوئی ہے ۔ تاہم بعض معاملات پر اختلافات کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں، خاص طور پر آبنائے ہرمز کے معاملے پر۔ وزیراعظم شہباز شریف کا مذاکرات کے باقاعدہ آغاز کا اعلان کرتے ہوئے کہنا تھا کہ پاکستان خطے میں پائیدار امن کیلئے فریقین کے درمیان پیشرفت میں اپنی سہولت کاری کا عمل جاری رکھنے کا خواہاں ہے ۔قبل ازیں وزیراعظم شہباز شریف سے امریکی اور ایرانی وفود نے الگ الگ ملاقات کی ، امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی قیادت میں ملنے والے وفد میں امریکی خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف اور صدر ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر بھی شامل تھے ،جبکہ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار،وزیرداخلہ محسن نقوی بھی شریک ہوئے ، ملاقات میں دو طرفہ تعلقات سمیت اہم علاقائی امور پر تبادلہ کیا گیا،شہباز شریف کی جانب سے امریکی اور ایرانی وفود کے تعمیری مذاکرات کے عزم کا خیرمقدم کیا گیا اور امید کی گئی کہ مذاکرات خطے میں پائیدار امن کی جانب اہم پیشرفت ثابت ہوں گے ۔
جے ڈی وینس، سٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر جب اسلام آباد پہنچے تونائب وزیراعظم اسحاق ڈار، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور وزیر داخلہ سید محسن نقوی نے استقبال کیا۔ایک روز قبل ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف کی سربراہی میں ایرانی وفد پاکستان پہنچا تھا جس میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی ،دفاعی کونسل کے سیکرٹری، مرکزی بینک کے گورنر اور پارلیمنٹ کے دیگر اراکین شامل تھے ۔وزیراعظم شہباز شریف نے ایرانی وفد سے ملاقات میں اسلام آباد مذاکرات میں ایران کی شمولیت کو سراہا، وزیراعظم نے خطے اور دنیا میں امن و استحکام کی خاطر بامعنی نتائج کے حصول کیلئے ذمہ دار ثالث کے کردار کو خلوص نیت سے جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔ملاقات میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، وزیر داخلہ محسن نقوی بھی شریک تھے۔
ایرانی سپیکر باقر قالیباف کا صحافیوں سے گفتگو میں کہنا تھا کہ امریکا حقیقی ڈیل لائے تو معاہدہ کر سکتے ہیں، ماضی میں امریکا سے مذاکرات میں وعدہ خلافی سامنے آئی ہے ، ہم اچھی امید کے ساتھ مذاکرات کیلئے آئے ہیں، ہماری نیت نیک ہے ، لیکن ہمیں امریکا پر اعتماد نہیں ہے ۔اگر امریکا ہمارے حقوق تسلیم کرتا ہے تو معاہدے تک پہنچنے کیلئے تیار ہیں۔انہوں نے کہا ایک سال سے بھی کم عرصے میں دو مرتبہ مذاکرات کے دوران اور ہماری نیک نیتی کے باوجود، ہم پر حملے کیے گئے اور بے شمار جنگی جرائم کا ارتکاب کیا گیا۔انہوں نے خبردار کیا کہ اگر واشنگٹن مذاکرات کو محض نمائشی عمل یا دھوکا دہی کے ہتھکنڈے کے طور پر استعمال کرنا چاہتا ہے تو تہران اپنی صلاحیتوں پر انحصار کرتے ہوئے ایرانی عوام کے حقوق کے تحفظ کیلئے تیار ہے ۔ایرانی سپیکر نے حالیہ جارحیت کے دوران ملک کی کامیاب اور فیصلہ کن دفاعی و جوابی کارروائیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ایران اپنے قومی مفادات کے تحفظ اور خودمختاری کے دفاع کیلئے مکمل طور پر تیار اور پرعزم ہے۔