زرعی ٹیکس کا نوٹیفکیشن کا لعدم ، کوئی سرکاری افسر یہ اختیار استعمال نہیں کر سکتا : سپیکر پنجاب اسمبلی

  زرعی ٹیکس کا نوٹیفکیشن کا لعدم ، کوئی سرکاری افسر یہ اختیار استعمال نہیں کر سکتا : سپیکر پنجاب اسمبلی

ٹیکس لگانے کا اختیار صرف اسمبلی کے پاس ، ایسے نوٹیفکیشن سے استحقاق مجروح ہوا :ملک احمد کی اجلاس میں رولنگ،نئی شرحوں پر تمام ٹیکس کارروائیاں معطل کر نے کی ہدایت ڈپٹی سپیکر اور اپوزیشن رکن اعجاز شفیع میں تلخ جملوں کا تبادلہ ،وزیراعلیٰ کے حق میں قرارداد منظور ،2ایئر ایمبولینسز فعال، 254مریضوں کی منتقلی پرڈیڑھ ارب خرچ

لاہور(سیاسی نمائندہ،دنیا نیوز،مانیٹرنگ ڈیسک)پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں سپیکر ملک محمد احمد خان نے ایگزیکٹو آرڈر کے تحت زرعی ٹیکس کے نفاذ کا نوٹیفکیشن کالعدم قرار دیدیا،سپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان نے حکومتی رکن ذوالفقار علی شاہ کی تحریکِ استحقاق پر تحریری رولنگ جاری کرتے ہوئے واضح کیا کہ ٹیکس لگانے کا اختیار صرف اورصرف منتخب ایوان کے پاس ہوتا ہے ، پنجاب اسمبلی کایہ اختیار کوئی سرکاری افسر استعمال نہیں کر سکتا، سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو سمیت کوئی بھی ایگزیکٹو اتھارٹی کسی قسم کا ٹیکس نہیں لگا سکتی، ایسے نوٹیفکیشن سے پنجاب اسمبلی کا استحقاق مجروح ہوا ، زرعی ٹیکس کا جاری نوٹیفکیشن آئینی اصولوں کے منافی ہے۔

رولنگ کے مطابق زرعی آمدنی ٹیکس کی شرح میں کوئی بھی تبدیلی بجٹ کے وقت اسمبلی کے سامنے پیش کرنا قانونی طور پر لازمی ہے ،حکومت متعلقہ نوٹیفکیشنز کو مالی سال 2025-26کے بجٹ کے دوران پیش کرنے میں ناکام رہی، نئی شرحوں کے تحت کی جانے والی تمام وصولیاں اور اقدامات بلاجواز اور غیر قانونی ہیں ، نئی شرحوں پر تمام ٹیکس کارروائیاں معطل کی جاتی ہیں، قائمہ کمیٹی برائے قانون سازی لگائے گئے ٹیکسز کا جائزہ لے اور15دن میں اپنی رپورٹ پنجاب اسمبلی کے ایوان میں پیش کرے ۔سپیکر کی رولنگ پر ارکان پنجاب اسمبلی نے ڈیسک بجا کر ان کے اقدام کو سراہا اور اسے جمہوری اصولوں کی پاسداری قرار دیا ۔حکومتی رکن سمیع اللہ خان نے کہا کہ ایوان اس رولنگ کے ساتھ کھڑا ہے ، صرف اسمبلی ہی ٹیکس میں ردوبدل کر سکتی ہے۔

پنجاب اسمبلی کا اجلاس 51 منٹ کی تاخیر سے ڈپٹی سپیکر ظہیر اقبال چنڑ کی زیر صدارت شروع ہوا جس میں محکمہ ریسکیو 1122 سے متعلق سوالات کے جوابات پارلیمانی سیکرٹری ضیا اللہ شاہ نے دئیے ، اجلاس کے دوران ڈپٹی سپیکر نے وزراء اور پارلیمانی سیکرٹریز کی عدم موجودگی پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ساڑھے بارہ کروڑ عوام کے ایوان کو مذاق نہیں بنایا جا سکتا، آئندہ غیر حاضری پر سوالات منسوخ کئے جائیں گے اور شوکاز نوٹس جاری ہوں گے جبکہ ضرورت پڑنے پر سارجنٹ ایٹ آرمز کو غیر حاضر اراکین کو ایوان میں لانے کی ہدایت بھی دی جائے گی، اس کے بعد صوبائی وزیر معدنیات شیر علی گورچانی ایوان میں پہنچے جہاں انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ پنجاب کے وسائل عوام کی ملکیت،کسی صورت لوٹ مار یا بدعنوانی کی اجازت نہیں دی جائے گی ،اٹک میں سونے کی دریافت کے بعد اس کی آکشن سے حاصل آمدن عوامی فلاح پر خرچ کی جائے گی ، اسی دوران اپوزیشن رکن قاضی احمد اکبر نے محکمہ پر غلط ایف آئی آر کے الزامات عائد کرتے ہوئے ایوان سے احتجاجاً واک آؤٹ کیا ، دیگر اپوزیشن ارکان نے بھی بائیکاٹ کر دیا۔

اجلاس میں ڈپٹی سپیکر اور اپوزیشن رکن اعجاز شفیع میں تلخ جملوں کا تبادلہ بھی ہوا، اس دوران حکومتی رکن راجہ شوکت بھٹی کی جانب سے وزیراعلیٰ پنجاب کے فلاحی منصوبوں کے حق میں پیش قرارداد کثرت رائے سے منظور کر لی گئی ۔علاوہ ازیں ایوان میں پوسٹ بجٹ بحث پر مختلف ارکان نے تقاریر کیں تو وہیں صوبائی وزیر پارلیمانی امور میاں مجتبیٰ شجاع الرحمٰن نے پوسٹ بجٹ بحث کو سمیٹتے ہوئے کہا عوام کے لیے جو بن پڑا وہ کریں گے ۔دریں اثناء اجلاس میں پنجاب حکومت کی ایئر ایمبولینس سروس کے اخراجات، مریضوں کی منتقلی کا تفصیلی جواب جمع کرا دیا گیا ۔ رکن اسمبلی ندیم قریشی کے سوال پرمحکمہ ایمرجنسی سروسز کی جانب سے جواب میں بتایا کہ ایئر ایمبولینس منصوبہ انتہائی نگہداشت کے مریضوں کی منتقلی کیلئے بنایا گیا۔

اس وقت ریسکیو 1122 کے ماتحت ایئر ایمبولینس سروس کی 2 ایئر ایمبولینسز فعال ہیں، ایئر ایمبولینسز رینٹل ایگریمنٹ کے تحت حاصل کی گئی ہیں ، مالی سال 26-2025 میں ایئر ایمبولینس پر 1 ارب 50 لاکھ روپے خرچ کئے گئے ۔محکمہ ایمرجنسی سروسز نے جواب میں مزید بتایا کہ ایئر ایمبولینس سروس کیلئے 17 گریڈ کے 3 میڈیکل افسر تعینات ہیں،یکم جنوری 2024 سے اب تک 254 مریضوں کو منتقل کیا گیا جس پر ایک ارب 63 کروڑ روپے خرچ ہو ئے ہیں۔محکمہ نے بتایا کہ مالی سال 26-2025 میں اب تک 5 کروڑ 80 لاکھ روپے خرچ کئے جا چکے ہیں ۔ اجلاس کا ایجنڈا مکمل ہونے پر پینل آف چیئرپرسن راجہ شوکت بھٹی نے اجلاس آج صبح 11 بجے تک کیلئے ملتوی کر دیا۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں