امریکا اور ایران میں ثالثوں کے ذریعے بات چیت، پیش رفت جاری

امریکا اور ایران میں ثالثوں کے ذریعے بات چیت، پیش رفت جاری

امریکی تجویز کی تکنیکی تفصیلات پر بات چیت ہوئی،ایرانی وفد کا جواب واشنگٹن پہنچا دیا گیا ،80فیصد پیشرفت ہو چکی ،باقی بھی جلد ہو جائیگی:پاکستانی سفارتکار ایران کم از کم 20 سال کیلئے یورینیم افزودگی پر پابندی قبول کرے :امریکا کی تجویز ،اس پرایک سے 9 سال کے درمیان پابندی کیلئے تیار ہیں :ایران کاجواب

اسلام آباد ،واشنگٹن (مانیٹرنگ نیوز )اگرچہ امریکا اور ایران مذاکرات کسی سمجھوتے تک نہیں پہنچ سکے تاہم جنگ کے خاتمے کیلئے معاہدے کی کوششیں پسِ پردہ ذرائع کے ذریعے جاری ہیں، برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز کے مطابق یہ بات ان افراد نے بتائی جنہیں اس بات چیت کے بارے میں معلومات دی گئی ہیں۔ دو سفارتکاروں نے بتایا کہ ثالثوں کے ذریعے فعال بات چیت جاری ہے تاکہ جنگ بندی میں توسیع کی جا سکے اور ایک زیادہ پائیدار معاہدہ حاصل کیا جا سکے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی پیر کے روز کہا کہ ایران کے مذاکرات کاروں نے رابطہ کیا ہے اور وہ امریکا کے ساتھ معاہدہ کرنے کیلئے بہت زیادہ خواہشمند ہیں۔بات چیت کے بارے میں معلومات رکھنے والے افراد نے بتایا کہ ثالث دونوں فریقوں کو قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ وہ نچلی سطح کے تکنیکی مذاکرات کریں تاکہ اختلافی نکات کو حل کیا جا سکے ، جیسے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا اور ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق مسائل۔

اتوار کی صبح سویرے امریکی وفد کے اسلام آباد سے روانہ ہونے کے بعد ایرانی مذاکرات کار کچھ وقت کیلئے پاکستان میں ہی موجود رہے تاکہ امریکی جامع معاہدے کی تجویز کے جواب کا مسودہ تیار کر سکیں ۔ ایک پاکستانی سفارتکار نے کہا کہ امریکی تجویز کی تکنیکی تفصیلات پر بات چیت ہوئی۔دوسرے پاکستانی سفارتکار نے کہا کہ ایران کا جواب اسلام آباد کے ذریعے واشنگٹن کو پہنچا دیا گیا ہے اور ایرانی اب ٹرمپ انتظامیہ کے جواب کے منتظر ہیں۔بات چیت میں ایک اہم مسئلہ یہ بھی تھا کہ دو ہفتوں کی جنگ بندی کے بارے میں کیا طے پایا تھا، اس پر مختلف توقعات اور ابہام پایا گیا ۔ایرانیوں کا خیال تھا کہ لبنان میں اسرائیل کی جنگ ، جو ایران کے سب سے اہم اتحادی حزب اللہ کے خلاف تھی ، بھی سیزفائر کا حصہ تھی، اور یہ بھی کہ امریکا نے اتفاق کیا تھا کہ قطر کے دارالحکومت دوحہ میں منجمد 6 ارب ڈالر کے ایرانی تیل کے فنڈز جاری کئے جائیں گے ، اس کے بدلے میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولا جائے گا۔

ایک سفارتکار نے کہا کہ بات چیت کا ایک بڑا حصہ اس غلط فہمی کو دور کرنے میں صرف ہوا۔ یہی مسئلہ ہوتا ہے جب آپ کے پاس دستخط شدہ دستاویز نہیں ہوتی بلکہ صرف ایک ٹویٹ ہوتی ہے ۔ ماحول بہت اچھا اور مثبت تھا، لیکن ابتدا میں دونوں فریق سخت اور زیادہ سے زیادہ مطالبات کے ساتھ آئے تھے ۔صورتحال سے آگاہ دو دیگر افراد نے کہا اگرچہ فوری معاہدہ نہ ہو سکا، لیکن دونوں فریقوں نے مذاکرات میں لچک دکھائی۔انہوں نے مزید کہا کہ نہ واشنگٹن اور نہ تہران جنگ کی طرف واپس جانا چاہتے ہیں۔ایک پاکستانی سفارتکار کے مطابق80 فیصد پیش رفت ہو چکی ہے ، باقی بھی جلد ہو جائے گی۔مزید براں امریکی خبر رساں ادارے ایکسیوس کے مطابق ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات میں یورینیم افزودگی کے معاملے پر اہم اختلافات برقرار ہیں، جس کے باعث کسی حتمی معاہدے تک پہنچنا اب تک ممکن نہیں ہو سکا۔

ذرائع نے بتا یا کہ امریکا نے مذاکرات کے دوران تجویز دی کہ ایران کم از کم 20 سال کیلئے یورینیم افزودگی پر پابندی قبول کرے ۔اس کے جواب میں ایرانی فریق نے نسبتاً کم مدت کی پیشکش کی ہے ، جسے سنگل ڈیجٹ یعنی ایک ہندسے کے سال (9 سال یا اس سے کم)کے طور پر بیان کیا جا رہا ہے ۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اصل تنازع اسی نکتے پر ہے کہ آیا ایران کو یورینیم افزودگی مکمل طور پر روکنی چاہئے اور کیا اسے اپنے موجودہ افزودہ ذخیرے سے بھی دستبردار ہونا ہوگا یا نہیں۔رپورٹ کے مطابق پاکستان، مصر اور ترکیہ ان مذاکرات میں ثالث کا کردار ادا کر رہے ہیں تاکہ 21 اپریل کو ممکنہ جنگ بندی کے خاتمے سے قبل کوئی معاہدہ طے پا سکے ۔ایک امریکی عہدیدار کے مطابق واشنگٹن اور تہران کے درمیان رابطے جاری ہیں اور پیش رفت بھی ہو رہی ہے ، تاہم بنیادی اختلافات اب بھی حل طلب ہیں۔ امریکا نے ایران سے مطالبہ کیا کہ وہ ملک سے تمام انتہائی افزودہ یورینیم باہر منتقل کرے۔

ذرائع کے مطابق ایرانی فریق نے اس کے جواب میں کہا کہ وہ یورینیم کو ملک سے نکالنے کے بجائے ایک نگرانی شدہ عمل کے تحت اس کی افزودگی کم کرنے پر آمادہ ہو سکتے ہیں۔اگرچہ کسی حتمی معاہدے تک پہنچنا ممکن نہیں ہو سکا، تاہم ایرانی حکام کا خیال تھا کہ اتوار کی صبح تک ابتدائی معاہدہ قریب تھا۔ اسی دوران امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی پریس کانفرنس نے صورتحال کو تبدیل کر دیا، جس میں انہوں نے کسی معاہدے کے قریب ہونے کا ذکر نہیں کیا، ایران پر الزام عائد کیا اور اعلان کیا کہ امریکی وفد اسلام آباد سے واپس جا رہا ہے ۔ذرائع کے مطابق اس پریس کانفرنس پر ایرانی مذاکرات کار شدید ناراض ہوئے اور اسے مذاکراتی عمل کیلئے نقصان دہ قرار دیا۔ دوسری جانب ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی کم کرنے اور جوہری معاہدے کی طرف پیش رفت کیلئے خطے کے اہم ممالک ثالثی کی کوششیں تیز کر رہے ہیں۔

مصر کے وزیر خارجہ بدر عبدالعاطی اس ہفتے واشنگٹن کا دورہ کریں گے جہاں وہ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو اور دیگر اعلیٰ حکام سے ملاقات کریں گے ۔ادھر ترکی کے وزیر خارجہ حاقان فیدان اور انٹیلی جنس چیف ابراہیم قالن بھی مذاکرات میں فعال کردار ادا کر رہے ہیں تاکہ فریقین کے درمیان اختلافات کم کیے جا سکیں۔حاقان فیدان نے انادولو نیوز ایجنسی کو بتایا کہ ابتدائی مؤقف اکثر سخت ہوتے ہیں، لیکن بعد میں ثالثوں کی مدد سے مشترکہ راستہ نکالنے کی کوشش کی جاتی ہے ۔ ان کے مطابق دونوں فریقین جنگ بندی برقرار رکھنے میں سنجیدہ دکھائی دیتے ہیں اور ایران آئندہ دنوں میں امریکی تجاویز کا جواب دے گا۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ جنگ بندی کو 45 سے 60 دن تک بڑھانے پر غور کیا جا سکتا ہے تاکہ مذاکرات جاری رہ سکیں۔ تاہم ان کے مطابق اگر جوہری معاملہ، خصوصاً یورینیم افزودگی،سب یا کچھ نہیں کی صورت اختیار کر لیتا ہے تو یہ ایک بڑی رکاوٹ بن سکتا ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں