اسرائیلی فوج نے غزہ جانیوالاامدادی فلوٹیلا سمندر میں روک لیا
پاکستان سمیت 11ممالک کا اظہار مذمت ،عالمی قوانین کی خلاف ورزی قرار سابق سینیٹر مشتاق احمد رہا،سہولت دینے پر یونان اورترکیہ کا شکریہ :اسحاق ڈار
ایتھنز(اے ایف پی،مانیٹرنگ ڈیسک )غزہ جانے والے 20سے زائد کشتیوں پر مشتمل امدادی فلوٹیلا میں شامل بیسیوں کارکن کو اسرائیلی افواج نے کریٹ کے قریب سمندر میں روک لیا اورزبردستی کشتیوں کا رخ موڑکر یونان کے جزیرے پر پہنچادیا ۔کشتیوں میں سوار تقریباً 175 کارکنوں کو بسوں کے ذریعے جزیرے کے جنوب مشرق میں واقع ایتھرینولاکوس بندرگاہ منتقل کیا گیا، جہاں سے انہیں کریٹ کے مرکزی شہر ہیراکلیون لے جایا گیااوروہاں سے انہیں اپنے ملکوں میں ڈی پورٹ کیا جائیگا۔ بندرگاہ کے قریب پہنچنے پر کارکنوں نے فری فلسطین کے نعرے لگائے ۔اسرائیل کی وزارتِ خارجہ کے مطابق جمعرات کو 20 سے زائد کشتیوں سے تقریباً 175 کارکنوں کو اتارا گیا جبکہ فلوٹیلا کے منتظمین نے افراد کی تعداد 211 بتائی ہے ۔ فلوٹیلا پرسوار افراد میں پاکستان کے سابق سینیٹر مشتاق احمد بھی شامل تھے ۔وزیرخارجہ اسحاق نے اپنے ایکس پیغام میں کہا ہے کہ سابق سینیٹر مشتاق احمد خان جنہیں اسرائیلی قابض افواج نے عالمی صمود فلوٹیلا میں سوار دیگر انسانی ہمدردی کے کارکنوں کے ساتھ غیر قانونی طور پر حراست میں لیا تھا، رہا کر دیا گیا ہے ، میں یونانی حکام کا بھی مشکور ہوں جنہوں نے یونان کے شہر کریٹ میں سابق سینیٹر مشتاق احمد کیلئے سہولت فراہم کی اور ترک حکومت اور قیادت کا بھی شکرگزار ہوں جنہوں نے استنبول منتقلی اور وہاں سے پاکستان واپسی کیلئے مدد فراہم کی۔
پاکستان سمیت 11 ممالک نے غزہ جانے والے امدادی فلوٹیلا پر اسرائیلی حملے کی مذمت کرتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ شہریوں کے تحفظ، قانون کی بالادستی اور اس کی خلاف ورزیوں پر احتساب یقینی بنانے کے لئے اخلاقی اور قانونی ذمہ داریاں پوری کرے ۔ پاکستان، ترکی، برازیل، اردن، سپین، ملائیشیا، بنگلہ دیش، کولمبیا، مالدیپ، جنوبی افریقہ اور لیبیا کے وزرائے خارجہ کی جانب سے جاری مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ یہ ایک پرامن شہری اور انسانی ہمدردی کا اقدام تھا جس کا مقصد عالمی برادری کی توجہ غزہ میں انسانی المیے کی جانب مبذول کرانا تھا ‘بحری جہازوں پر اسرائیلی حملے اور بین الاقوامی پانیوں میں انسانی حقوق کے کارکنوں کی غیر قانونی حراست عالمی قانون اور عالمی انسانی قانون کی کھلی خلاف ورزی ہے ۔ بیان میں عالمی برادری سے بھی مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ شہریوں کے تحفظ، عالمی قانون کی بالادستی اور اس کی خلاف ورزیوں پر احتساب یقینی بنانے کے لئے اپنی اخلاقی اور قانونی ذمہ داریاں پوری کرے ۔